۔19نکات پر مشتمل یادداشت ایل جی کو پیش | مطالبات کو مرکز کے ساتھ اٹھانے کی امید : الطاف بخاری

سرینگر//اپنی پارٹی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد صدر الطاف بخاری کی سربراہی میں لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو سے راج بھون سرینگر میں ملاقی ہواجس کے دوران مرکزی زیر انتظام جموںوکشمیر  کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقعہ پر الطاف بخاری نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر کا درجہ گھٹا کر اس کو یونین ٹیریٹری کا درجہ دینے سے لوگ خوش نہیں ہیں جوکہ اس قدم کو وفاق کے اصول کی سراسر خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔الطاف بخاری نے کہاکہ ’ہم درج ذیل تفصیلی یادداشت پیش کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ آپ اُن مطالبات کو آگے اُجاگر کریں گے جوکہ کلی طور پر مرکزی ِ حکومت کے حد اختیار میں ہیں۔ 

۔1۔ریاستی درجہ کی بحالی

سابقہ شاہی ریاست کے باشندگان کے لئے اسٹیٹ ہڈ وہ چیز ہے جس کووہ حقیقی طور پر اپنے شاندار ماضی کے حوالہ سے منسلک کرتے ہیں ، ایک ایسی جگہ جو مختلف مذاہب ، ثقافتوں ، زبانوں اور خطوں کا ایک مرکزرہا ہے۔ اس سلسلے میں جلد اعلان سے اس خطے میں کثرتیت اور احترام بقائے باہمی کے نظریے کو مزید تقویت ملے گی۔یہ انتہائی ضروری ہے کہ جموں و کشمیر میں ریاست کی بحالی کو بقائے باہمی کے جذبے کو برقرار رکھنے اور ملک کے اس حصے میں تکثیریت کے امتزاج کو قائم ودائم رکھاجائے اورریاست کے درجہ کے ساتھ ساتھ قانون ساز کونسل کو بھی بحال کیاجائے اور سماجی ومعاشی طور پسماندہ طبقہ جات، فن وتمدن، زبانوں، ادب، کھیل کود کی بنیاد پر اِس میں نشستیں مختص کی جائیں۔

۔2۔زمین اور نوکریوں پر اقامتی حقوق

5 اگست  2019 کو لئے گئے آئینی اور قانونی فیصلوں کو جموں و کشمیر کی اکثریت اپنی سرزمین سے متعلق حقوق پر شب خون تصور کرتی ہے۔ ہماری پارٹی جموں وکشمیر کی عوام کے لئے زمین اور نوکریوں پر ڈومیسائل حقوق کا پرزور مطالبہ کرتی رہی ہے ۔جموں وکشمیر کے شہریوں کو نوکریوں کے حقوق سے متعلق جاری حالیہ ڈومیسائل حکم نامہ مرکزی حکومت کے عارضی رویہ کا عکاس ہے۔ حکومت کے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ میں پاس کردہ قانون کی بجائے جموں وکشمیر کے شہریوں کے لئے ڈومیسائل قواعد سے متعلق ایک آرڈر جاری کرنا اور نیا گزیٹ نوٹیفکیشن کسی عدالتی جائزے سے مستثنیٰ نہیں ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر کے رہائشی جن کے پاس پہلے سے ہی ایک مستقل رہائشی سند ہے ، اُن سے زمین اور غیر منقولہ جائیداد پر حقوق حاصل کرنے یا کسی سرکاری ملازمت میں درخواست دینے کے لئے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ طلب نہ کی جائے۔ 

۔3۔قیدیوں کی رہائی

اگر چہ یہ قدم قابل ستائش ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ لیڈران کو رہاکر دیاگیا ہے اور اُن پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ بھی ہٹادیا گیا ہے لیکن ابھی بھی سینکڑوں سیاسی کارکنان جنہیں 5اگست 2019کے آس پاس حراست میں لیاگیاتھا، ہنوزجیلوں میں مقید ہیں اور اُن کے معاملات پر کوئی نظرثانی نہیں کی گئی ، ان کی نظر بندی کا جائزہ لیکر انہیں رہاکیاجائے۔ اگر پی ایس اے کے تحت زیر حراست افراد کے معاملات کا ہمدردانہ طریقہ سے جائزہ لیکر اُن کی رہائی یقینی بنائی جائے تو یہ اعتماد سازی کابہت بڑا قدم ہوگا۔ 

۔4۔نوجوانوں کیخلاف دائر کیسوں کی واپسی

سینکڑوںنوجوان جن میں زیادہ ترنو عمر ہیں، وادی کشمیر میں مختلف مقدمات کے تحت نظربند ہیں اور وہ اب بھی قانونی معاملات میں پھنس چکے ہیں جو مین اسٹریم میں اُن کی واپسی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مسئلہ پر حکومت کی فوری توجہ درکار ہے ۔ہماری گذارش ہے کہ ایسے نوجوانوں کے خلاف ہمدردی کی بنیاد پر مقدمات کو واپس لیا جائے ۔

۔5۔جموں وکشمیر بینک کی خود مختیار فعالیت 

جموں وکشمیر بینک عوام کے معاشی مفادات کے اعتماد اور بھروسے کا مرکز ہے جس کے مالی معاملات پر اختیار کے ساتھ ساتھ اِس کے کام کاج پرغیر ضروری طور پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے۔غیر یقینی صورتحال کی فضا نے اس کے صارفین کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور شیئر مارکیٹ میں اس کی پوزیشن کمزور پڑگئی ہے جو جموں و کشمیر کی اقتصادی صحت کیلئے اچھا نہیں ۔جے کے بینک کی فعال خودمختاری کو بحال کرنے کے لئے کچھ ٹھوس ، بامعنی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔جموں و کشمیر حکومت کو بینک کے کام کاج میں انٹی کرپشن بیورو کی غیر ضروری مداخلت کو دور کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر اس مقبول ترین مالیاتی ادارے کی ساکھ بُری طرح متاثر ہوگی۔ 

۔6۔زرعی اور باغبانی شعبوں کا احیائے نو

اگرچہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے وقتاًفوقتاً زراعت اور باغبانی شعبوں کی ترقی کے لئے کئی پیکیجز کا اعلان کیا ہے لیکن موثرعملی میکانزیم کی عدم موجودگی سے کاشتکار وں اور کسانوں تک امداد نہیں پہنچ رہی۔جموںو کشمیر ایک زرعی ریاست ہے جس میں زراعت وباغبانی کیلئے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس میں فصل انشورینس اسکیمیں اور کم از کم امدادی قیمت کی فراہمی شامل ہو۔اس کے لئے مرکزی حکومت کو محکمہ زراعت وباغبانی کے توسط سے براہ راست باغبانوں اور کسانوں کے ساتھ رابطہ کر کے ایک شفاف عمل کو متعارف کروانا ہوگا ۔

۔7۔ صنعت وحرفت شعبے کو امداد

جموں و کشمیر صنعتی پالیسی 2016  میں اگرچہ بہت خامیاں تھیں لیکن پھر بھی یونٹ ہولڈرز کو درپیش جغرافیائی اور معاشی حدود کو دیکھتے ہوئے مائیکرو ، چھوٹے ، درمیانے اور بڑے سمیت مقامی صنعتی یونٹوں کو کچھ تحفظ اور مراعات حاصل تھیں۔حکومت نے مسابقتی کارکردگی کو حاصل کرنے کے لئے جوقیمت مقرر کی ہے ،اُس کا اطلاق جموں و کشمیر یونٹ ہولڈرز پر نہیں کیا جاسکتا جو ملک کے باقی حصوں میں اپنے ہم منصبوں سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ مراعات میں توسیع دینے میں حکومت کو جموں و کشمیر یونٹ ہولڈرز کو ترجیح دینی چاہئے بصورت دیگر مقامی یونٹ ہولڈروں کے پاس جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں میں اپنے یونٹس بند کرنے پڑیں گے جس سے لاکھوں ہنرمند اور غیر ہنر مند نوجوانوں کو بے روزگار ہونا پڑے گا۔ موجودہ یونٹوں کو سی جی ایس ٹی اور ایس جی ایس ٹی کی واپسی کے ساتھ ساتھ موجودہ پالیسی کے مطابق کاروباری افراد ٹرانسپورٹ سبسڈی بھی دی جانی چاہئے۔ 

۔8۔اہم معاشی شعبہ جات پر پڑے لا ک ڈاؤن اثر کا ازالہ

وقت کی ضرورت ہے اُن تمام اہم معاشی شعبہ جات کے اسٹیک ہولڈرز کو راحت فراہم کی جائے جنہوں نے کسی قسم کا قرضہ نہیں لیا ہے۔جموں و کشمیر کی معیشت پہلے ہی متعدد عوامل خاص طور سے امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے مندی کا شکار رہی ہے۔ یہ مایوس کن معاشی منظرنامہ 5 اگست ، 2019 کے بعد سے ابتر ہوگیا ۔اب اسے کویڈ19وبائی مرض کی وجہ سے صنعتوں ، سیاحت ، زراعت ، باغبانی ، دستکاری ، نقل و حمل ، ہوٹل کی صنعت اور دیگر تمام شعبوں میں زبردست پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مرکزی وزارت خزانہ کو جموں و کشمیر کے کاروباری برادری کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنا چاہئے اور اس پرآشوب خطے میں کاروباری سرگرمیوں کو بحالی اوراگست 2019 سے لاک ڈاون دور مدت کے ازالہ کے لئے علیحدہ سے پیکیج پر غورکیاجانا چاہئے۔

۔9۔ سیاحت اور ملحقہ سیکٹر کا احیائے نو

سیاحت اور اس سے جڑے شعبہ جات بشمول ہوٹل، دستکاری، ٹور آپریٹرز، ہاؤس بوٹ مالکان، شکاراوالے یوٹی کی معیشت میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اگست 2019سے مارچ2020تک سود معاف کئے جانے کی ضرورت ہے، دو سال تک قسطوں کی ادائیگی کو بھی منجمد کیاجانا چاہئے۔ قرضہ ادائیگی کی مدت میں توسیع کر کے اس سے دس برس کیاجائے۔ سرمایہ کاری کے لئے آسان شرحوں پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایاجانا چاہئے۔

۔10۔انٹرنیٹ کی بحالی

مرکزی زیر انتظام جموں وکشمیر کے تمام خطوں میں 4 جی انٹرنیٹ رابطے کی بحالی کو اولین ترجیح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فور جی پر عائد پابندی کو تقریباً ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔ موبائل انٹرنیٹ پر بلا جواز پابندی سے جموں و کشمیر میں لوگوں خصوصا طلباء اور تاجر برادری کو بے حد تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہاہے اور حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی ۔

۔11۔ قومی شاہراہ اور اندرونی روابط کی بحالی

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ٹریفک کو منظم کرنے اور جاری توسیع کام میں سرعت لائے جانے کی انتہائی ضرورت ہے۔ سڑکوں کے بند رہنے کی وجہ سے لوگوں کو طبی سہولیات کے حصول میں بھی مشکلات درپیش ہیں، خاص طور سے ادھمپور تابانہال تک شاہراہ کی خستہ حالی باعث پریشانی ہے۔ چونکہ جموں اور سرینگر کے درمیان رابطہ کا واحد ذریعہ یہ شاہراہ ہے۔ اس شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم طور بحال رکھنے کے لئے جامعی پالیسی متعارف کروائے جانے کی ضرورت ہے۔اسی طرح مغل روڈ کو ایک متبادل شاہراہ کے طور پر قائم کئے جانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ٹنل کی تعمیر ناگزیر ہے تاکہ یہ سڑک بارہ ماہ قابل آمدورفت بنی رہے۔ کرناہ سے رابطہ کو بہتر بنائے جانے کی ضرورت ہے اس کے لئے مجوزہ سادھنا ٹاپ ٹنل کی تعمیر ضروری ہے۔ اسی طرح پیر کی  گلی ٹنل کو بھی منظور کر کے کپواڑہ تا کیرن رابطہ سال بھر کھلا رکھنے کو یقینی بنایاجائے۔ ٹنل کی تعمیر سے کپواڑہ اور کیرن کے درمیان 60کلومیٹر مسافت کم ہوگی اور یہ مسافت محض3.5کلومیٹر رہ جائے گی جس سے چار گھنٹوں کا سفر چند منٹو میں طے ہوگا۔بانڈی پورہ گریز شاہراہ کو سال بھر کھلا رکھنے کیلئے بھی ٹنل تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کشتواڑ اننت ناگ روڈ پر سنتھن ٹاپ کے مقام پر ٹنل کی تعمیر کا کام فوری طور شروع کیاجائے۔

۔12۔جیالوجی اور کان کنی سرگرمیوں پر مقامی افراد کے حقوق کا تحفظ 

گذشتہ ایک سال سے جموں و کشمیر میں کان کنی کی سرگرمیاں ٹھپ ہیں جس وجہ سے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور اِس کاروبار سے وابستہ لاکھوں کنبہ جات پریشان حال ہیں۔ کان کنی اور خام مال اُٹھانے کی سرگرمیوں پر روک لگانے سے نہ صرف چھوٹے اور درمیانے درجے کے خام مال کے پروسیسنگ یونٹ بند ہیں بلکہ لاکھوں مقامی کنبہ جات روزگار سے محروم ہوگئے ہیں جس سے تعمیراتی سامان کی قیمتیں بھی آسمان چھو رہی ہیں۔ چونکہ مقامی وسائل پر پہلا حق جموں و کشمیر کے مقامی باشندوں کا ہے ، لہٰذا حکومت کو چھوٹے معدنی وسائل پر مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے طریقہ کار وضع کرنا چاہئے۔ 
13۔تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی
5اگست 2019سے ترقیاتی سرگرمیوں پر جمود طاری ہوگیا ہے، ان کو پوری یونین ٹیرٹری مین فوری طور بحال کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح ترقیاتی ڈھانچے کا قیام عمل میں لایاجائے تاکہ یہاں کے لوگ ان سے استفادہ حاصل کرسکیں۔

۔14۔بینکروں کی تعمیر

کرناہ، اوڑی اور پونچھ میں فائرنگ کی زد میں آنے والے لوگوں کے لئے پختہ بینکروں کی تعمیر حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ لگاتار فائرنگ کی وجہ سے یہ سرحدی علاقہ جات کافی حساس ہیں جس کے نتیجہ میں آئے روز جانی ومالی نقصان ہوتا ہے۔ اگر چہ اعلیٰ سطح پر فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن زمینی سطح پر اِس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا۔ المیہ یہ ہے کہ بینکروں کی تعمیر کا حساس معاملہ بھی خامیوں سے پاک نہیں ہے 
15۔ پہاڑی قبیلہ کی ریزرویشن میں آمدنی شق کو ہٹایاجائے
طویل جدوجہد کے بعد حکومت نے پہاڑی بولنے والے طبقہ کو ملازمتوں میں چار فیصد ریزرویشن دی ۔ طبقہ کے طور تسلیم کئے جانے پر طبقہ نے ریاست بھر میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور جشن منایاتاہم حال ہی میں جاری کردہ نوٹیفکیشن جس میں اس طبقہ کوریزرویشن کے لئے انکم سلیب طے کی گئی ہے ، جس سے بنیادی مقصد ہی فوت ہوجاتاہے اور یہ نوٹیفکیشن زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔لہٰذا حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے پہاڑی بولنے والی طبقہ جات کو ریزرویشن سے متعلق فوائد حاصل کرنے کے لئے انکم سلیب سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لینا چاہئے۔

۔16۔ سیاسی کارکنان کے سیکورٹی معاملات

اس سنگین مسئلے کو چھ ماہ کے وقفے کے بعد بھی حل کیاجاناباقی ہے۔ بانڈی پورہ میں حالیہ وحشیانہ اور بیہمانہ ہلاکتوں کے بعد بلالحاظ سبھی سیاسی کارکنوں چاہئے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں، عدم تحفظ کا شکار ہیں، کو سیکورٹی فراہم کی جائے۔ 

۔17۔ ڈیلی ویجرز ور دیگر کم تنخواہ دار ملازمین کی ریگولر آئزیشن 

ہزاروں نیڈ بیسڈ ، کیجول لیبرز، ڈیلی ویجرز ورکرز، این وائی سی ، ایچ ڈی ایف کارکنان ، کنسالیڈیٹیڈ ، ہنگامی طور پر تنخواہ لینے والے ملازمین ، آئی ٹی آئی اور ہنر مند کارکنان ، دو دہائیوں سے مختلف محکموں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ اور ایڈہاک تقرریوں کو اب بھی اپنی ملازمتوں کی مستقلی کا انتظارہے۔ حکومت کو اس معاملہ پر وضاحت پیش کرنی چاہئے کہ اِس نے آخر مستقلی سے متعلق کیا موقف اختیار کیا ہے۔ 

۔18۔ایس آر او202کو ہٹایاجائے

اپنی پارٹی مرکزی وزیر داخلہ اور جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو مبارک باد پیش کرتی ہے اور سراہنا کرتی ہے کہ نئے بھرتی قواعد میں ایس آر او202کی شق کو کالعدم قرار دیاگیا لیکن ملازمین کا یہ مطالبہ ہے کہ مذکورہ ایس آر او کے بھرتی ہوئے تھے اور لگاتا ر پانچ سال سے کام کر رہے ہیں، کوہوئے نقصان کا ازالہ کیاجائے۔ نئے بھرتی عمل میں پروبیشن مدت پانچ سے گھٹا کر دو سال کرنا کافی نہیں، حکومت کو اُن ملازمین کے ساتھ بھی انصاف کرنا چاہئے جوکالعدم قرار دیئے گئے ایس آر اوکے تحت 2015سے وقتاًفوقتاً بھرتی ہوئے ہیں۔اسی طرح ایس آر او 202 کی ترمیم شدہ کے پیش نظر حکومت کی جانب سے آسامیوں کو واپس لینے اور پھر سے ایڈورٹائزمنٹ نکالنے سے ان لاکھوں امیدواروں میں انتشار اور مایوسی پیدا ہوگئی ہے جونوکری پانے کی عمر کی پار کر چکے ہیں۔حکومت کو ایس آر او 202 کی مکمل منسوخی کے مطالبہ کو ماننا چاہئے کیونکہ اس ایس آر او کی سخت دفعات جموں و کشمیر کے ملازمین اور بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مفاد کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔

۔19۔سرینگر میں اعلیحدہ کیٹ بنچ قائم کیاجائے

حکومتِ ہند کو سرینگر میںعلیحدہ سے سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل(کیٹ)بنچ قائم کرنا چاہئے تاکہ لاکھوں ملازمین کے ساتھ انصاف ہوجوکہ انصاف کی حصولی کے لئے جموں میں آکر اپنی ملازمتوں سے متعلق مقدمات کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ حکومت اور حکومت کے ماتحت اداروں کے خلاف سروس معاملات اور بھرتی شرائط سے متعلق تنازعات کے موثر اور فوری تصفیہ کے لئے سرینگر میں الگ سے بنچ کا قیام ضروری ہے۔