۔15 برس قبل سوئیہ ٹینگ کے 12ویں جماعت کے طالب علم کا قتل

سرینگر// سرینگر کے سویہ ٹینگ لسجن میں 15 برس قبل 12 ویں جماعت کے طالب علم کے قتل میں ریاستی محکمہ داخلہ اور پولیس کی طرف سے فوج کو قصور وار ٹھہرانے کے باوجود وزارت دفاع آسام ریجمنٹ سے وابستہ افسر سمیت 9 اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کو منظوری نہیں دے رہی ہے۔ سوئیہ ٹینگ علاقے میں 15 برس قبل مبینہ طور پر فوج کی حراست کے دوران جان بحق نوجوان جاوید احمد ماگرے کی برسی پر مقامی مسجد میں ایک دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا،جس کے دوران مذکورہ طالب علم کو نمناک آنکھوں سے یاد کیا گیااور مہلوک11ویں جماعت کے طالب علم کے حق میں فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ جاوید احمد ماگرے کے والد غلانبی کا کہنا ہے’’ہم11برسوں سے وزارت دفاع کی جانب سے جاوید کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی منظور دینے کا انتظار کر رہے ہیں،مگر فوج کو حاصل خصوصی اختیارات’’افسپا‘‘ کے چلتے میرے لخت جگر کے قتل میں ملوث اہلکار آزاد گھوم رہے ہیں‘‘۔انہوںنے بتایا کہ ریاست کے محکمہ داخلہ نے وزارت دفاع کے نام جو مکتوب روانہ کیا اس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ جاوید احمد ماگرے کو بے قصور ہلاک کیا گیا جبکہ انکا جنگجوئوں کے ساتھ کوئی بھی واسطہ نہیں تھا۔ ریاستی محکمہ داخلہ نے ایک مکتوب زیر نمبر Home/25/2007 محرر 16جولائی2007 کو جوائنٹ سیکریٹری وزارت  دفاع کو ارسال کیا۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جاوید احمد ماگرئے ولد غلام نبی ماگرے کو آسام ریجمنٹ سے وابستہ اہلکاروں نے اغوا کیا اور بعد میں ہلاک کیا گیا۔ مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ یکم مئی2003 کو غلام نبی ماگرے والد محمد اسماعیل ماگرئے ساکنہ سویہ ٹینگ نے پولیس تھانہ نوگام میں ایک تحریری شکایت درج کی،جس  میں کہا گیا کہ30 اپریل اور یکم مئی کی درمیانی شب کو12ویں جماعت کا طالب علم اپنے کمرے میں سو رہا تھااور صبح  اس کو کمرے میں نہیں پایا گیا۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اس کو(غلام نبی ماگرے‘) کو صبح ایک فوجی لیفٹنٹ کے ذریعے اس بات کا پتہ چلا کہ اس کا بیٹا پولیس تھانہ نوگام میں ہے اور جب وہ تھانہ پہنچا تو انہیں اس بات کی خبر ملی کہ اس کے بیٹے کو نازک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ شکایت کندہ نے اس بات کا الزام عائد کیا کہ اس کے بیٹے کو19اسام ریجمنٹ نے گھر سے اغوا کیا تھا اور بعد میں فرضی جھڑپ کے دوران ہلاک کیا ۔ مکتوب میں کہا گیا کہ اس شکایت پر پولیس تھانہ نوگام میں کیس درج کیا گیا اور تحقیقات شروع کی گئی۔ مکتوب میں مزید تحریر کیا گیا کہ اس سلسلے میںمجسٹریل تحقیقات بھی کی گئی۔اور تحقیقات کے دوران آسام ریجمنٹ کے ایک افسر کو طلب کیا گیا جس  نے کہا کہ جاوید احمد جھڑپ کے دوران زخمی ہوا۔ریاستی محکمہ داخلہ نے جو خط وزارت دفاع کو روانہ کیا اس میں ان سے کہا گیا کہ نوگام پولیس تھانے میں اس سلسلے میں درج ایک ایف آئی آر زیر نمبر64/2003 میں اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی منظوری دی جائے۔مکتوب میں کہا گیا جن گواہوں کے بیانات اس سلسلے میں قلمبند کئے گئے ہیں،وہ کسی بھی جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا۔ریاستی محکمہ داخلہ نے مزید کہا کہ مجسٹریل تحقیقات کے دوران یہ پایا گیا کہ مذکورہ طالب علم ایک معصوم نوجوان تھا،جس کو آسام ریجمنت کے اہلکاروں نے ہلاک کیا۔ اس کیس کی تحقیقات مکمل کر کے آسام ریجمنٹ کے اہلکاروں کے خلاف چالان بھی پیش کیا گیا۔ اس چالان میں صوبیدار سریندر سنہا، پلاٹون کمانڈر حوالدار ہمنتا بردولی،حوالدار نبھا سنہا،نائک ایل رومیش سنگھ، سپاہی ایس یو بور بھیا،سپاہی زاکر حسین،سپاہی اشوک چوہدری، سپاہی ڈیوڈ اور سپاہی بیجوائے سنہا شامل تھے۔جاوید احمد کی والدہ امینہ بیگم کا بھی کہنا ہے کہ میں اس دن کا انتظار کر رہی ہوں جب میرے لخت جگر کے قتل میں ملوث اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے گی۔