۔2014سیلاب میں تباہ ہونیوالا پل تاحال نہ بن سکا

سرنکوٹ// پوٹھ بیلہ کا رابطہ پل 2014 کے سیلاب میں بہہ جانے کے بعد سے تشنہ تعمیر ہے جس کی وجہ سے وسیع آبادی کا رابطہ مسلسل منقطع ہے اور انہیں پیدل نالہ عبور کرنا پڑرہا ہے۔پنچایت لور پوٹھ کے وارڈ نمبر چھ بیلہ میں محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے کچھ سال قبل ایک لوہے کا چھوٹا پل بنایا گیا تھاجو2014سیلاب کی نذر ہوگیا جس کی وجہ سے کلرکٹل بیلہ اور دیگر لوگوں کا راستہ منقطع ہو گیا۔ پوٹھ لور پنچایت کے لوگوں نے کہا کہ اس پل کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے عام لوگوں کے علاوہ سکولی طلباء کو بڑی مشکل کاسامنارہتا ہے اور کئی بار یہاں سے سکولی بچے گرے بھی ہیں ۔انھوں نے کہا مذکورہ پل مرمت نہ ہونے کی وجہ سے آرپار کے لوگ پریشان ہیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ عارضی لکڑی کا پل حادثات کی وجہ بن سکتا ہے کیونکہ وہ بالکل پانی کی سطح کے قریب ہے۔ انہوںنے کہا کہ2014سیلاب سے جو سرکاری املاک تباہ ہوچکی تھیں،اُنہیں وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت دوبارہ بحال کیاگیا ہے اور پلوں ،عمارات و سڑکوں کے علاوہ سبھی متاثرہ ڈھانچہ دوبارہ تعمیر کیاگیا تاہم یہ پل محکمہ تعمیرات عامہ کی عدم توجہی آج تک نہیں بن پارہا ہے۔ اس ضمن میں جب متعلقہ محکمہ کے مقامی حکام سے بات کی گئی تو ان کا کہناتھا کہ اس سلسلے میں منصوبہ بھیجا گیاہے تاہم منظوری کب ملے گی ،کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔مقامی لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمیشنر پونچھ اورلیفٹنٹ گورنر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پوٹھ میں پل کی جلداز جلد  مرمت کرکے اس کو قابل آمدورفت بنایا جائے۔