۔13؍جولائی ۔۔۔۔۔ چشم دید رُوداد

جامع مسجد کے جلسہ میں شیخ صاحب ( ماسٹر محمد عبداﷲ) نے خوش الحانی سے تلاوت کی اور ترنم سے آغا حشر کاشمیری اور مولانا سالک کی نظمیں پڑھیں ۔ عجیب سماں پیدا ہوا۔ اس کے بعد دو ایک جلسوں نے کا یا پلٹ دی۔ جلسوں میں نعرے تو بلند ہوتے تھے مگر حاضرین کو یہ معلوم نہ تھا کہ جواب کیا دینا چاہیے۔ ایک صاحب جموں کے منشی محمد حسین تھے۔ ( جو بعد میں’’ ترجمانِ کشمیر ‘‘کے نام سے ہفتہ وار اخباربھی نکالتے تھے)، اُنہوں نے جلسہ کے دوران نعرۂ تکبیر کی آواز بلند کی۔ حاضرین نے بھی جو اباً نعرۂ تکبیر کہا۔ پھر رفتہ رفتہ لوگوں کو سمجھایا گیا کہ نعرہ ٔ کا مطلب کیا اور جواب کیا دینا چاہئے، پھر تکبیر اور نعرۂ حیدری کی گونج عا م ہوئی ۔ ان جلسوں میں جہاں توہین کرنے واالوں کی مذمت کی جاتی تھی، وہاں حقوق اور مطالبات کا تذکرہ بھی ہوتا تھااور اس طرح شہرو دیہات میں ایک ہلچل سی بپا ہوئی۔ ماسٹر عبداﷲ ( شیخ صاحب) عوام میں سرعت کے ساتھ مانوس ہوئے اور ان کے گرد پروانوں کا ایک جم ِغفیر والہانہ انداز میں گردش کرنے لگا اور یہ شمع ِمحفل بننے لگے۔ حکومت وقت کو یہ احساس ہونے لگاکہ ریاستی عوام خواب ِ خرگوش سے بیدار ہو رہے ہیں اور انہیں غلامانہ اور انسانیت سوز زندگی کا جامہ اُتارپھینکنا ہے۔ اب اس میں سدراہ ہونے کا کوئی محل یا موقعہ نہیں۔ لہٰذا تدبر اور’’ سحر سامری‘‘ سے کام لے کر ہی پھر ان کو خاموش کرایا جا سکتا ہے۔ حکمران کئی ایک داؤ پیچ چلانے لگے۔ مہاراجہ صاحب کے کچھ بہی خواہ انہیں حقیقت شناسی کا مشورہ دیتے رہے۔ ان ہی کے ایماء پر رعایا کو ہدایت ہوئی کہ وہ پہلے اپنے نمائندے منتخب کریں اور پھر ان کے ذریعہ جو بھی مطالبات ہوں، سرکار والا مدار کو پیش کریں۔ لوگوں کا ٹھا ٹھیں مارتا ہوا سمندر ،مختلف الخیال فرزندانِ توحید خصوصاً بڑے مولوی ( میر واعظ یوسف صاحب) چھوٹے مولوی ( احمداﷲ صاحب) میر واعظ ہمدانی کا ایک جگہ ایک سٹیج اور ایک ہی مقصد کے لئے جمع ہونا کسی معجزے سے کچھ کم نہیں تھا۔اس جلسہ میں ( ماسٹر عبداﷲ) شیخ صاحب کی ترنم ریزی اس نظم سے شروع ہوئی…   ؎ 
اے خدادے زور دستِ خالد و حیدر ہمیں  
پھر اُلٹنا ہے صفِ کفر ودرخیبر ہمیں
دیگر
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کیلئے
بادلوہٹ جائو دید و راہ جانے کیلئے
واعظان کرام کے دو خصوصی پر وانے حاجی اسداﷲ درال ، خواجہ احد چاچادرزی پشاور کے بانکے پنکھے ہوا میں اُڑاتے تھے۔اور ’’حُبِ مولوی‘‘ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تقریروں کے بعدکشمیر سے سات نمائندوں کا انتخاب ہوا (۱) میر واعظ مولانا محمد یوسف صاحب (۲) میر واعظ مولانا احمد اﷲ صاحب ہمدانی (۳) آغا سید حسین جلالی صاحب ( ۴) منشی شہاب الدین صاحب (۵) خواجہ سعد الدین شال (۶)خواجہ غلام احمد عشائی صاحب (۷) شیخ محمد عبداﷲ صاحب، جموںسے مندرجہ ذیل نمائندے منتخب ہوئے تھے۔ (۱) چودھری غلام عباس صاحب (۲) مستری یعقوب علی صاحب (۳) سردار گوہر رحمان صاحب۔
اس جلسہ کے اختتام پر ایک غیر کشمیر ی جناب عبدالقدیر صاحب جو یو۔پی کے رہنے والے تھے نے زوردار تقریر فرمائی۔ یہ صاحب کسی یورپین لیڈی کے ہاں ملازم تھے اور اسی کے ساتھ سیر و تفریح کے لئے کشمیر آتے تھے، جلسہ تو ختم ہو چکا تھا۔ اور نمائیندگاں بھی جاچکے تھے۔ مگر لوگوں کے ایک بہت بڑے اجتماع نے خواجہ احمداﷲ صاحب قرہ کے ایماء پر ان کی تقریر سُننا چاہی۔ اسی رات عبدالقدیر صاحب کو گرفتار کر کے بغاوت کا مقدمہ رجسٹر کیاس سلسلہ میں ۲۱ جون ۱۹۳۱؁ ء کو خانقاہِ معلی کے صحنِ مبارک میں ایک تاریخی جلسہ منعقدگیا۔ اس پر دیسی مسلمان کی ہمدردی میں ملی جذبات اُبھر گئے۔اور تاریخِ پیشی پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ عدالت میں جمع ہونے لگے۔ تحفظِ امنِ عامہ کی خاطر مقدمہ کی سماعت سنڑل جیل میں شروع ہوئی۔ ۱۳ جولائی ۱۹۳۱؁ ء کو تاریخِ پیشی تھی۔لوگ جوق در جوق جیل کے احاطہ میں جمع ہونے لگے۔اس تمام پروگرام کے پیچھے سید مقبول بیہقی ،سید محی الدین اندرابی، رفیقی حضرات اور دوسرے پیر زادوں کا ہاتھ تھا۔ مولانا مولوی محمد عبداﷲ وکیل قدیر صاحب کی وکالت کررہے تھے۔ دن کے ایک بجے وہ تشریف لائے اور لوگوں کو تلقین کی، ’ ’کہ وہ پُرامن رہیں۔ جوں ہی سرکاری وکلاء آئیں گے، قدیر صاحب کو جیل سے باہر لائیں گے۔ اس وقت آپ ان سے ملاقات کریں گے۔ اور انہیں بتلائیںگے کہ کشمیریوں کی رگوں میں اب بھی وہ خون موجود ہے جو اسلامی مودت، اخوت اور ہمدردی کے لئے اس جنتِ ارضی کو کسی بھی وقت لالہ زار بنا سکتا ہے۔ فی الحال تمام لوگ ظہر کی نماز ادا کریں‘ ‘ ۔ اذان ہوئی مسلمان نماز پڑھ چکے، کچھ ابھی پڑھ رہے تھے، کہ یکایک یہ افواہ اُڑی کہ عبدالقدیر کو سات سال کی سزا ہوئی اور مولوی عبداﷲ بھی قید ہوا یہ سُن کر ہزاروں لوگ جیل کے گیٹ کی طرف گئے اور مطالبہ کیا’’کہ عبدالقدیر کو دکھاؤ‘‘ مگر مسلح پولیس روکتی رہی۔ اسی کشمکش میں پتھر چلے۔ لاٹھیاں برسائی گئیں ۔ آخر حاکم اور محکوم کے درمیان جنت ِارضی میں پہلا خون ریز معرکہ ہوا۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ سات آٹھ موقعہ پر ہی شہید ہوئے او ر باقی شہداء جامع مسجد کے صحن میں دم توڑ بیٹھے اور اس طرح تحریک حریت ِکشمیرکی بسم اﷲ ہوئی۔ ظاہر ہے ابتداء خانیار میں ہوئی اور مرکز خانقاہ معلی رہا۔
  جب سنٹرل جیل سرینگر میں گولی چلی، بے شمار لو گ زخمی ہوئے اور دس بارہ افراد موقعہ پر ہی شہید ہوئے، اس موقعہ پر صوبۂ کشمیر کے گورنر لالہ ترلوک چند اور دوسرے پولیس افسران موقعہ پر موجود تھے، جو بغور حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ جیل کے بڑے دروازے کے باہر باغ میں ، جہاں پھانسی کا تختہ بھی تھا، لوگوں نے باجماعت نماز ادا کی اور شہید عبدالخالق شورہ نے اذان دی۔ چونکہ راقم الحروف اس موقعہ پر خود موجود تھا، اس لئے چشم دید تاثرات و حالات بیان کرنے سے بہت سی غلط فہمیاں دُور ہونے کا امکان ہے۔ ۱۳ جولائی ۱۹۳۱؁ ء سوموار کا دن تھا اور عرسِ حضرت مخدوم رحمتہ اﷲ کا دوسرا یوم تھا۔ اس روز صبح سویرے سے ہی عام افواہ تھی کہ آج عبدالقدیر کی پیشی سرینگر جیل میں ہوگی اور ایک ہی پیشی میں اس غریب کو قیدابد کی سزا سنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی شہرہ تھا کہ آج کی تاریخ پر مولوی یوسف صاحب، محمد عبداﷲ صاحب وغیرہ نوجوانان بھی حاضر ہوں گے۔ راقم الحروف صبح سویرے ہی آستانِ مبارک حضرت مخدومؒ کے شرقی حصہ میں بیٹھا تھا۔ عام طور عرسِ مبارک کا دوسرا دن خواتین کیلئے مخصوص ہوتا ہے، مگر خلاف معمول لوگ بڑی تعداد میں غربی ڈیوڑھی سے آتے تھے اور بجانب شرق قدم بڑھاتے تھے۔ جب دریافت کیا تو معلوم ہواکہ یہ سب لوگ عبدالقدیر کی تاریخِ پیشی پر حاضر ہونے کے لئے سنٹرل جیل جاتے ہیں۔ میں بھی سات آٹھ رفقاء کے ساتھ جن میں غلام محمد حلوائی شہید اور غلام نبی کلوال شہید بھی شامل تھے، جیل کی طرف روانہ ہوا۔ جب ہم سب جیل کے احاطہ میں پہنچے ، ہزاروں لوگ جمع ہوچکے تھے۔ پیر محمد یوسف سرائے بلی نے اذان بلند کی اور لوگ نمازِ ظہر کی تیاری کرنے لگے۔ جو لوگ با وضو تھے وہ نماز پڑھنے لگے اور بہت سے لوگ پکھری بل کی طرف گئے اور وہاں سے وضو کر کے لوٹے اور نمازِ ظہر ادا کی۔ ہوسکتا ہے کہ اس وسیع باغ میں باجماعت نماز بھی ہوئی ہو مگر مجمع کی کثرت کے پیش نظر با جماعت نمازیں دیکھنے میں نہ آئیں۔ زیادہ تر لوگوں نے انفرادی طور نماز ادا کی۔ اگر با جماعت نماز ہوئی ہوتی تو پولیس کے ساتھ انفرادی جھڑپیں نہ ہوئی ہوتیں بلکہ نماز کے دوران جب لوگوں کے ایک بڑے حصہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں تو بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس کا ایک بہت بڑا پلٹن جیل کی صحن میں تھا۔ ان میں زیادہ بندوقوں سے لیس تھے۔ کچھ لاٹھیوں سے مسلح تھے۔ پولیس کے سرکردہ افسروں میں سے زیادہ تر غیر کشمیری تھے۔ البتہ قادر خان سارجنٹ اورحاکم علی بٹہ مالوہیڈ کانسٹیبل نمایاں طور سرگرم تھے بلکہ دونوں بندوق تھامے تھے۔ راقم الحروف فائرنگ سے قبل بالکل دروازے کے قریب اپنے ساتھیوں کے ساتھ دھکم پیل میں مصروف تھا۔ پولیس لاٹھیاں برسارہی تھی۔ اتنے میں غلام محمد حلوائی ، قادر خان سار جنٹ پر جھپٹ پڑا اور اس کے ہاتھ سے بندوق چھینے کی کوشش کی۔ قادر خان دراز قد، جسیم اور مونچھوں سے باجبروت پولیس مین دکھائی دیتا تھا۔ شہید غلام محمد حلوائی بھی اسی قد و قامت کا نوجوان تھا۔ یہ پولیس میں بھی کانسٹیبل رہا تھا۔ اس لئے یہ قادر خان سے رائفل چھیننے میں کامیاب ہوا۔ جوں ہی شہید حلوائی صاحب نے بندوق ہاتھ میں لی ، حاکم علی ہیڈ کانسٹیبل نے پے درپے غلام محمد کو نشانہ بنایا۔ایسا لگتا تھا کہ اس شہید کے چہر ے پر چیچک کے دانے نمودار ہورہے ہیں ۔ اس معرکہ میں سب سے پہلی گولی حاکم علی نے چلائی اور غلام محمد حلوائی نے چہرے اور سینے پر برداشت کی اور اپنا خون گراکر زمیں بوس ہوا۔اس کے بعد دس پندرہ منٹ تک گولیاں چلتی رہیں۔ غلام رسول صوفی خواجہ بازار، محمد رمضان چولہ، عبدالخالق شورہ وہیں کے وہیں شہیدہوئے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ پولیس والوں نے جن بندوقوں کو استعمال کیا یہ سب چھرے والی تھیں۔ اگر آج کل کی 303 بندوقیں ہوتیں، تو جیل کے دروازے کے باہر کم از کم چار پانچ سو انسان جامِ شہادت نوش کر چکے ہوتے۔ان دنوں جیل وارڈنوں کو برقند از کہا جاتا تھا۔ ان کی بارکیں بالکل ڈیوڑھی کے ساتھ اس جگہ تھیں،جہاں آج کل سپرنٹنڈنٹ جیل کا دفتر اور رہائش گا ہ ہے۔ اس فائرنگ کے بعد پولیس کی تمام نفری غائب ہوئی ، ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ان کا گولہ بارود ختم ہوچکا ہے۔ لوگوں نے شہیدوں اور زخمیوں کو ان چارپائیوں پر دراز کیا جو برقندازوں کی بارکوں میں پڑی تھیں۔ ہزاروں لوگ شہیدوں کے ساتھ چلتے بنے۔ لوگوں کا ایک جم ِغفیر دروازہ توڑ کر صحن میں داخل ہوا۔ اگر جیل کا اندرونی دروازہ مضبوط نہ ہوتا تو یقینا اس وقت جیل کے اندر بھی لوگ گھس جاتے۔ برقندازوں کے بارکوں سے مٹی کا تیل جو لالٹینوں میں پڑا تھا،چیتھڑوں پر پھینکا گیا اور جیل کے سنگھل پوش چھت کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ 
محمد سلطان آشپاز جووازہ پورہ ( شہرخاص سری نگر کا ایک محلہ)کا رہنے والا تھا، باوجود اس کے کہ اس کی آنکھوں میں درد تھا، جیل کے بیرونی حصہ کی چھت پر چڑھ کر چیتھڑوں میں آگ لگاتارہا۔ سپرنٹنڈنٹ، جن کو ان دنوںداروغہ اور نا ئب داروغہ کہا جاتا تھا،آج کل کے زنانہ خانہ کے متصل کمرہ میں جل تو جلال تو… کی گردان کررہے تھے۔ کچھ وقفہ کے بعد فائیر برگیڈ پہنچا ۔ اس نے آگ بُجھانے کی کوشش کی اور لوگ مختلف راستوںسے شہر کی طرف بھاگنے لگے۔ گولی چلنے کے بعد زبردست آندھی چلی اور ہر طرف گردوغبار اڑا ۔ کہتے ہیں کہ یہ آندھی وادی کے ہر طرف چلی تھی اور مولانا عبدالعزیز خطیب جامع سوپور نے اشارہ کیا تھا کہ کہیں ’’ خونِ ناحق‘ ‘زمین پر گرا ہے۔ راہ چلتے لوگ کلمات پڑھتے تھے اور بجائے نعروں کے ہائے ہائے ، وائے وائے کر رہے تھے۔ اسی دوران میں جو قیدی پیشیوں سے واپس جیل کی طرف آرہے تھے، ان کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں توڑی جا رہی تھیں اور ان کو آزاد کیا جا رہا تھا۔ عمر قید کے دو گلگتی قیدیوں کو بھی اسی طرح رہا کیا گیا تھا مگر انہوں نے بھاگنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’ ہم یہ گناہ نہیں کر سکتے کہ سزا سننے کے بعد بھاگ جائیں ، یہ اخلاقی گراوٹ اور خلافِ مذہب ہے۔‘ اس کے برعکس جب دو پہاڑی باشندوں کو ’ رہائی‘ نصیب ہوئی، تو وہ کپڑوں کی تلاش کر نے لگے اور چھلانگیں ما ر مار کر دوڑ پڑے۔ اتنے میں فوج اور رسالے کیہزاروں سپاہی جیل کی طرف آتے دیکھے گئے۔ انہیں جو بھی انسان نظر آئے، اس کا کچومر نکالتے تھے، ان کے رعب و دہشت کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے قلعہ کی دیوار سے باہر آنے کی جرأت نہ کی اور سیدھے کستور پنڈ سے حضرت مخدومؒ کے مرقِدعالی تک ملہ کھاہ ( ملہ کھاہ سری نگر کا سب سے بڑا قبرستان ہے ) اور دوسری سڑکوں پر فوج کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتے رہے۔جب فوجیوں نے یہ دیکھا کہ لوگ اتنی تعداد میں کوہ ماراں کی پہاڑی پر جمع ہورہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ قلعہ پر حملہ نہ کردیں تو یکدم رسالہ نے ان کی طرف رُخ کیا اور باضابطہ حملہ کی صورت میں لوگوں کو بھگایا۔ ایک جم ِغفیر آستان مبارک میں چھپ گیا اور رسالے کے سپاہی وہاں بھی پہنچے، چونکہ عُرس کی تقریبات ہورہی تھیں۔ در پردے سجاوٹ اور دوسرا آرائشی سامان آویزان تھا، اس لئے فوجی سپاہی گھوڑوں سے نیچے آئے، ان کے ہاتھوں میں ننگی تلواریں تھیں۔ کچھ سپاہی پستول تھا مے ہوئے تھے۔آستان مبارک کے دروازے پر جہاں شمع دان ہوتا ہے، یہ سپاہی کھڑے ہوئے اور راقم الحروف کے ایک قر ابت دار سے کہنے لگے کہ یہاں لوگوں کو کیوں جمع کیا ہے؟ کیا تم قلعہ پر حملہ کرنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہاں آج کل عرسِ مبارک ہے، اسی لئے لوگ جمع ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ بھاگتے ہوئے یہاں آئے ہوں ۔ یہ امان کی جگہ ہے۔ شاید یہ کرنل تھا اور کسی اچھے راجپوت خاندان سے تعلق رکھتا تھا، اس نے اصرار کیا کہ وہ خود اندر جا کر دیکھ لے گا کہ کتنے لوگ جمع ہیں۔ ہمارے اس بزرگ نے کہا کہ آپ خوشی سے آستانِ شریف کے اندر جا سکتے ہیں مگر احترامِ زیارت کا خیال رکھئے۔ اس فوجی افسر نے جوں ہی بوٹ کے تسمے کھولنے شروع کئے کہ اچانک رُک گیااور کہا کہ ہم لوگ جب کہیں زیارت پر جا تے ہیں تو کچھ نذر چڑھاتے ہیں۔ اس لئے اندر نہیں جا سکتا۔ آپ اطمینان دلائیں کہ یہاں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوگی۔ آستانِ مبارک کی طرف فوجی سلام بجالا کر پھر واپس چلا گیا۔ ( اس موقعہ  پر آثار شریف حضرت بل کا وہ واقعہ یا د آرہا ہے، جب ۱۹۶۵؁ ء میں سی۔آر۔پی ۔ایف نے ہلہ بول دیا تھا اور بوٹوں سمیت آستان ا قدس میں داخل ہو کر ہر شئے کو تہس نہس کیا تھا، بہادر اور شریف لوگ عبادت گاہوں کا احترام کر تے ہیں۔ بزدل اور کمینہ فطرت اشخاص دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔
شہیدوں کو جامع مسجد کے اندر صحن میں پہنچایا گیا اور جو زخمی ہوئے تھے، ان کو مر ہم پٹی کے لئے مہاراج گنج ہسپتال لے گئے۔ ان زخمیوں کے ساتھ سینکڑوں لوگ تھے۔ اس وقت ہسپتال بند تھا اور ڈیوٹی پر ڈاکٹر بھی لوگوں کے جم ِغفیر کو دیکھ کر کہیںکھسک گیا تھا تو پھر زخمیوں کو ڈاکٹر عبدالواحد کے کلینک پر جو وہاں ہی قریب میں واقع تھا،مرہم پٹی کیلئے لے گئے۔ یہاں مولوی احمد شاہ کمپونڈر نے جہاں تک ہو سکا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی ۔
شہیدوں کی تجہیز و تکفین اور نمازِ جنازہ:
 دن ڈھلتا جارہا تھا اور جامع مسجد میں لوگ جوق در جوق جمع ہورہے تھے۔ شہیدوں کے قرابت داران کے ارد گرد گریہ وزاری میں مصروف تھے۔ بوڑھی مائیں، نوجوان بیوائیں، معصوم بچے، جام شہادت نوش کرنے والوں کے گرد چمٹنے کی کوشش کررہے تھے۔ عام حاضرین میں سے بھی اکثر آنکھیں پُرنم تھیں۔ مسجد کے تالاب پر مولانا مولوی محمد یوسف شاہ پرنسپل اورینٹل کالج اپنے طرے دار دستار کو بغل میںدبائے ہوئے آیات قرآنی کی تفسیر اور مفہوم سمجھارہے تھے۔ان کے ساتھ مولانا عبدالقدوس جو اسی کالج کے ُمدرس تھے۔ وہ احادیث بیان فرمارہے تھے۔ کس قدر نورانی بزرگ تھے یہ لوگ۔ عام طور ولنبلونکم بشئٍی من الخوف … کے رکوع کی تلاوت ہورہی تھی اور اسی کی تفسیر بیان کررہے تھے۔ اس وقت تک جن شہداء نے جام شہاد ت نوش کیا تھا ان کی بڑی تعداد تھی اور کئی زخمی موت وحیات کی کشمکش میں تھے۔ ان میں سے ایک غلام نبی کلوال تھا، اچھا خاصانوجوان، آخری دم تک ہوش و حواس میں رہا اور بھی متعدد زخمی تھے جنہیںپانی پلایا جاتا تھا۔ پانی پلانے کے لئے کوئی برتن یا لوٹا نہیں تھا، ان دنوں پگڑی کا رواج عام تھا اور لوگ پگڑی (دستار) باندھتے تھے، ( آج کل پگڑی میں لاکھوں کا ہیر پھیر ہوتا ہے) جب برتن نہ ملے تو دستار کے نیچے جو مضبوط ٹوپیاں ہوتی تھی،ان کو تالابِ مسجد میں ڈال کر زخمیوں کے لئے پانی پلانے کا کام لیتے تھے۔ راقم الحروف کی اُبکی ٹوپی تھی اور اس میں تالاب سے پانی لانے میں سہولت ہوتیتھی۔ راقم نے کئی بار اس ٹوپی میں پانی لایا اور زخمیوں اور دم توڑتے شہیدوں کو پلایا۔ جب شہید کلوال کا وقت قریب آیا، اس نے شاید اپنے باپ یا بھائی کو کہا کہ مولوی یوسف صاحب کو میرے پاس بلاؤ۔ اگر میر ا حافظہ غلط نہ ہو تو اس وقت میرے دوست خواجہ غلام حسن کنٹھ رعناواری ، رفیقی صاحب مرحوم بھی موجود تھے۔ مولوی یوسف صاحب میر واعظ ، مولانا وترہیلی کے ساتھ اس شہید کے قریب آئے۔ اس نے ان سے کہا کہ ’ ’ہم نے اپنی جان قربان کر دی اب للّٰہ ہمیں بتلائے کہ کیا ہم لوگ شہید ہیں‘ ‘۔اس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ آپ سب لوگ ضرور شہید ہیں اور اﷲ کے پاس آپ کو شہیدوں کا درجہ ملے گا۔ یہ سن کر اس ازلی مقبول نوجوان کے چہرے پر ایک عجیب بشاشت پیدا ہوئی اورمسکراتے ہوئے جان مالک حقیقی کے سپرد کی   ؎
نشانِ مرد مومن باتو گویم
چو مرگ آید تبّسُم برلبِ اوست
 جو حضرات دن رات شہداء کے ساتھ مصروف رہے۔اُن میں مفتی جلال الدین ، ماسٹر عبدالسلام دھوبی، مولوی غلام نبی مبارکی ، محمد اسماعیل جان المعروف جورہ ، مولوی محمد عبداﷲ وکیل،مسٹر یحییٰ رفیقی ، ماسٹر غلام احمد زہرہ ، خواجہ احمدا ﷲ قرہ، سید تاج شاہ ، عشائی صاحب، شیخ محمد عبداﷲ، غلام نبی گلکار، حکیم علی محمد ، عبدالرحیم ڈار، عبدالرحمان فوٹوگرافر، ثناء اﷲ راتھر، سید محمد مقبول بیہقی ، سیدمحی الدین اندرابی ان میں زیادہ سر گرم تھے۔ مفتی جلال الدین ، ماسٹر عبدالسلام دھوبی رات بھر جامع مسجد میں ہی رہے اور شہیدوں کے وارثوں اور ان کے رشتہ داروں کو تسلی دیتے رہے اور بھی بہت سارے دوست و احباب وہاں موجود رہے جو تجہیز و تکفین کے انتظامات مکمل کر رہے تھے۔
 زخمیوںمیں چولہ ہی ایک نوجوان تھا جو رات گئے تک زندہ رہا۔ اسی دوران ایک بار نواب خسرو جنگ بہادر آئے اور نوجوان تعلیم یافتہ حضرات ، مولوی یوسف صاحب ، عشائی صاحب، شیخ صاحب وغیرہ سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’ سرکار والا مدار ( مہاراجہ ) کو اس واقعہ کا بے حد رنج ہے اور ان کی تمام ہمدردیاں مرنے والوں کے وارثوں کے ساتھ ہیں۔ اگر سرکاری عملہ کی طرف سے کچھ زیادتی ہوئی ہوگی تو ان سب کو سخت سزادی جائے گی۔ حاضرین میں کئی لوگوں نے حسبِ معمول پولیس کی زیادتی کی شکایت کی۔ جب شام قریب ہوئی تو ’ شامِ غریباں‘ کا نقشہ سامنے آرہا تھا۔پولیس کے بے شمار سی ۔آئی۔ڈی اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ شام ہوتے ہی گریہ وزاری اور آہ و بکامیں کچھ کمی ہوئی۔ جامع مسجد کے ہمسائے سماواروںمیں چائے قہوہ لے آئے اور لوگوں کو پلاتے رہے۔ شہیدوں کے وارثوں کو دودھ ، قہوہ قُلچے پیش کر تے رہے مگر یہ غریب اپنے ان عزیزوں کے داغِ فرقت کے کرب و بلا میں اپنا سب کچھ کھو چکے تھے۔ تاہم لوگوں میں معمر اور معتبر بزرگ انہیں سمجھا رہے تھے کہ غم و اندوہ میں زیادہ مبتلا رہنا اب پسماندگان کے لئے اچھا نہیں ۔ شہیدوں کے معصوم بچے اور ان کی مائیں اور پسماندگان قومی امانت ہیں۔ یہ ہمیشہ قوتِ لایموت کے فکر سے بے فکر ہیں۔ ایسا یقین کچھ تعلیم یافتہ حضرات بار بار انہیںدلاتے رہے ( بعد میں ان غریبوں کا کسی نے نام تک نہ لیا)، شیخ محمد عبداﷲ جو ابھی صرف محمد عبداﷲ تھے، ہر سمت اپنی سرگرمیاں جاری رکھ رہے تھے۔ سید مقبول بیہقی مرحوم، سید محی الدین اندرابی، سید مقبول گیلانی، غلام نبی رفیقی ، مسٹر زہرہ ، عبدالرحیم ڈار امیرا کدل ، عبدالرحمان، ثنااﷲ راتھر، کچھ ملازمین جموں کے محمد حسین، محمد مقبول تاشوان، ماسٹر صاحبان اسلامیہ ہائی سکول، محمد رجب، عبدالعزیز، احمد شاہ فاضلی ، غلام الدین قادری، پیر صاحبان مخدوم صاحبؒ ، میر واعظ مولانا یوسف شاہ، مولوی محمد یحییٰ اور ان کے دیگر مُتعلقین کافی سرگرم تھے۔ بعد میں مولوی محمد عبداﷲ ان کے فرزندان مولوی عبدالرحیم ، بشیر احمد اور خواجہ غلام نبی گلکار، مفتی جلال الدین اور ان کے مُتعلقین بھی کافی سرگرم تھے۔
نماز عشاء مسجد جامع میں باجماعت ہونے کے بعد خواجہ سلام شاہ ، خواجہ نور شاہ پھر تشریف لے آئے۔ حکومت نے خواجہ سلام شاہ کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ شہیدوں کو اپنے آبائی قبرستان میں الگ الگ دفن کیا جائے مگر خواجہ نور شاہ نقشبندی باوجود سرکاری آفیسرہونے کے اس حق میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سب شہداء کو ایک ہی جگہ دفن کرنا چاہیے۔ یہ ایک یادگار مقبرہ ہوگا، اگر ان کو الگ الگ دفن کیا گیا تو ان کی قربانیاںمعدوم ہوجائیں گی ۔ خواجہ غلام احمد عشائی اس کے حق میں تھے اور پھر قریب قریب سب تعلیم یافتہ اور سمجھ دار لوگوں نے اس کی تائید کی۔ اس سلسلہ میں بہت سی سازشیں شروع ہوئیں۔ مولانا مولوی محمد یوسف شاہ صاحب کو سرکاری ذرائع سے اس بات پر آمادہ کیا جارہا تھا کہ شہیدوں کو الگ الگ دفن کیا جائے۔ اس سلسلہ میں خواجہ خضر زرُو اور خواجہ مامہ بربو جو اور خواجہ غلام محمد پنڈت، کافی درمیانداری کر رہے تھے۔ یہ ان دنوںکے وزیراعظم مسٹر ویکفیلڈکے بھی شناساتھے۔ اس سلسلہ کی گفتگو میں ایک موقعہ ایسا بھی آیا جب شہیدوں کے الگ تجہیز و تدفین پر آمادگی ہونے لگی مگر کچھ نوجوان سختی سے اس بات پر ڈٹے رہے کہ شہیدوں کا جلوس نکلے گااور انہیں ایک ہی جگہ دفن کیا جائے گا۔ خواجہ نور شاہ اس خیال کو بے حد ہوا دیتے رہے اور خواجہ سلام شاہ، بھی متفق تھے۔ نواب خسروجنگ بہادر آخری مرحلہ پر جب تشریف لے آئے تو انہوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ حکومت کو شہیدوں کے ایک ہی جگہ دفن کرنے میں کوئی اعتراض نہیں، صرف جگہ جامع مسجد کے قریب میں ہی ہونی چاہیے۔ آخر بہت دیر غور وفکر اور ردوکد کے بعد جامع مسجد کے قرب و جوار میں تدفین کا فیصلہ ہوا۔ لوگوں کے ایک بہت بڑے حلقہ نے اس کے ساتھ اتفاق نہ کیا۔ پھر انتہائی حیرت انگیز طریقہ پر خواجہ نور شاہ نے اس پیچیدہ مسلہ کو حل کیا۔ اُنہوں نے خانقاہ نقشبندیہؒ کے صحن مبارک کو بحیثیت متولی و سجادہ نشین اس کام کے لئے وقف کیا، جس کو سب نے قبول کیا۔ اس مرحلہ پر میر مقبول شاہ صاحب ڈبل رول ادا کررہے تھے۔ ایک طرف وہ حکومت ِوقت کے مزید منظور نظر بننا چاہتے تھے اور اس خدشہ کا اظہار کر رہے تھے کہ اگر شہیدوں کو الگ الگ دفن کیا گیاتو محلہ وار بے چینی اور بدامنی پیدا ہوگی۔ دوسری طرف وہ عوام کی ہمدردی کا دم بھرتے تھے، حقیقتاً وہ عوام کے ہی فرد تھے۔ اُنہوں نے شہیدوں کے لئے کفن بہم کیا اور گورکنوں کا سب انتظام اپنے ہاتھ میں لیا۔رات بھر عبدالرحیم ڈار اور عبدالرحمن شہیدوں اور زخمیوں کے فوٹو کھینچتے رہے۔ یہعبدالرحیم ڈار لیمبرٹ اینڈ کو میں ملازم تھے۔ بے حد مُخلص اور جذباتی انسان تھے ۔ مولانا مسعودی کے خاص محبوں اورمعتقدوں میں شمار ہوتے تھے۔ ۱۹۴۷؁ ء میں پاکستان چلے گئے۔ نصف رات گُذر چکی تھی، مسجد کے اندر افواہ اُڑائی گئی کہ حکومت شہیدوں اور زخمیوں کو زبردستی اُٹھا کر لے جائے گی اور اپنے حسب منشاء کسی نامعلوم مقام پر دفن کر ے گی ۔ اس سے بے حد سنسنی اور تشویش پھیلی ۔ سب کے سب ذمہ دار لوگ چلے گئے تھے۔ نواب بازار کے ایک صاحب جن کا نام اب یاد نہیں، محمد امین کشو گرٹہ  بل کے ( شہرخاص سری نگر کا ایک قدیم محلہ) پیرزادے اور راقم کے ہم جماعتی پیر مبارک شاہ قادری مرحوم نے حاضرین کو تلقین کی کہ اگر پولیس یا ملٹری مسجد کے اندر آگئے ، تو ان کو روکنا چاہیے، چاہے جان بھی چلی جائے۔ شاید اس عزم کی اطلاع حکام کو ملی، اس لئے وہ کچھ باز رہے۔ اس دوران خواجہ عبدالاحد فاروقی ایڈوکیٹ مرحوم بھی آئے، انہوں نے بھی ایسا ہی مشورہ دیا۔ ایسا لگتا تھا کہ نیند سے جاگ کر آئے ہیں۔ شہیدوں کی تجہیزوتکفین کے سلسلہ میں علماء نے یہ فتویٰ صادر کیا تھا کہ انہیں غسل دینے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر ان کے کپڑوں (پوشاک) کے اوپر ایک سفید چادر لپٹی جائے ، تو کوئی ہرج نہیں۔ لہٰذا غسال اور دیگر لوازمات کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ شہدا کو بالکل تیا ر رکھا گیا۔ جب ہم لو گ رات کے آخری حصہ میں گھر جانے لگے، اس وقت فوج نے جامع مسجد کو گھیر لیا تھا اور ہر جگہ مسلح فوجی تعینات تھے۔ہم نے گلی کوچوں سے گھر پہنچنے کی کوشش کی۔
۱۴؍ جولائی منگل کا دن تھا۔ علی الصبح لوگ جامع مسجد کی طرف جانے لگے، تو ہر شاہراہ پر فوجی تعینات تھے، جو لوگوں کو آگے بڑھنے سے روک رہے تھے۔ ان کا لب و لہجہ انتہائی تیز اور گندا تھا۔ یہ اپنے آلاتِ حرب و ضرب سے لوگوں کو مرعوب کر نا چاہتے تھے۔ رات کو بے شمار گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ جیل خانے پُر تھے۔ حتیٰ کہ مہاراج گنج کے سرکردہ مسلمان بیوپاریوں خواجہ عبدالعزیز منٹو، قاضی مصطفی شاہ ،خواجہ محمد عبداﷲ بسو وغیرہ کو ریشم خانہ کے متصل گھوڑوں کے اصطبل میں قید کیا گیا۔ اسی روز صبح کو شیخ محمد عبداﷲ، خواجہ غلام نبی گلکار،مولوی عبدالرحیم ،چودھری غلام عباس ،سردار گوہر رحمن، مِستری یعقوب علی کو گرفتار کرکے قلعہ ( ہاری پربت) اکبری میں قید کیا گیا۔ انہیں الگ الگ کوٹھریوں میں بند کیا گیا۔ دہشت و بر بریت کا بازار گرم ہوا اور جامع مسجد کے اندر جو لوگ پہنچتے تھے انہیں مطلع کیا گیا کہ شہیدوں کے جنازہ کے ساتھ ان کے صرف چار چار رشتہ دار مدفن تک جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کسی اور نے شمولیت کی یا تو اُس کو گولی سے اُڑادیا جائے گا یا گرفتار کیا جائے گا۔ شہیدوں کی مشترکہ نماز جنازہ مولوی عبدالقدوس نے جامع مسجد کے اندر پڑھائی۔ کسی نہ کسی طرح عبدالرحیم ڈار اور راقم الحروف نماز جنازہ اور خانقاہ نقشبندیہ تک ساتھ رہنے میں کامیاب ہوئے۔ جب شہیدوں کے جنازہ کو مسجد سے باہر لایا گیا تو ماسوائے فوجیوں کے اور کوئی فرد بشر نظر نہیں آتا تھا۔ راستوں پر ہر جگہ مشین گنیں اور توپیں نصب کی گئی تھیں اور ڈوگرہ سپاہی خشم گیں انداز میں جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کو دیکھ رہے تھے۔ جنازہ کے ساتھ خواجہ سلام شاہ، خواجہ نور شاہ ، پیر مقبول شاہ وغیرہ لوگ بھی تھے۔ جنازہ کے جلوس کو دیکھ کر عورتیں اور مرد زار و قطار رو رہے تھے۔ یہ سڑکوں سے دور گلی کوچوں اور مکانوں پر ’ شہدائے کشمیر‘ کے عروس کانظارہ کررہے تھے۔ جب جنازہ صحن مبارک زیارت نقشبندیہ علیہ الرحمتہ میں پہنچا، قبریں کھودی گئی تھیںاور تما م لوازمات مکمل تھے۔ خانقاہِ فیض پناہ کے امام جناب مفتی سعدالدین صاحب نے ایک اور نماز جنازہ پڑھائی ۔ عین اس وقت جب شہیدوں کے جسد سپرد خاک کئے جارہے تھے، ایک مٹھائی والانورخان زیارت شریف کے غربی دروازے سے فوجی پہرہ کو توڑ کر صحن میں گھس جانے کی کوشش کر تا رہااور زور دار آواز میں حاکموں اور فوجیوں سے مخاطب ہوا:’ ’یاد رکھو!ان شہیدوں کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، ان کو شان سے قبریں ملیں مگر تم کو نہ زمیں جگہ دے گی اور نہ آسمان ‘‘ یہ عام طور ایک لکڑی کے موٹے ڈنڈے کے ساتھ مٹھائی لپیٹ کر بیچتا تھا اور دن بھر سارے شہر میں گھومتا تھا اور بٹہ مالنہ میں رہتا تھا۔ 
تجہیز و تدفین کے بعد جنازہ میں شامل سب لوگ جامع مسجد واپس گئے۔ اس وقت مولانا یوسف صاحب، مولانا قدوس اور مولانا محمد یوسف وترہیلی تالاب کے صفہ پر بیٹھے تھے، محی الدین صاحب نقشبندی نعت خوانی کر رہے تھے اور سامعین بالکل سکون اور خاموشی سے ان کی وجد آفرین اور دلکش آواز کو سن رہے تھے۔ یکے بعد دیگر ے مولوی صاحبان نے تقریریں کیں۔ مولوی یوسف شاہ صاحب میر واعظ نے فرمایا کہ اطلاعات آرہی ہیں کہ بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جو تعلیم یافتہ یہاں آپ کے سامنے تقریریں کررہے تھے ،ان سب کو گرفتار کیا گیا۔ تما م اضلاع میں ہڑتال ہے اور کاروبار معطل ہے۔ مولوی عبدالقدوس کی تقریر اب بھی یاد ہے: فرمایا تھاکہ گولی چلنے اور شہیدوں کی قربانی کا یہ پہلا واقعہ ہے، جس مقصد کے حصول کیلئے آپ نے تحریک شروع کرنی ہے، اس راہ میں نہ معلوم اور کتنے ایسے معرکے در پیش آئیں گے۔ صرف اتفاق، اتحاد اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ اگر آپ میں خلوص ہے تو آپ فاتح ثابت ہوں گے۔ رونے پیٹنے اور ہائے ہُو کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں نہ ہونے دو۔ ہمیں بڑے جابر اور بے رحم طاغوت سے مقابلہ ہے ۔حُسینی ؓ سنت کو زندہ کر کے اپنی عزت اور تو قیر قائم رکھواور مظلوموں کا ساتھ دو۔
( ماخوذ)