۔2014 کے سیلاب سے تباہ ہونے والاپوٹھہ ۔کلر کٹل پل تعمیر نہ ہو سکا

 سرنکوٹ//سرنکوٹ کی پنچایت لور پوٹھ کے وارڈ نمبر چھ بیلہ میں پل کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے مون سون کا موسم شروع ہو تے ہی کئی علا قوں کی عوام کا رابطہ منقطع ہو تا جارہاہے جبکہ موسم صاف ہونے کی صورت میں مقامی لوگ پتھر ڈال کر دریا عبور کر نے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ 2014کے سیلا ب میں تباہ ہوئے پل کو دوبارہ سے تعمیر ہی نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق پل تباہ ہونے کی وجہ سے پوٹھ ،بیلہ ،کلر کٹل ودیگر علا قوں کا راستہ منقطع ہو گیا تھا لیکن مقامی و ضلع انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک مذکورہ پل کی مرمت نہیں کی گئی۔انہوں نے ضلع انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مذکورہ علا قوں کی عوام کیساتھ ساتھ طلباء گزشتہ پانچ برسوں سے مشکلات کا سامنا کرر ہے ہیں لیکن متعدد بار انتظامیہ سے رجوع کرنے کے باوجود بھی مقامی لوگوں کوسہولیات میسر نہیں کی گئی ہے ۔مقامی لوگوں نے ریاستی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ تعمیرو ترقی کے نام لاکھوںروپے خرچ کئے جاتے ہیں تاہم دیہی علاقوں کی عوام کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں کی جاتی ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ستم ظریفی یہ ہے کہ پانچ برس قبل سیلاب کی وجہ سے جس طرح سے کشمیر میں تباہی ہوئی تھی ویسے ہی خطہ پیر پنچال کے متعدد علا قے بھی متاثر ہو ئے تھے لیکن دیگر علا قوں میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کر دی گئیں تاہم سرنکوٹ کی عوام کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مون سون کا موسم شروع ہوتے ہی خطہ پیر پنچال میں کئی بار شدید بارشیں ہو چکی ہیں جبکہ مذکورہ دریا میں پل نہ ہونے کی وجہ سے سکولی بچوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں ودیگر لوگوں کو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر دریا عبور کرنا پڑرہاہے ۔مقامی لو گوں نے انتظامیہ و متعلقہ محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عام لوگوں کیساتھ ساتھ سکولی طلباء کو دریا عبور کرتے وقت اپنی جان جوکھم میں ڈالنا پڑتی ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کر تے ہوئے کہاکہ مذکورہ مقام پر جلداز جلد پل تعمیر کیا جائے تاکہ عام لوگوں کو درپیش مسائل حل ہو سکیں ۔