۔1984کے سکھ مخالف فسادات پر یوم سیاہ

 
جموں //1984میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ملک بھر، بالخصوص جموں صوبہ کے ریاسی، تلواڑہ، جیوتی پورم ، سیر منجلہ تحصیل رام نگر ضلع ادہم پور میں سکھوں کے قتل عام کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے سکھ طبقہ نے متعدد تنظیموں کے مشترکہ بینر تلے احتجاج کیا۔ اس سلسلہ میں گوردوارہ گورو نانک دیوجی چاند کور سے ایک ریلی بھی نکالی گئی ۔معاملہ کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کروائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مقررین نے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی۔سکھ سنگت کے لیڈران نے مرکزی حکومت کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مذکورہ واقعہ کو ہو ئے 34برس کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ان متاثر ین کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔ان لیڈران کے مطابق مذکورہ واقعہ میں پورے ملک میں مجموعی طورپر 5ہزار سے زائد سکھوں کا قتل عام کیا گیا تھا لیکن ابھی تک ان متاثرین کے لواحقین کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔ 1984اور 1989کے فسادات کے معاملات کی از سر نو تحقیقات کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے ریاسی اور رام نگر سیر منجلہ میں سکھوں کے قتل عام میں ملوث افراد کی نشاندہی کئے جانے کی مانگ کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جموں وکشمیر سکھ سنگت کے صدر پرویندر سنگھ نے کہاکہ 1984کا واقعہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دھبہ ہے ۔انہوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ واقعہ میں ریاست میں متاثر ہو ئے سکھوں کے تمام معاملات پر دوبارہ سے غور کیا جائے تاکہ مرنے والوں کے لواحقین کو انصاف دیا جاسکے ۔مظاہرین میں پرویندر سنگھ ،جسرات خان ،رنجیت سنگھ ،چوہدری حنیف ،مولانا شاہ محمد ،انیل کمار ،مولانا محمد اجمل ،سکھ دیو سنگھ ،تجیندر سنگھ ،تیجندر پال سنگھ ،مہندر سنگھ ،کلویندر سنگھ ،سکھبیر سنگھ ،گگن دیپ سنگھ ،رنبیر سنگھ ،جگجیت سنگھ ودیگران بھی شامل تھے ۔