۔18سال بعدمرکزی حکومت کا ایک بار پھر رمضان سیز فائر، فوجی آپریشن بند کرنے کامشروط اعلان

نئی دہلی //مرکزی حکومت نے 18سال بعد ایک بار بھر وادی میں قیام امن کی سمت میں ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے ماہ رمضان کے دوران فوجی آپریشن مشروط طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کارروائی کا حق حاصل ہوگا ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ  2000میں بھی اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھی فائر بندی کا اعلان کیا تھا جو تین مہینے تک جاری رہی تھی۔اس غیرمعمولی فیصلے کا اعلان بدھ کو سہ پہر کے وقت مرکزی وزارت داخلہ کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر کیا گیا۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس بارے میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھی آگاہ کیا۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 9 مئی کو سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں بلائی گئی کُل جماعتی اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد کہا تھا کہ ماہ رمضان اور سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر مرکزی سرکار سے وادی کشمیر میں یکطرفہ فائر بندی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگجو مخالف آپریشنوں سے عام لوگوں کو تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اُس وقت ریاست میں بی جے پی لیڈروں نے اس تجویز کی نکتہ چینی کی تھی لیکن بدھ کو مرکز نے اچانک سیکورٹی فورسز کو اس طرح کی ہدایت دے کر ریاست میں صورت حال کو معمول پر لانے کی سمت میں بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ پرامن مسلمان بھائی اور بہن پرسکون ماحول میں رمضان المبارک کے مہینے میں عبادت کرسکیں۔ حکومت کو امید ہے کہ سبھی اس پہل میں تعاون کریں گے جس سے کہ مسلمان کسی پریشانی کے بغیر پرامن طریقے سے رمضان منا سکیں ۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ بلاوجہ دہشت گردی اور تشدد پھیلا کر اسلام کو بدنام کرنے والے عناصر کو الگ تھلگ کرنا ضروری ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ’ رمضان صحیح معنی میں عبادت، پاکیزگی اور امن کا مہینہ ہے ۔ اسلام کو بدنام کرنے والے رجحانات کو الگ تھلگ کرنا سب کی مشترکہ کوشش ہونی چاہیے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ رمضان کے دوران سماج کے تمام طبقات بالخصوص پرامن مسلم سماج کو کسی پریشانی اور دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام پرامن افراد مل کر دہشت گردوں کو الگ تھلگ کریں اور تشدد کی راہ پر گمراہ لوگوں کو امن کے راستے پر چلنے کے لئے مہمیز کریں‘ ۔وزارت داخلہ کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر تین سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا گیا ’مرکزی سرکار نے سیکورٹی فورسز سے کہا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران جموں وکشمیر میں آپریشنز نہ چلائیں۔ یہ فیصلہ اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ (کشمیری) مسلمان رمضان المبارک کے روزے ایک پرامن ماحول میں رکھ سکیں۔ ٹویٹ میں کہا گیا ’حملے یا اگر معصوم لوگوں کی جانوں کو بچانا مقصود ہو تو سیکورٹی فورسز جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سرکار کو توقع ہے کہ ہر ایک اس پہل میں اپنا تعاون کرے گا تاکہ مسلمان بھائی اور بہنیں رمضان کے روزے بغیر کسی تکلیف کے رکھ سکیں‘۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام کے نام پر بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کے مرتکب ہونے والی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا ’ایسی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے جو بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کا مرتکب ہوکر اسلام کا نام بدنام کرتی ہیں‘۔