۔14سرحدی علاقوں میںہیلی کاپٹر سروس کہیں نہیں | جموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے خدمات فراہم کرنیکا اعلان ناکافی

سرینگر //عوامی حکومت کے خاتمہ کے بعد 14 سرحدی علاقوں کیلئے شروع کی گئی چاپر سروس کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے اور اب ان علاقوں کے لوگ اس تذبذب میں مبتلا ہیں کہ سرما میں اِن کا کیا ہو گا ؟۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا نے اگرچہ سرما کے دوران طبی خدمات کیلئے راج بھون کے ہیلی کاپٹر کو ہنگامی طور دستیاب رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، تاہم اس بیچ جموں وکشمیر کے سرحدی علاقوں میں مقیم لوگ اس فیصلے سے نالاں ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرحدی علاقوں کیلئے شروع کی گئی چاپر سروس کو پھر شروع کیا جائے ،تاکہ سرما میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ معلوم رہے کہ سال 2017میں ٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی حکومت نے برسوں بعددور افتادہ علاقوں کیلئے چاپر سروس شروع کی تھی اور یہ چاپر سروس 14 دور افتادہ علاقوں کیلئے چلا ئی جا رہی تھی جن میں گریز، تْلیل،ڈوڈہ، کشتواڑ، کرناہ، کرگل، دراس، پدم، لیہہ، نوبرا، پونچھ، راجوری اور دیگر مقامات شامل تھے ،جبکہ ایمرجنسی کی صورت میں کیرن اور مژھل کیلئے بھی یہ سہولیت مہیا تھی ۔ یہ سروس حکام نے رعایتی نرخوں پر شروع کی تھی جس کا مقصد ریاست کے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں بالخصوص،طلاب،بْزرگ شہریوں اور دیگر ضرورت مندوں کو سارا سال آسان ہوائی رابطہ فراہم کرنا تھا ۔اس سکیم کے تحت صرف 4مسافر ہی چاپر میں سوار ہو کر اپنی منزل تک پہنچتے تھے۔ فی سواری سے صرف 3 ہزار روپے کرایہ وصول کیا جاتا تھا او ر باقی خرچہ حکومت ہی برداشت کرتی تھی ۔لوگوں کو آسانی سے ٹکٹ سرینگر کے ٹی آر سی اور اپنے علاقوں سے مل جاتے تھے ۔ سکیم کے شروع ہونے سے ہزاروں کی تعداد میں مریض ہسپتالوں تک پہنچے ، سینکڑوں بچوں نے برف باری کے دوران امتحانات میں شرکت کی ، ضروری کام کیلئے جموں اور سرینگر آنے والوں کو دقتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ،تاہم عوامی حکومت کے خاتمہ کے بعداس سکیم کا بھی خاتمہ ہو گیا جس کے سبب اب سرحدی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے ۔یہ وہ سرحدی علاقے ہیں جہاں موسم سرما میں بھاری برف باری ہوتی ہے اور یہ پوری دنیا سے 4سے 6ماہ کیلئے کٹ کر رہ جاتے ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں پہلے سے ہی بنیادی سہولیات کا فقدان ہیں، طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ،اس بیچ اگر کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو بہتر علاج نہ ملنے کی وجہ سے گھروں میں ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتا ہے ، جبکہ یہاں کے طلاب بھی امتحانات یا پھر نوکریوں کیلئے فارم بھرنے سے رہ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرماکی آمد میں ابھی کچھ ہی دن باقی ہیں لیکن آج سے ہی لوگوں کو اس کی فکر لگ گئی ہے کہ آخر اس سرما میں ان کا کیا ہو گا؟ ۔ایک مقامی شہری  فاروق احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ایل جی کاراج بھون کا ہیلی کاپٹر ہنگامی طور پر مہیارکھنے کا بیان سر آنکھوں پر ،لیکن سرکار کو اس سکیم کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے کوششیںکرنی چاہیئے کیونکہ سرما میں یہ علاقے جیل میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کاکوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔