۔2 سال میں جموں و کشمیر میں 104 سیکورٹی اہلکار ہلاک، 223 زخمی: وزارتِ داخلہ

 
 
سری نگر//پارلیمنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران مرکزی وزارتِ داخلہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 2 سالوں میں عسکریت پسندی سے متعلق واقعات میں کل 104 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 223 زخمی ہوئے۔
 
وزیرِ مملکت برائے وزارتِ داخلہ نتیا نند رائے نے لوک سبھا میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر نشی کانت دوبے کے ایک تحریری سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ جانکاری دی۔
 
رائے نے کہا کہ 2020 میں جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کے تشدد میں 62 اہلکار ہلاک اور 106 دیگر زخمی ہوئے، جن میں دراندازی کے دوران انکاو¿نٹر بھی شامل تھے۔
 
انہوں نے کہا کہ 2021 میں کل 42 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 117 زخمی ہوئے۔
 
گزشتہ دو سالوں میں سے ہر ایک کے دوران ہندوستان میں دراندازی کے واقعات کے بارے میں ممبر پارلیمنٹ کے سوال کے جواب میں رائے نے کہا کہ سرحد پار سے ایسی کوششیں بنیادی طور پر جموں اور کشمیر میں ہوتی ہیں۔
 
رائے نے کہا کہ 2020 میں دراندازی کی 99 کوششیں کی گئیں اور 19 عسکریت پسند مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال دراندازی کی 77 کوششیں کی گئیں اور 12 درانداز مارے گئے۔