۔130دن بعد آزمائشی طور ٹرین چلی

 سرینگر//سخت سیکورٹی بندوبست کے بیچ روان ایجی ٹیشن کے 130دن بعد ٹرین سروس کو بڈگام سے سرینگر کے بیچ آزمائشی بنیادوں پر چلایا گیا۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں سرینگر سے بڈگام کے بیچ دن میں 2  بار ٹرین چلائی جائیگی جبکہ بانہال سے بارہمولہ اور بڈگام تک سروس شروع کرنے میں محکمہ کو وقت لگ سکتا ہے کیونکہ روان ایجی ٹیشن کے دوران کافی جگہوں پرپٹریوں کو نقصان ہوا ہے ۔بدھ کی صبح محکمہ ریلوے نے سخت سیکورٹی بندوبست کے بیچ ٹرین نوگام سے بڈگام تک آزمائشی طور پر چلائی  ۔ریلوے کے ائریا آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ ریلوے نے بدھ کی صبح آزمائشی طور پر یہ سروس نوگام سے بڈگام تک چلائی ۔انہوں نے کہا کہ ریل سروس پچھلے 130دنوں سے ٹھپ پڑی ہے، کیونکہ روان ایجی ٹیشن کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ریل کی پٹریوں اور کیبل کو کافی نقصان پہنچایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ بڈگام سے ماگام کے بیچ ٹرین کی پٹری کو نقصان ہوا ہے اسی طرح سبدن بڈگام، اونتی پورہ اور پنجگام میں بھی مظاہرین نے ٹرین کی پٹریوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔بانہال سے بارہمولہ ٹرین سروس بحال کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب تک نہ حالات میں سدھار آئے گا تب تک ٹرین سروس نہیں چلائی جا سکتی کیونکہ ٹرین کی پٹریوں کو ٹھیک کرنے میں دس دن لگ سکتے ہیں ،تاہم انہوں نے کہا کہ محکمہ سرینگر کے نوگام او ر بڈگام کے بیچ دن میں 2بار سروس شروع کرے گا ۔آفیسر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلوے سٹیشنوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور نہ ہی پٹریوں کو اْکھاڑیں کیونکہ اس سے اْن کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔معلوم رہے کہ 8جولائی کو حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی عوامی ایجی ٹیشن کرفیو ،ہڑتال اوربندشوںکے دوران جہاں زندگی کا ہر ایک شعبہ متاثر ہوا وہیں بانہال سے بارہمولہ ،بڈگام سے بانہال اور بڈگام سے بارہمولہ جانے والی ٹرین سروس بھی معطل ہو کر رہ گئی ہے ۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ بانہال سے بارہمولہ کیلئے 12ریل گاڑیاں چلتی تھیں جن میں 20ہزار لوگ روزانہ سفر کرتے تھے ا ور یہ 12ریل گاڑیاں دن میں 30 بار بارہمولہ سے بانہال اور بانہال سے بارہمولہ چکر لگاتی تھیں اور اگر روزانہ کے 30 ایسے چکروںکا تناسب نکالا جائے تو ان 131روز کے دوران ریلوے کے3,930چکر نہیں لگ سکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے کو ایک دن میں 3لاکھ روپے کی آمدن ہوتی تھی اور اگر 131روز کا تناسب نکالا جائے تو ریلوے حکام کو3 کروڑ 93لاکھ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔