۔14 جاں بحق، مہلوکین 804 | جموں کشمیر میںنیا ریکارڈ قائم، 1316مثبت، متاثرین کی مجموعی تعداد 43ہزار کے پار

 سرینگر //جموں و کشمیر میں مزید 14افراد کورونا وائرس سے فوت ہوگئے۔ مہلوکین کی تعداد مہلوکین کی تعداد 800 کا ہندسہ پار کرکے 804ہوگئی۔ ان میں سے 98جموں جبکہ کشمیر کے 706 متاثرین شامل ہیں۔ اتوار کو 100 سفرکرنے والوں سمیت ایک دن میں ریکارڈ 1316افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 43ہزار کا ہندسہ پار کرکے 43557تک پہنچ گئی جن میں سے 11818جموں جبکہ 31739کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ تازہ 1316متاثرین میں سے 668 جموں جبکہ 648کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے۔جموں صوبے کے 668 میں سے 451جموں، 42راجوری، 31 کٹھوعہ، 17ادھمپور، 28سانبہ، 10رام بن، 36ڈوڈہ، 26پونچھ، 8ریاسی اور 19کشتواڑ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے 648متاثرین میں سے 185سرینگر، 59بارہمولہ، 49 پلوامہ، 61اننت ناگ، 32بانڈی پورہ، 93کپوارہ، 11کولگام، 7 شوپیان اور 82گاندربل سے تعلق رکھتے ہیں۔  

مزید 14اموات

  اتوار کو جموں و کشمیر میں مزید 14افراد کورونا وائرس سے فوت ہوگئے۔ متوفین میں سے 7کشمیر جبکہ 7جموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر میں فوت ہونے والے 7افراد میں سے 4سرینگر، ایک  پلوامہ، ایک بڈگام اور ایک کولگام سے تعلق رکھتا ہے۔ سرینگر میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ سرینگر شہر میں فوت ہونے والے 4متاثرین میں نہرو پارک کا 60سالہ شخص، حول کا 55سالہ شخص،  چھتہ بل کا 38سالہ اور عمر کالونی لال بازار کا رہنے والا 50سالہ شخص کورونا وائرس سے فوت ہوگیا ‘‘۔ پلوامہ میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا’’ بارسو اونتی پورہ کا رہنے والا 65سالہ شخص کورونا وائرس سے صدر اسپتال سرینگر میں فوت ہوگیا ‘‘۔کولگام میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ سنگران سے تعلق رکھنے والی 62سالہ خاتون کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا کی وجہ سے فوت ہوگئی‘‘۔ بڈگام میں تعینات محکمہ سحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ گنجی پورہ بیروہ سے تعلق رکھنے والی ایک65سالہ خاتون  کورونا وائر سے پیدا ہونے والے نمونیا سے فوت ہوگئی۔جموں صوبے میں کورونا وائرس سے 7افراد فوت ہوگئے جن میں سے 4جموں،  ایک راجوری، ایک کٹھوعہ اور ایک سانبہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جی ایم سی جموں میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ جموں میں فوت ہونے والے 4افراد میں سے برنائی سے تعلق رکھنے والی 7ماہ کی بچی کو 3ستمبر کو ایس ایم جی ایس جموں میں داخل کیا گیا لیکن  رپورٹ مثبت آنے کے بعد وہ فوت ہوگئی۔ ‘‘ سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ شکتی نگر جموںسے تعلق رکھنے والی 78سالہ خاتون اور گجر نگر جموں سے تعلق رکھنے والا 73سالہ شخص اتوار کو دو پہر 12بجکر 20منٹ پر فوت ہوگیا ‘‘۔ جموں میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ راجوری سے تعلق رکھنے والی ایک 65سالہ شخص  جی ایم سی جموں میں فوت ہوگیا ‘‘۔سینئر افسر نے بتایا کہ اس کے علاوہ سانبہ اور کٹھوعہ میں بھی ایک ایک شخص کورونا وائرس سے فوت ہوگیا ۔

 حکومتی بیان

حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے43,557معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے10,446سرگرم معاملات ہیں ۔ اَب تک32,327اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد784تک پہنچ گئی ،جن میں سے 686کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور98کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس اتوار کومزید.403شفایاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے87اور کشمیر صوبے کے 316اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 1074998ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  06؍ستمبر2020ء کی شام تک 1031441نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اَب تک477902افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں41386اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔10446فراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ48789اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق376497اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔
 
 
 
 

 ملک میںہر روز نیا ریکارڈ90ہزار سے زیادہ نئے کیسز

یو این آئی

نئی دہلی// ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس ،کووڈ19 کے کیسز میں ریکارڈ پر ریکارڈ بناتے ہوئے اضافے کے درمیان اب تک ایک ہی دن میں 90 ہزار سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں ، جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41.13 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے ۔اسی مدت کے دوران ملک میں 73 ہزار سے زائد مریضوں کی شفایابی سے ایکٹیوکیسز 20.96 فیصد پر آگئے ۔مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے اتوار کے روز جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متاثرہ افراد کی تعداد90,632 سے بڑھ کرمجموعی تعداد 41 لاکھ،13 ہزار،811 ہوگئی ہے ،اسی مدت کے دوران 73،422 مریض شفایاب ہوئے ہیں جس سے کورونا سے نجات حاصل کرنے والوں کی مجموعی تعداد 31 لاکھ،80 ہزار،865 ہوچکی ہے ۔ صحت مند لوگوں کی بہ نسبت انفیکشن کے نئے کیسز15 ہزار،925 کے اضافہ سے یہ 8 لاکھ،62 ہزار،320 ہو گیا ہے ۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس سے 1065 اموات سے مجموعی تعداد 70،626 ہوگئی ۔ ملک میں ایکٹیو کیسز کی شرح 20.96 فیصد ، شفایابی کی شرح 77.32 فیصد اور اموات کی شرح 1.72 فیصد ہے ۔ملک میں جان لیوا کورونا وائرس سے شدید طور سے متاثرریاست مہاراشٹر ہے جہاں فعال کیسز کی تعداد 9687 سے بڑھ کر 2 لاکھ،21 ہزار،012 اور 312 اموات کے ساتھ ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 26 ہزار،276 ہوگئی ہے ۔ اسی مدت کے دوران ریاست میں 10 ہزار،801 افراد شفایاب ہوئے جس سے صحت مند افراد کی مجموعی تعداد 6 لاکھ،36 ہزار،574 ہوگئی۔ خیال رہے ملک میں سب سے زیادہ ایکٹیو کیسز اسی ریاست میں ہیں۔
 
 
 
 

شہر سرینگر میں وائرس کی اڑان تعداد 10ہزار کے پار

پرویز احمد 

 سرینگر //سرینگر شہر میں 37دنوں کے دوران کورونا وائرس مریضوں کی تعداد دوگنی ہوکر 10ہزار 150تک پہنچ گئی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سرینگر شہر میں یکم اگست کو کورونا وائرس مریضوں کی تعداد 5091تھی جو 6ستمبر کو 10,150ہوگئی ہے جبکہ اس دوران سرینگر شہر میں سب سے زیادہ 237افراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ یکم اگست کو سرینگر میں 5019افراد وائرس سے متاثر ہوئے تھے جن میں سے 2733زیر علاج رہے جبکہ 2232افراد صحتیاب ہوچکے ۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 126افراد یکم اگست تک وائرس سے فوت ہوئے تھے۔ سرینگر شہر میںکورونا وائرس مریضوں کی تعداد 10ہزار کے پار ہوکر 10,150تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 8ہزار 499افراد صحتیاب ہونے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں جبکہ1429افراد ابھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سرینگر شہر میں یکم اگست سے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں 88فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سرینگر شہر میں یکم اگست کو وائرس سے فوت ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 126تھی جو 6ستمبرتک 237ہوگئی ہے۔ سرینگر میں Comminicable Disease Centre حکام نے بتایا ’’ سرینگر شہر میں دیگر اضلاع کے مقابلے میں تشخیصی ٹیسٹ زیادہ ہوتے ہیں اور ان میں روز مرہ اضافہ ہورہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’ تشخیصی ٹیسٹوں میں تیزی اور دیگر ریاستوں سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے بھی سرینگر شہر میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہے لیکن اس صورتحال سے صرف احتیاط ہی بچاسکتی ہے‘‘
 
 
 
 

پلازمہ تھرپی کے بعد خاتون کی موت بنگلورو سے پلازمہ لایا گیا 

ثاقب ملک

 سرینگر // یکم ستمبر کو دلی سے سرینگر آنے والی پرواز میں اسپتال میں زیر علاج ایک 65سالہ خاتون کیلئے ایک اُمید کی کرن تھی۔ اس پرواز کے ذریعے ایک تھیلی میں پلازمہ موجود تھا جو بنگلو ر سے لایا گیا ۔بنگلورو سے صرف 8گھنٹے میں پرواز سرینگر پہنچی  لیکن  پلازمہ پہنچنی کی خوشی بھی متاثرہ مریضہ کے کنبے کیلئے چند منٹوں کی مہمان تھی۔ پلازمہ ڈونار کشمیر کے ساتھ بطور رضاکار کام کرنے والے شیخ ساقب نے بتایا ’’ دوستوں اور شتہ داروں کی مدد سے ہم نے بنگلوروں کے ایک مریض سے B+ پلازمہ حاصل کیا  اور پلازمہ مریضہ کو اسی دن چھڑہا یا گیا لیکن تھرپی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی اسکی موت ہوگئی۔ ساقب نے مزید کہا ’’مختلف پہلووں پر غور  اور کشمیر میں پلازمہ کے عطیہ حاصل کرنے کی اُمیدیں ختم ہوگئی اور پلازمہ حاصل کرنے میں وقت درکار تھا۔ ساقب نے بتایا ’’ ایک ڈاکٹر کی مدد سے ہم نے بنگلورو سے B+ اور A+ پلازمہ حاصل کیا گیا لیکن مریضہ وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئی  جبکہ دوسرا مریض ابھی بھی زیر علاج ہے۔انہوں نے کہا کہ مریضہ کے لواحقین کی اجازت کے بعد ہی بنگلورو سے  پلازمہ حاصل کیا گیا جس نے پہلے یہ پلازمہ عطیہ کے دور پر دیا تھا۔ بنگلورو سے سرینگر پلازمہ لانے والی ایئر لائن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ تھا جب ملک کی ایک ریاست سے دوسری ریاست پلازمہ منتقل کیا جارہا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ رضاکاروں سے پلازمہ حاصل کیا جاتا ہے جو کورونا وائرس بیماری سے مکمل طور پر صحت یاب ہوئے ہوں اور جنہیں صحتیاب ہونے کے بعد 40دن گزر گئے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ پلازمہ عطیہ کرنے والوں میں کورونا وائرس مخالف اینٹیجن موجود ہوتے ہیں۔