۔2مرتبہ ٹول ٹیکس لینا بلا جواز، کارڈیلروں کا احتجاج

 سرینگر// کشمیر ٹریڈ الائنس اور کار ڈیلروں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کے نام پر دوہرے ٹیکس کو نادر شاہی حکم سے تعبیر کرتے ہوئے ، گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلئے 6ماہ کا وقت نیز پولیس کو فوری طور پر گاڑیاں ضبط نہ کرنے کے احکامات صادر کئے جائیں۔بیرون ریاستوںسے خریدی گئی گاڑیوں پر9فیصد دوہرا ٹوکن ٹیکس ادا کر کے رجسٹریشن کرنے کے سرکاری احکامات کیخلاف کارڈیلروں اور کشمیر ٹریڈ الائنس نے بدھ کو احتجاج کرتے ہوئے مذکورہ ٹیکس کوبرائے نام رکھنے کیساتھ ساتھ رجسٹریشن کی معیاد کو6ماہ تک بڑھانے کامطالبہ کیا۔ کشمیر ٹریڈ الائنس نے ٹول ٹیکس طلب کئے جانے پرحیرانگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ دلی اوردیگرشہروں میں جن شہریوں سے یہ گاڑیاں خریدی گئی ہیں ، گاڑیاں خریدتے وقت ہی کل قیمت کا9فیصدبطورتاحیات ٹول ٹیکس اداکیا گیاہے ۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ ایک ہی گاڑی کیلئے دومرتبہ ٹول ٹیکس کیسے وصول کیاجاسکتا ہے؟ ۔ ٹریڈرس نے کہاکہ آرٹی اوکشمیر کاجاری کردہ حکمنامہ ڈیلروں اورگاڑیوں کے موجودہ مالکان کیساتھ سراسر زیادتی وناانصافی ہے۔ پریس کالونی میں ٹریڈرس نے ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر کشمیر کے حکمنامے کوبلاجواز اورغیرمنصفانہ قرار دیا۔احتجاجی کارڈیلروں کاکہناتھاکہ ہم بیرون ریاستوںسے خریدی گئی گاڑیوںکی رجسٹریشن کراتے رہے ہیں اورآگے بھی ایسا ہی ہوگالیکن ہم 9فیصد ٹول ٹیکس ادانہیں کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ آرٹی اوکشمیر کی جانب سے حکمنامہ جاری ہونے کے بعدپولیس نے بیرون ریاستوں سے خریدی گئی گاڑیوں کوضبط کرنے کی مہم چھیڑ رکھی ہے ۔کارڈیلروں نے سوال کیاکہ ایک ہی گاڑی کیلئے دومرتبہ ٹول ٹیکس کیسے لیاجاسکتا ہے ۔کشمیر ٹریڈ الائنس صدرنے کہا ہے کہ آرٹی اوکشمیر نے ایک غیرضروری آرڈر جاری کرکے نہ صرف ہزاروں لوگوں کومشکل میں ڈالدیاہے بلکہ کارڈیلربھی سخت پریشان ہورہے ہیں کیونکہ جن شہریوں نے کارڈیلروں سے ایسی گاڑیاں خریدی ہیں ،اب وہ ایسی گاڑیاں واپس لینے پرزوردے رہے ہیں ۔اعجاز احمدشہدار کاکہناتھاکہ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کسی بھی طرح کی گاڑی کی رجسٹریشن کم سے کم 6ماہ کے اندراندر کرانالازمی ہوتا ہے ۔انہوں نے بتایاکہ چھ ماہ اسی لئے رکھے گئے ہیں تاکہ پرانی یااستعمال شدہ گاڑیاں خریدنے والے اصل مالک سے کاغذات اورمتعلقہ شہرسے NOCحاصل کرکے لوازمات کومکمل کرسکیں ۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ برائے نام ٹیکس کیساتھ بیرون ریاستوں وشہروں سے خریدی گئی گاڑیوں کی رجسٹریشن مکمل کرنے کیلئے 6ماہ تک کاوقت دیاجائے تاکہ سبھی متعلقین ایسی گاڑیوں سے متعلق تمام کاغذات بشمول این ائوسی بغیرکسی پریشانی کے حاصل کرسکیں ۔ کشمیرٹریڈ الائنس کی جانب سے سبھی کارڈیلروں کی ایک اہم میٹنگ طلب کی جارہی ہے جس میں آرٹی اوکشمیر کے غیرمنصفانہ آرڈر کولیکر آئندہ کالائحہ عمل طے کیاجائے گا۔