۔118سالہ مہورہ پائور ہائوس’ہیریٹیج پروجیکٹ‘ کا تحفظ ہنوز ایک خواب تاریخی ورثے کو بچانے کیلئے133.50کروڑ کی منظوری ملی لیکن ٹینڈر منسوخ کئے گئے

 اشفاق سعید

سرینگر //سابق ڈوگرہ حکمران پرتاپ سنگھ کی حکومت میں برطانوی انجینئروں کی طرف سے ڈائزین کئے گئے118 سالہ قدیم مہورہ بجلی پروجیکٹ کی بحالی ہنوز ایک خواب بنی ہوئی ہے۔سرکار کی جانب سے دو سال قبل اس پروجیکٹ کو ہری ٹیج پروجیکٹ بنانے کا منصوبہ بنا اور اس کیلئے 133.50کروڑ روپے کی منظوری بھی ملی ۔اسکے بعد ٹینڈربھی جاری ہوئے لیکن 2برس گزر جانے کے باوجود مہورہ ہیرٹیج پروجیکٹ پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکار 118سالہ قدیم مہورہ بجلی پروجیکٹ کی بحالی کا کام شروع کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے، جبکہ ماضی میں بھی اس کی بحالی کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس کی بحالی کے لئے ٹینڈر جاری ہوئے تھے لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان کو منسوخ کیا گیا ۔یاد رہے کہ 1905میں مہورہ پائو ہاوس کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا اور ابتدائی طور پر اس بجلی پروجیکٹ نے 3.75 میگاواٹ بجلی پیدا کرنا شروع کی۔ اس نے اپنی منفرد تعمیر کی وجہ سے قریبی کھیتوں کو سیراب کرنے کا مقصد بھی پورا کیالیکن وقتاً فوقتاً آنے والے متعدد سیلابوں میں پاور ہاؤس کو شدید نقصان پہنچا۔ 1959 میں پرانے پاور ہاؤس کو سیلاب میں شدید نقصان پہنچا تھا جس کے بعد اس کی تزئین و آرائش کی گئی اور 1962 میں اس کی صلاحیت کو 9 میگاواٹ تک بڑھا دیا گیا،یہ 1992 تک مکمل طور پر فعال رہا۔تاہم1992 کا سیلاب دوبارہ پاور ہاؤس کے لیے تباہ کن ثابت ہوا اور اس نے اسے تباہ کر دیا جس کی مرمت نہیں ہو سکی، بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس تاریخی پاور ہاؤس کو بحال کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

 

مہورا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی تاریخی ورثہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، جموں و کشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے سال 2017 میں کہا تھا کہ کارپوریشن نے وزیراعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت ہیریٹیج پروجیکٹ کو بحال کرنے کیلئے 120 کروڑ روپے کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) تیار کی ہے۔ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اگست2022میں 10.5 میگاواٹ مہورہ ہیریٹیج ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے ای پی سی کنٹریکٹ دینے کی منظوری دی تھی اور سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں پروجیکٹ کیلئے 133.50 کروڑ روپے مختص رکھے گئے اور پاور ڈیوپمنٹ کارپوریشن کو ہدایت دی گئی کہ کارپوریشن کے پروجیکٹوں کیلئے تمام ضروری منظوری جیسے فاریسٹ کلیئرنس، ایم ایچ اے کی منظوری وغیرہ کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے اور پروجیکٹ کو بنا کسی تاخیر کے شروع کیا جائے ۔ جموں وکشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے10.5میگاواٹ مہورہ بجلی پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن بھی 2026مقرر کی گئی ، لیکن یہ کام ٹینڈرنگ سے آگے نہیں بڑھ پایا اور محکمہ کی افیشل ویب سائٹ پر یہ دکھایا گیا ہے کہ یہ کام ٹینڈرنگ سٹیج پر اٹکا ہوا ہے ۔معلوم رہے کہ 118 سال قبل ڈوگرہ حکمران پرتاپ سنگھ کی طرف سے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کا یہ منصوبہ 1905 میں دریائے جہلم پر بارہمولہ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر بونیار کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا، جس کی صلاحیت 4 میگاواٹ تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 9 میگاواٹ کر دیا گیا۔ اسے ٹربائنوں کو چلانے اور بجلی پیدا کرنے کیلئے پانی لے جانے کیلئے 11 کلومیٹر طویل لکڑی کی نہر تعمیر کی گئی ،جس کو دشوار گزار راستوں سے ہو کر نکالا گیا تھا ۔یہ پروجیکٹ اور اس کی کنال بارہمولہ سے اْوڑی کی طرف جاتے ہوئے صاف دکھائی دے رہی ہے جو خستہ حال ہو چکی ہے اور کنال کی لکڑی کو بھی کچھ شرپسندوں نے لوٹ لیا ہے ۔برطانوی انجینئروں نے جہلم کے بائیں کنارے پر 4000 کلو واٹ کے منصوبے کو ڈیزائن کیا تھا ۔ یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا تھا کیونکہ جہلم کے پانی کو تقریباً 11 کلومیٹر بلندی پر ایک نہر میں موڑ دیا گیا تھا جو زیادہ تر 8 مربع فٹ کے لکڑی کے فلوم میں بہتی تھی جس سے نہ صرف ٹربائنیں کھلتی تھیں بلکہ کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی بھی فراہم کیا جاتا تھا۔مہورا بجلی پروجیکٹ نے ماضی میں کشمیریوں کی طرز زندگی کو نئی شکل دی تھی اور پہلی بار آر پار منقسم ریاست کے لوگوں نے اس کی بجلی کی شکل دیکھی ۔ایل جی منوج سنہا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس پروجیکٹ میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کی جلد تکمیل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایل جی منوج سہنا نے اس ورثے کو بحال کرنے کیلئے کئی بار ماہرین کی ایک ٹیم سے مشاورت کی ہے ۔ اس پروجیکٹ کیلئے ٹینڈر جاری کئے گئے ، لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ٹینڈر منسوخ کئے گئے اور تب سے اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔محکمہ کے سیول انوسٹی گیشن ڈویژن (CID)کے چیف انجینئر وکاس شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ابھی تک اس میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ،کیونکہ چیف سکریٹری کی سربراہی میں جو کنٹریک کمیٹی بنائی گئی تھی اس نے اس کام کو التو میں رکھنے کو کہا تھا اور آج کی تاریح تک اس میں کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ کسی فیصلے سے متعلق انہیں کوئی معلومات ہیں۔