۔1996جیسا چلینج درپیش ،قبول کرنے کیلئے تیار ہوں:ڈاکٹر فاروق

 جموں//نیشنل کانفرنس صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج کہا کہ ہندوستان کبھی بھی جموں کشمیر پاکستان کو نہیں دیگا اور نہ ہی موخر الذکر میں اسے لینے کی ہمت ہے ۔پارٹی ہیڈ کوارٹر پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’میں واضح کر دوں کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین سرحدیں جوںکی توں بنی رہیں گی، پاکستانی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے۔ مذاکرات کی میز پر آکر ہندوستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کرحل کرلیں تاکہ ان کے ملک میں بھی دائمی امن قائم ہو سکے‘۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے قول کہ آپ دوست بدل سکتے ہو پڑوسی نہیں ، کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ہند پاک مذاکرات سے ہی جموں کشمیر میں امن قائم کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان جو ابھی بھی جموں کشمیر میں عسکریت پسندی کو ہوا دے رہا ہے ، سعودی عرب، قطر اور عرب امارات میں کشکول لے کر قرض مانگنے پر مجبور ہے ، انہیں ہندوستان کے ساتھ تعلقات سدھارنے چاہئیں تا کہ دونوں ممالک امن چین سے رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب جموں کشمیر کے لوگ چائے پینے کیلئے سیالکوٹ جاتے تھے تو پاکستان کے لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کیلئے اِس طرف آجاتے تھے، دونوں ممالک کی قیادت کو وہی دور واپس لانے کیلئے تگ و دو کرنا چاہئے اور اگر پاکستان اپنی سر زمین کا استعمال عسکری سرگرمیوں کیلئے نہ ہونے دے تو یہ سب ممکن ہو سکتا ہے ۔ڈاکٹر عبداللہ نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار پرملک، بالخصوص جموں کشمیر کو مذہب کے نام پر بانٹنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ بی جے پی لیڈر سمجھتے ہیں کہ رام صرف ان کا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ رام ساری دنیا کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے پر کمر بستہ ہے لیکن جموں کشمیر کے لوگ ان کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور آپسی اتفاق و اتحاد قائم رکھیں گے۔ ’’بی جے پی لیڈر کہتے ہیں کہ وہ جموں اور لداخ کو کشمیر سے الگ کردیں گے، دہلی میں ان کی حکومت تھی ، وہ ایسا کر سکتے ہیں، میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں وہ کب اور کیسے ایسا کریں گے۔ پانچ برس قبل انہوں نے کشمیری پنڈتوں سے کشمیر میں دوبارہ بسانے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک اس سلسلہ میں بھی کچھ نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی 3فروری کو ریاست کے دورہ پر آ رہے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہتاہوں کہ وہ کشمیر پنڈتوں کو کشمیر میں بسانے کا وعدہ کب پورا کریں گے‘‘۔

کشمیر کو تاج سمجھیں پائوں نہیں 

ریاستی عوام کو داخلی و خارجی خطرات سے نپٹنے کیلئے متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ریاست اس وقت ایک نازک دور سے گذر رہی ، کچھ عناصر کی جانب سے جموں کشمیر میں بد امنی پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہیں۔ ’ہم ہندوستان کا تاج ہیں، پائوں نہیں ، لیکن ہمارے ساتھ مناسب سلوک نہیں کیا جا رہا ، ہمیں وہ احترام ملنا چاہئے جو ایک تاج کا ہوتا ہے ۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ان عناصر کیخلاف متحد ہو جائیں جو ہمیں مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ 
کوٹا سیاست اعلیٰ ذاتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش 
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عام انتخابات سے چند ماہ قبل مودی سرکار نے اعلیٰ ذاتوں کیلئے ریزرویشن کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک یہ بات مبہم ہے کہ اس سے کس کو فائدہ ملے گا۔ اعلیٰ ذاتوں میں بھی کئی طبقے ہیں، یہ واضح نہیں ہے کہ کس طبقہ کو کتنا فائزہ ملے گا ، مرکزی سرکار نے ریزرویشن کارڈ کھیل کر اعلیٰ ذات کے ووٹروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔

قانون سازیہ میں خواتین کو 33فیصدر یزرویشن

نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر انہیں واضح اکثریت ملی تو وہ ریاستی قانون سازیہ میں اوڈیشہ کی طرز پر خواتین کے لئے 33فیصد نشستیں مختص کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرد کبھی نہیں چاہیں گے کہ خواتین کو 33فیصد ریزرویشن ملے لیکن نیشنل کانفرنس بر سر اقتدار آنے پر یہ کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے ڈاکٹروں کی 300اسامیاں پیدا کر کے میڈیکل کالجوں میں خواتین کو 50فیصد ریزرویشن دی تھی، اس کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ کی گئی تھی لیکن عدالت عظمیٰ نے تمام اعتراضات کو خارج کرتے ہوئے ہمارے فیصلہ کو بحال رکھا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 1996میں حکومت بنانے کے بعد این سی نے 1,50,000 نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا تھا۔

۔1996میں جموں کشمیر جل رہا تھا

نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا کہ جب 1996میں انہوں نے عنان حکومت سنبھالی تو جموں کشمیر جل رہا تھا، سکول تھے نہ پُل، سرکاری دفاتر میں کام کاج ٹھپ ہو گیا تھا کیوں کہ لوگ گھرسے باہر نکلنے میں خوف محسوس کرتے تھے، بیروزگاری عروج پر تھی۔ میری پارٹی کے لیڈر بھی قصبوں اور شہروں سے باہر نکلنے میں گھبراتے تھے لیکن میں نے انہیں حوصلہ دیااور انتظامیہ کو پٹری پر لایاکیوں کہ میں ریاست کو تباہی کی دلدل سے باہر نکالنا چاہتا تھا۔ آج بھی حالات کم و بیش ویسے ہی ہیں اور میں ایک بار پھر یہ چیلنج قبول کرنے کیلئے تیار ہوں ۔