۔2روزہ ہڑتال کے بعدوادی میں معمولات بحال

سرینگر//  ریاست میںجی ایس ٹی اطلاق کے خلاف تاجروں اور صنعت کاروں کی طرف سے دی گئی2روزہ ہڑتال کے بعد صورتحال معمول پر آگئی جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہوگئی۔اسمبلی میں اشیاء و خدمات ٹیکس  کے نفاد پر بحث کے بیچ کشمیر اکنامک الائنس کے دونوں دھڑوں کے علاوہ سیول سوسائٹی اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ فینو فیکچرس فیڈریشن کی طرف سے 2روز تک ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔جس کے پیش نظر وادی کے جنوب و شمال میں کاروباریاں سرگرمیاں ماند پر گئیں۔ جمعرات کو سرینگر سمیت وادی کے دوسرے علاقوں میں 2روز کے بعد زندگی معمول پر آگئی۔ دکانیں،تجاری مرکز اور بازار بھی کھل گئے اور ان میں چہل پہل بھی دیکھنے کو ملی۔سرینگر کے کئی بازاروں میں2دن کے بعد بازاروں میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں جبکہ خریدو و فروخت بھی عروج پر تھی۔ سرینگر کے پائین علاقے میں کئی روز تک بندشوں اور ہڑتال کے بعد بازار کھل گئے اور لوگوں کی بڑی تعداد مصروف و معروف ترین بازاروں میں خرید و فروخت کرتے نظر آئے۔وادی کے دیگر علاقوں میں بھی بازاروں کا یہی حال دیکھنے کو ملا،جس کے پیش نظر ما بعد ہڑتال ان بازاروں میں خریداروں کی بھیڑ نظر آئی۔مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے آئندہ دنوں کے احتجاجی پروگرام اور ممکنہ طور پر بندشوں و غیر اعلانیہ کرفیو کے پیش نظر بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد خرید و فروخت میں نظر آئی۔ ہڑتال کے دوران اگر چہ ٹرانسپورٹ کی جزوی طور پر نقل و حمل جاری تھی تاہم جمعرات کو سڑکوں پر گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئی اور کئی سڑکوں پر ٹریفک جام کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔