۔2014کے سیلاب سے تباہی: نکی توی گوجر بستی کے متاثرین امداد سے محروم

جموں//گوجر بستی نکی بستی کے مکینوں کاکہناہے کہ 2014میں آئے تباہ کن سیلاب کے دوران ان کے مکانات اوراراضی بہہ گئی لیکن آج تک امداد نہیں دی گئی ۔ کشمیرعظمیٰ دفتر میں آئے ایک وفد نے بتایاکہ انہوںنے امداد کی خاطر ڈپٹی کمشنر سے لیکر سیکریٹریٹ تک ہر ایک دفتر کے چکر کاٹے لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔ وفد کے ارکان حاجی محمد یوسف ، گلزار احمد اور محمد امین نے بتایاکہ تباہی کے بعد ڈپٹی کمشنر و محکمہ مال کے افسران موقعہ پر آئے اور یہ پایاگیاکہ 89مکان دریا میں بہہ گئے ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ موقعہ پر ہی ہدایت دی گئی کہ نقصان کا تخمینہ لگایاجائے اور انتظامیہ متاثرین کو کرایہ کے کمرے کا پیسہ ادا کرے گی لیکن کچھ نہ ملا ۔ انہوںنے بتایاکہ بعد میں ڈپٹی کمشنر نے ایک خط ڈیویژنل کمشنر کو لکھالیکن اس میں یہ عذر پیش کیاگیاکہ یہ مکانات سرکاری رقبہ میں بغیر اجازت کے تعمیر ہوئے تھے اور مارچ 2015سے لیکر 2017تک متاثرین کی فائلوں کے کاغذات ریلیف کمشنر کے دفتر میں چلتے رہے جس کے بعد ریلیف کمشنر نے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کو لکھا اور لوگ خود بھی وزیر اعلیٰ سے ملے اوران سے امداد کی اپیل کی جس پر وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کی طرف سے ڈیویژنل کمشنر جموں کو تحریری طور پر لکھاگیا جنہوںنے آگے ڈپٹی کمشنر جموں کو لکھا تاہم ابھی تک انہوںنے اس چٹھی کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ انہوںنے کہاکہ سرینگر اورجموںکے گوجر نگر علاقے میں سرکاری اراضی پر مکان بنانے والوں کو معاوضہ دیاگیاہے لیکن صرف انہی کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈپٹی کمشنر نے صرف نکی توی گوجر بستی کے لوگوںکو ہی نظرانداز کیاہے جبکہ باقی ہر جگہ امداد بانٹی گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ نقصان نکی توی میں ہی ہواتھا جہاں 83پختہ اور 6کچے مکانات طوفانی سیلاب کی نذر ہوگئے جن کے ساتھ گھروں میں رکھاہواسامان بھی بہہ گیا ۔ انہوںنے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں ذاتی مداخلت کرکے ان کو امداد فراہم کرائیں اور ڈپٹی کمشنر جموںکو فوری ہدایات جاری کی جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ وہ بے یارو مددگا ر و بے سہارابنے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ انصاف کیاجائے ۔