۔12ہزار 600کروڑ روپے ضلع کیپیکس بجٹ کو منظوری

سرینگر// جموں کشمیر حکومت نے ایک تاریخی فیصلے میں 12 ہزار600کروڑ روپے ضلع کیپیکس بجٹ 2021-22 ، جو پچھلے سال کے بجٹ  5134.40  کروڑ  روپے سے دوگنا ہے ،کوپنچایتوں ، بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی کو جموں و کشمیر کی مساوی ترقی کے لئے کی منظوری دی  ہے۔سیول سکریٹریٹ میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس کے دوران تمام 20 اضلاع کیلئے تاریخی اور بے مثال ضلعی کیپیکس بجٹ کی منظوری دی گئی۔ طویل میٹنگ کے دوران ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے 20 چیئرپرسنوں، اور تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے ضلعی منصوبوں کا ایک مختصر جائزہ دیا۔ڈسٹرکٹ کیپیکس بجٹ کی اہم خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے ، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عوامی شراکت(پنچایتی راج اداروں) کے ذریعہ معاشرے کی ضرورت پر مبنی منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو لوگوں کے معیار زندگی میں تیزی سے اضافے ، مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر سڑکیں ، پینے کے پانی اور بجلی ، سیاحت کی صلاحیت ، نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور عوامی تقاضوں کے مطابق دوسری ترجیحات کا تعین کرنا شامل ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سماجی و معاشی ترقی ، نچلی سطح پر پائیدار اور جامع نمو ، بنیادی سہولیات کی مضبوطی ، اور صحت اور تعلیمی اداروں کو مستحکم کرکے انسانی سرمایہ کی ترقی کے لئے بہتر حکمت عملی تیار کرنے کے لئے  نچلی سطح تک پہنچنے کا نقطہ نظر اپنایا گیا ہے۔انہوں نے کہاجموں و کشمیر ایک نئے طلوع آفتاب کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا تفصیلی غور و خوض کے بعد پہلی بار ، پی آر آئی اور انتظامیہ کی اجتماعی کوششوں سے منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منصوبہ بندی کے عمل میں عوام اور ان کے نمائندوں کی فعال شرکت نے گرام پنچایت ، بلاک اور ضلعی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی منصوبے کی تیاری پنچایتی سطح پر شروع ہوئی ہے اور بی ڈی سی کے توسط سے یہ آخر میں ڈی ڈی سی تک پہنچی۔تاریخی ضلعی ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے پر ڈی ڈی پیز ، بی ڈی سی ، سرپنچوں ، پنچوں ، یو ٹی انتظامیہ کے عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے ، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کو عملی جامہ پہنانے میں کمیونٹی پر مبنی منصوبہ بندی کلیدی کردار ادا کرے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں عمل درآمد کی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لئے فوری کارروائی کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ اس سال ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ کام جان بھاگیداری کی حقیقی روح اور پی آر آئی کی مدد سے 12 ماہ کے اندر مکمل ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنا یوٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے اورلوگوں کو بہتر گورننس ، شفافیت اور فلاحی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ کارکنوں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر پنچایت منظور شدہ منصوبوں کی فہرست اور کاموں کی تکمیل کی تاریخ ظاہر کرے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید بتایا کہ حکومت ضلعی تشخیصی فریم ورک شروع کررہی ہے جس کو جلد حتمی شکل دی جائے گی اور اضلاع کی کارکردگی اوران کی درجہ بندی ماہانہ شائع کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ضلع میں ہونے والی پیشرفت کا ماہانہ جائزہ لینے کے لئے ایک ادارہ جاتی میکانزم بنایا جائے گا۔