۔1993کے حریت آئین پر سب جمع ہوں

سرینگر// ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے تحریک حریت کے چیئر مین محمد اشرف صحرائی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں اُنہوں نے حریت پسندوں کے مابین وسیع اور منظم اتحاد کو 1993کے کل جماعتی حریت کانفرنس کے آئین کی بحالی کے ساتھ منسوب کیا ہے۔ فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد عبد اللہ طاری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کے محبوس سربراہ شبر احمد شاہ نے بار بار حریت کانفرنس کے1993کے آئین کی بحالی کی وکالت کی ہے اور اسی کو اتحاد کی بنیاد قرار دیدیا ہے۔ مولانا طاری نے جملہ حریت پسندوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ شبیر احمد شاہ نے جب کچھ عرصہ قبل حریت کانفرنس کے ایک دھڑے میں شمولیت اختیار کی تو اُس وقت بھی اُنہوں نے اپنی یہی شرط دہرائی کہ وہ 1993کے آئین کی بحالی اور اُسی کی پیروی کیلئے ایسا کرتے ہیں۔ اُس وقت شبیر احمد شاہ کو یقین دلایا گیا تھا کہ حریت کانفرنس کے1993کے آئین کی بحالی کی کوششیں تیز تر کی جائیں گی۔ فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد عبد اللہ طاری نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کا یہی مؤقف اول روز سے رہا ہے کہ اتحاد ہی ہماری منزل کو آسان بناسکتی ہے اور اسی کی بنیاد پر ہم مزاحمت کو مؤثر انداز میں آگے بڑھاسکتے ہیں لیکن اس کیلئے یہی شرط ہے کہ بیچ کے راستے چھوڑ کر کل جماعتی حریت کانفرنس کے1993کے آئین پر مجتمع ہوکر یکسوئی کا مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے محمد اشرف صحرائی کے بیان کو شبیر احمد شاہ کے مؤقف کی تائید بتاتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حریت پسندوں کے مابین جامع اور منظم اتحاد کی ضرورت پہلے بھی تھی اور آج بھی اس کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے۔حریت کانفرنس کے 1993کے آئین پر سبھی حریت پسند متفق ہیں لیکن بعد ازاں کچھ مسائل کی وجہ سے معاملہ اُلٹا ہوگیا لیکن اب بھی وقت ہے کہ شبیر احمد شاہ کے دیرینہ موٌقف ، یعنی کل جماعتی حریت کانفرنس کی شکل میں تمام تنظیموں کے اتحاد کو قائم کیا جائے تاکہ قومی مفاد کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکے۔ فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ صرف اسی ایک اتحاد سے پوری قوم کے اندر اتحاد کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے یکسوئی اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منظم اور متحد اقوام نے ہمیشہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔