۔2014کے سیلاب میں تباہ ہو ا پل ابھی تک تعمیر نہ ہوسکا

 سرنکوٹ// پنچایت لور پوٹھ کے وارڈ نمبر چھ بیلہ میں محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے تعمیر کردہ پل 2014میں آئے سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سیپوٹھ ،بیلہ ،کلر کٹل ودیگر علا قوں کا راستہ منقطع ہو گیا تھا لیکن مقامی و ضلع انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک مذکورہ پل کی مرمت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سا منا کرنا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مذکورہ علا قوں کی عوام کیساتھ ساتھ طلباء گزشتہ پانچ برسوں سے مشکلات کا سامنا کرر ہے ہیں لیکن متعدد بار انتظامیہ سے رجوع کرنے کے باوجود بھی مقامی لوگوں کوسہولیات میسر نہیں کی گئی ہے ۔اس سلسلہ میں پوٹھ لوہر پنچایت کے سرپنچ شیخ محمد بشیر نے کہا کہ متعلقہ محکمہ نے جو 2014 کے سیلاب کے بعد غفلت شعاری کا مظاہرہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس پل کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے عام لوگوں کے علاوہ سکولی بچوں اور ملازمین کو مشکلات کا سا منا کرنا پڑرہا ہے ۔ اسی طرح زبید خان ،محمد رزاق ودیگران نے کہاکہ تعمیرو ترقی کے نام لاکھوںروپے خرچ کئے جاتے ہیں تاہم دیہی علاقوں کی عوام کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں کی جاتی ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ستم ظریفی یہ ہے کہ 2014 کے سیلاب کی وجہ سے جس طرح سے کشمیر میں تباہی ہوئی تھی ویسے ہی خطہ پیر پنچال کے متعدد علا قے بھی متاثر ہو ئے تھے لیکن دیگر علا قوں میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کر دی گئیں تاہم سرنکوٹ کی عوام کی جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔انہوں نے مقامی انتظامیہ و متعلقہ محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اگر دلچسپی ظاہر کی جاتی تو اس پل کی مرمت کی جاسکتی تھی لیکن انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو دقتوں کا سامناکرنا پڑرہاہے ۔مقامی لو گوں نے ضلع ترقیاتی کشمیر پونچھ اور ریاستی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہو ئے کہاکہ پنچایت لور پوٹھ کے وارڈ نمبر چھ بیلہ میں سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو ئے پل کی جلداز جلد مرمت کی جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔محکمہ تعمیر ات عامہ کے ایگز یکٹو انجینئر نے بتا یا کہ مذکورہ پل کی مرمت کیلئے تخمینہ لگا کر اعلیٰ احکام کو بھیج دیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں پل کی منظوری اور فنڈزی کی وگزاری عمل میں نہیں لائی گئی ،جیسے ہی فنڈز کی دستیابی عمل میں لائی جائے گی تو مرمت کا کام شروع کیا جائے گا ۔