۔17؍ اکتوبر1817ء

جنگ آذادی برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے جس نے اسلامی علوم وفنون اور مسلم تہذیب وشناخت اور ملی تشخص کو زخ ہی نہیں پہنچایا بلکہ تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ۔ اس کے بعد برصغیر میں مسلمان نہ صرف اخلاقی طور سے پست ہوتے گئے بلکہ دوسروں کے رحم وکرم پر زندگی گزارنے کے علاوہ ان کے ذہنی وفکری طور سے غلام بن کے رہ گئے۔ نیز مسلمانوں کی تخلیقی سوچ اور اجتہادی بصیرت بھی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا اور مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ کوئی ملی قیادت نہ تھی ، کوئی سیاسی رہنماء نظر نہیں آرہا تھا ، کوئی تعلیم مفکر امت کی اصلاح کا کام نہیں کر رہا تھا۔کوئی مصلح نظر نہیں آرہا تھا جس کی سربراہی میں اُمت نہ صرف محفوظ بلکہ مضبوط بھی محسوس کرتے اور اقتصادی طور پر بھی مسلمانان برصغیر نہایت مفلوج ہو چکی تھی ۔غرض کہ تمام جہات سے وہ پسماندگی کے دلدل میںپہنچ چکے تھے۔ ان حالات میںدو عبقری شخصیتیں سامنے آئیں :ایک مولانا محمد قاسم ناناتویؒ اور دوسرے سر سید احمد خانؒ(۱۷  اکتوبر ۱۸۱۷ء۲۷ مارچ ۱۸۹۸ء )۔ دونوں نے اپنے اپنے انداز سے مسلمانوں کو زبوںحالی اور مایوسی کی دلدل سے نکلنے کے لیے کوشیش کیں ۔مولانا محمد قاسمؒ ۱۸۳۳ء۔ ۱۸۸۰ء ) مسلمانوں کے مسائل کا حل دین کی طرف رجوع کرنے میں سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ دینی مدارس کھلی جائیں جن میں دینی تعلیم تربیت کو اہمیت دی جائے ۔ انہوں نے برطانیہ کے ماہر تعلیم لارڈ مکالیے(lord Thomas Macualay ( کو منہ توڑ جواب دیا کہ ’’ہم ایسے افراد تیار کرنا چاہتے ہین جو رنگ ونسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں مگر ذہن وفکر کے لحاظ سے اسلامی ہوں‘‘ ۔دوسری بڑی شخصیت سر سید احمد خان ہیں جو ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے ۔ انھوں نے تہذیب ، تمدن ، مذہب ، سیاست ، اقتصادیت ، معاشرت ،اصلاحی معاشرہ اور سب سے بڑھ کر تعلیم تربیت پر قابل ذکر کام کیا ہے ۔ تعلیم کو انھوں نے اپنی فکر و عمل کا مرکز و محور بنایا اور مسلمانوں کو مایوسی اور ذلت سے نجات دلانے کے لیے تعلیم کو نسخہ شفاء قرار دیا ۔انھوں نے اس بات کی بھرپور کوشش کی تھی کہ مسلمانوں کو نہ صرف تعلیم کی اہمیت کا احساس ہو بلکہ ہمہ گیر اور مربوط نظام تعلیم کا انتظام بھی ہوجائے۔ وہ تعلیم کو ملک وملت کی تعمیر و ترقی کا واحد ذریعہ سمجھتے تھے ، اسی لیے اس کو سب سے ذیادہ فوقیت دیتے تھے ۔جب انھوں نے نے ۲ دسمبر ۱۸۸۶ ء میں ’’محمڈن ایجوکیشنل کانگرس ‘‘ قائم کی تو اس کا پہلا رزیزولیشن پاس کرتے ہوئے کہا کہ : ’’جن لوگوں کا خیا ل ہے کہ سیاسی امور پر بحث کرنے سے ہماری قومی ترقی ہوگی ، میں ان سے اتفاق نہیں کرتا ۔ بلکہ تعلیم کی ترقی کو اور سرف تعلیم کو ذریعہ قومی ترقی سمجھتا ہوں ‘‘ سرسید کی بات کافی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ آج مسلم دینی اداروں ، تنظیموں اور تحریکوں نے تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے منصوبوں میں شامل نہیں کیا ہے ۔ قوموں کی شخصیت اور زوال میں تعلیم اہم کردار ادا کرتا ہے جو قوم تعلیم کو جتنی زیادہ اہمیت دیتا ہے اتنا ہی وہ ترقی کے منازل طے کرتا ہے۔ تعلیم کا وسیع مفہوم اور اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ہمیشہ سے تعلیم کا یہ مقصد رہا ہے کہ انسان میں ایک ملکہ اور اس کی عقل و ذہن میں ایک جدت پیدا ہو تاکہ جو امور پیش آئیںان کے سمجھنے کی ، برائی بھلائی جاننے کی اور عجائب قدرت الٰہی پر غور و فکر کرنے کی اسے طاقت ہو ۔ اس کے اخلاق درست ہوں معاشی معاملات کو نہایت صلاحیت سے انجام دے اور امور معاد پر غور کرے‘‘                        
سرسیداحمد خانؒ نے جدید اور دینی تعلیم دونوں طرز پر تربیت کرنے پربھی زور دیا اور ان کو اس بات پر یقین محکم تھا کہ جدید تعلیم ہی سے ذہنوں میں انقلاب پیدا ہوگا ۔ سرسید احمد کو اسلامی تاریخ پر عمیق نظر تھی کہ جب گزشتہ صدیوں میں اسلامی نظام تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مسلمانوں نے زیتونیہ ، قاہرہ ، بغداد ، مدینہ ، استنبول وغیرہ میں بڑے بڑے مدارس کھولے تھے۔ ان مدارس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم مثلا ریاضی، طب ،،فلسفہ ، اکنامکس ،علم کیمیا ، فن تعمیر وغیرہ علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔یہ اس دور میں ہوتا تھا جب یورپ جہالت (Dark Ages)کی اندھیاروں میں بھٹک رہا تھا ۔اس دور میں مدارس اسلامیہ دینی و دنیوی علوم شد و مد کے ساتھ پھیلا رہے تھے۔ سر سید احمد خان قرون اولیٰ ہی کے طرز پر مدرسہ کھولنا چاہتے ہیں جس میں مختلف علم وفنون کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے بھی طلباء کو آراستہ کیا جاسکے۔
   سرسید احمد خانؒ علم اورتعلیم کا بہت وسیع تصور رکھتے تھے۔ انھوں نے ایسے نظام تعلیم پر زور دیا جو مسلمانوں کی دینی و نیوی ترقی کا ضامن ہو۔ وہ جدید و قدیم تعلیم کے امتزاج کے قائل تھے اور دینی اور دنیوی علوم کی تفریق کے شدید مخالف تھے ،انھوں نے اپنے تعلیمی ادارے میں دینی اور دنیوی دونوں قسم کے علوم کو اہمیت دی ۔چناںچہ وہ لکھتے ہیں ’’ہم کو گزشتہ حال پر نظر کر کے ایسا طریقہ متعین کرنا چائیے جس سے علوم دینی و دنیوی دونوں قسم کی تعلیم کا اعلیٰ درجہ تک ہم کو قابو ملے ۔ ‘‘(مقالات سرسید : ص:۳۱۰)۔انھوں نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے  مزید کہا ہے کہ ’’ پس مسلمانوں پر واجب ہے کہ تعصب کو چھوڑیں اور بعد تحقیقات و مباحثہ کے سلسلہ تعلیم مسلمانوں کا ایسا قائم کریں جو ان کے دین و دنیا کے لیے مفید ہو ۔‘‘انھوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ـ فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا نیچرل سائنس ہمارے بائیں ہاتھ میں اور کلمہ لاالٰہ الا اللہ کا تاج ہمارے سر پر‘‘۔اسی نوعیت کی بات انھوں نے دسمبر ۱۹۸۸ء میں پنجاب کے مسلم طلبہ سے دردمندانہ انداز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ :اے میرے عزیزو!یہ میری آرزو ہے کہ میں اپنے قوم کے بچوں کو آسمان کے تاروں سے اونچا اور سورج کی طرح چمکتا ہوا دیکھوں ۔ ان کی روشنی اس نیلے نیلے گنبد کے اندر ایسے پھلے کہ سورج چند اور ستارے سبھی اس کے آگے ماند ہوجائیں ۔ پس میں چاہتا ہون کہ میرے تمام بچے جو کالجوں میں پڑھتے ہیں اور جن کے لیے میری آرزو ہے کہ وہ یورپ کے سائنس اور لٹریچر میں کامل ہوں اور تمام دنیا میںاعلیٰ شمار کئے جائیں ، ان دو الفاظ: لاالٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ( صلعم ) کو نہ بھولیں ‘‘ لیکن عملی طور سے وہ دینی اور دنیوی نظام تعلیم میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ علاوہ ازیںانھوں نے مغربی نظام تعلیم پر حد سے زیادہ زور دیا تھا، جس کے نتیجہ میں اسلامیات محدود دائرے میں مقید ہو کر رہ گیا ۔ 
سرسید احمد خان بامقصد نظام تعلیم کے خواہاں تھے ۔ چند کتابوں کو پڑھ لینا ، سیکھنے سکھانے کے عمل اورڈگریاں حصول کرنے کے حق میں بالکل بھی نہیں تھے ۔ اس تعلق سے ان کا مطمح نظر بہت بلند تھا ۔ وہ علم اور تعلیم کو دنیوی ضرورتوں پورا کرنے کے ساتھ ساتھ روحانی پیاس بجھانے پر بھی زور دیتے تھے ۔ علم و تعلیم روحانی سوتوں کو سیراب نہ کرے تو وہ با لکل بے کار ہے ان کی یہ بات کافی اہمیت کی حامل ہے کہ ’’تمام خرابیوں کی جڑ جو ہم پر نازل ہیں ، یہ ہے کہ ہم نے اپنے دل کو اور اپنے اندرونی قوی کو بالکل خراب کر دیا ہے ۔ علم جو حاصل کرتے ہیں وہ بھی بعوض اس کے کہ روحانی قوی کو شگفتہ و شاداب کرے ان کو پژمردہ بلکہ مردہ کر دیتا ہے اور ہماری حالت تمام معاملات میں کیا دین کے اور کیا دنیا کے خراب ہوتی چلی جاتی ہے ۔ پس ہم کو اپنے اوپر رحم کرنا چائیے اور ایسی تعلیم کو اختیار کرنا چائیے جو اندرونی قوی کو شگفتہ و شاداب کرے ۔ ‘‘ وہ علم وتعلم کو آخرت کی فلاح و کامرانی کے ساتھ جوڑتے ہیں اور طلبہ کو دین سے تعلق استوار کرنے پر ابھارتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’یاد رکھو! اسلام جس پر تم کو جینا ہے اور جس پر تم کو مرنا ہے ، کو قائم رکھنے ہی سے ہماری قوم ، قوم ہے ۔ اے عزیز بچو !اگر کوئی آسمان کا تارا ہوجائے مگر مسلمان نہ رہے تو ہم کو کیا ۔ وہ تو ہماری قوم ہی نہ رہا پس اسلام کو قائم رکھ کر ترقی کرنا قومی بہبود ہے ‘‘ 
سرسید احمد خان نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی اچھا خاصا زور دیا ہے ۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اچھی تعلیم صرف چند درسی کتابیںپڑھ لینے اور طوطے کی طرح رٹنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے تربیت نہایت ضروری ہے ۔ انھوں نے اس بات کا بر ملا اظہار کیا تھا کہ کتابیں پڑھ لینے سے انسانیت نہیںآجاتی بلکہ یہ کتابی علم انسان پر بوجھ ہوتا ہے ۔تعلیم و تربیت آپس میں لازم ملزوم ہے تعلیم کے ساتھ اگر عمدہ تربیت نہ ہو تو تعلیم ہر گز بھی سود مند ثابت نہیں ہوسکتی ۔ تربیت کے بغیر نہ ہی ایک فردکی شخصیت کی تعمیر ہوسکتی ہے اور نہ ہی صحت مند سماج کو تشکیل دیا جاسکتا ۔سر سید احمد خان اس تعلیم کو ناقص قرار دیتے ہیں جو تربیت کے پہلو سے خالی ہو ۔ تربیت ہی ایک انسان کو درست سمت پر رکھ سکتا ہے۔ انسان جس چیز کا علم حاصل کر رہا ہو، ضروری ہے وہ اس کی عملی تربیت سے بھی لیس ہو۔ انسان اگرصرف تعلیم یافتہ ہو لیکن تربیت جیسی نعمت سے محروم ہو تو وہ سماج کے لیے سم ِقاتل ہوسکتا ہے ۔اسی لیے سرسید احمد خان نے تعلیم اور تربیت کو ایک اکائی کی حیثیت سے پیش کیا ۔ انھوں نے ایک موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’صرف تعلیم سے ہمارا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ۔ کیا  صرف تعلیم سے انسان انسان بن جاتا ہے ؟کیا صرف تعلیم سے قوم قوم بن جاتی ہے ؟ کیا صرف تعلیم سے قوم دنیا کی قوموں میں عزت پاسکتی ہے؟ہر گز نہیں بلکہ جب تک وہ انسان نہ بنیںاور قوم قوم نہ بنے اس وقت تک معزز نہیں ہوسکتی ۔ پس ہم کو مسلمانوں کے لیے وہ چیز کرنی ہے کہ جس کو ہم تربیت کہتے ہیں ‘‘ انھوں نے تربیت نہ ہونے کے نتائج سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ’’حسب احتیاج وقت لوگوں کی تربیت نہ ہو تو اس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ لوگ مفلس پھر محتاج اور پھر نالائق اور پھر ذلیل و خوار اور چورو بدماش ہوتے ہیں‘‘۔
دوسروں کے نظام تعلیم سے استفادہ کرنا تو ٹھیک بات ہے لیکن ان کے تعلیمی نظریات کو من و عن رائج کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے اور اگر ایسا کیا جائے تو یہ المیہ سے کم نہیں ہے۔ اس تعلق سے سر سید احمدخانؒ کا کہنا ہے کہ کوئی قوم جس کو اپنے بچوں اور قوم کی تعلیم کی خواہش ہو جب تک وہ تعلیم کو اپنے ہاتھ میں نہ لے اس وقت تک اس کا دنیا میں فخر کے ساتھ جینا محال ہے ۔
یہ بات واضح رہے کہ سرسیدؒ نے بعض دینی عقائد و احکام کی ایسی تعبیر و تشریح کی جو جمہور علماء سے متصادم ہیں،جس کی وجہ سے بعض دینی حلقوں نے ان کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا ۔مزید برآںیہ کہ اس بات میں کوئی رتی بھر شک نہیں کہ برصغیر میں مسلم تجددپسندی کے تمام سوتے سر سید احمد کی فکر سے پھوٹتے ہیں لیکن ان کی تعلیمی اور دیگر خدمات کی بنا پر مسلمانان برصغیر ان کے احسان مند رہے گی ۔دور حاضر میں ان کے تعلیمی نظریات سے استفادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے بلکہ ہمیں سر سید جیسے مسلمانوں کے بہی خواہ اور خیر اندیش لاکھوں سر سیدوں کی فوری ضرورت ہے جو بائیں ہاتھ میں جدید علوم اور دائیں ہاتھ میں الکتاب ( قرآن کریم) رکھ کر اسلام کا علمی وروحانی احیاء نو کریں اور اسلام کے جلال وجمال سے روئے زمین کو روشناس کریں ۔ یہ چراغ ِآرزو لے کر سرسید میدان ِ عمل میں کود پڑے تھے۔ 
9045105059
