۔112واں دن…یمین و یسار میں ہڑتال اور بندشیں

سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادفت کی جامع مسجد چلو کال کے پیش نظر پائین شہر سمیت وادی کے یمین و یسار میں اعلانیہ وغیر اعلانہ کرفیو ، بندشیں اور جلوس برآمد۔ تاریخی جامع مسجد کی16ویں ہفتہ مسلسل ناکہ بندی جاری ہے۔اس دوران شمال وجنوب میں احتجاجی مظاہروں اور سنگبازی کا سلسلہ112ویں روز بھی جاری رہا جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولوں کے علاوہ مرچی اور پائوا شلوں کا بھی استعمال کیا۔ دن بھر جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں میں3 پولیس اہلکاروں سمیت25افراد زخمی ہوئے۔ادھر ہڑتال کی گرفت جمعہ کو مزید تیز نظر آئی جبکہ بیشتر حسا علاقوں کو سیل کیا گیا تھا۔
سرینگر
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے جمعہ کو کرفیو توڑ کر تاریخی جامع مسجد میں مشترکہ طور نماز جمعہ ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس احتجاج کال اور نماز جمعہ کے پیش نظر انتظامیہ نے پائین شہر کے تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں کے حدود میں آنے والے علاقوں میں کرفیو نا فذ کیا ۔ تھا جبکہ سرینگر کے دیگر سیو ل لائنز علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو اور بندشیں عائد کی گئی تھی ۔ شہر خاص کے ان علاقوں میں گزشتہ شام سے ہی اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ وہ احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرنے کیلئے جدید ساز و سامان سے لیس تھے۔پائین شہر کی بیشتر سڑکوں ، گلی کوچوں اور نکڑوں پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے لوگوں کو سختی کے ساتھ گھروں سے باہر آنے سے منع کر دیا ، جس وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔چھتہ بل ، قمرواری ،گوجوارہ ،صفاکدل ، نور باغ ، کاوڈارہ، نوہٹہ، عیدگاہ،سعدہ کدل، سکہ ڈافر، راجوری کدل، بہوری کدل، ملارٹہ، حبہ کدل، زینہ کدل ،فتح کدل، نواب بازار، خانیار، رعناواری، خانقاہ معلی ،نواکدل ،قمرواری ،مہاراج گنج ،نائوپورہ اور پائین شہر کے دیگر علاقوں میںکرفیو کے نتیجے میں ہو کا عالم تھا اور سڑکوں پرصرف فورسز اور پویس اہلکار گشت کرتے نظر آ رہے تھے۔ادھر سیول لائنز علاقے کے مائسمہ ، گائو کدل، ککر بازار، ریڈ کراس روڑ، مدینہ چوک، کورٹ روڑ، آبی گذر، ہر ی سنگھ ہائی سٹریٹ، مہاراج بازار، بٹہ مالوگونی کھن اور سرائے بالا میں سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات نظر آئے اور چپے چپے پر فورسز تعینات کیا گیا تھا۔ سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد شہر خاص اور سیول لائنز میں احتجاجی جلوس برآمد ہوئے تاہم پولیس نے مختلف مقامات پر احتجاجی مظا ہر ین کو جامع مسجدجانے سے روک دیا گیا۔مزاحمتی قیادت ی طرف سے تاریخی جامع مسجد کی مسلسل ناکہ بندی کے بعد جمعہ کو 15ہفتوں کے بعد اس تاریخی مسجد میں کرفیو توڑ کر نماز ادا کرنے کے اعلان کے بعد نوہٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو سیل کیا گیا تھا۔جامع مسجدکی طرف جانے والی سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس اور فورسز کے دستے تعینات رکھے گئے تھے جبکہ کئی مقامات پر رکائوٹیں کھڑی کرنے کیلئے خاردار تاریں بیچ سڑک بچھا دی گئی تھیں ۔ سڑکوں ، گلی کوچوں اور نکڑوں پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے لوگوں کو سختی کے ساتھ گھروں سے باہر آنے سے منع کر دیا ۔جامع مسجدکے ارد گرد والے تمام علاقوں اور محلوں میں فورسز کی اضافی تعیناتی کی گئی تھی جبکہ جگہ جگہ پر پولیس اور فورسز اہلکار گشت کر رہے نظر آرہے تھے۔ تاریخی مسجدکی طرف جانے والے راستے کو سیل کر کے رکھ دیاگیا تھا اور خانیار سے لے کرنوہٹہ اور نور باغ سے گوجوارہ تک اس حساس علاقے میں فوجی بینکر گاڑیوں اور جدید ساز و سامان سے لیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ سرینگر کے خروجی اورداخلی راستوں پر بھی سخت پہرئے لگائے گئے تھے جبکہ کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں سے نپٹنے کیلئے فورسز اور پولیس کو تیار رہنے کی ہدایت دی گی تھی جبکہ جامع مسجد کے چاروں جانب فلائنگ سکارڈ کاڑیوں کے ساتھ پولیس و فورسز اہلکاروں کو تیاری کی حالت میں دکھا گیا اور گذشتہ شام ہی جامع مسجدکو پولیس و فورسز نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔جامع مسجدکی طرف جانے والی سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس اور فورسز کے دستے تعینات رکھے گئے تھے جبکہ کئی مقامات پر رکائوٹیں کھڑی کرنے کیلئے خاردار تاریں بیچ سڑک بچھا دی گئی تھیں ۔ڈائون ٹائون کی سڑکوں ، گلی کوچوں اور نکڑوں پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے لوگوں کو سختی کے ساتھ گھروں سے باہر آنے سے منع کر دیا ۔جامع مسجدکے ارد گرد والے تمام علاقوں اور محلوں میں فورسز کی اضافی تعیناتی کی گئی تھی جبکہ جگہ جگہ پر پولیس اور فورسز اہلکار گشت کر رہے نظر آرہے تھے۔ اس دوران حریت(ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو اس وقت اپنی نگین رہائش گاہ کے باہر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ انکی رہایشی نظر بندی کو توڑ کر باہر آنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس موقعہ پر جونہی وہ باہر آئے تو پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے انکی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے حراست میں لیا اور نگین پولیس اسٹیشن پہنچایا گیا۔ سرینگر کی کئی مساجد میں تحریکی ترانوں اور نغموں کی گونج سنائی دی۔ لالچوک کی آبی گزر مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد ایسی ہی نغمے بجائے گئے جس کے دوران پولیس بھی وہاں نموار ہوئی اورا ن نغموں کو بند کرنے کی ہدایت دی۔سرینگر کے پیر باغ علاقے میں نماز جمعہ کے بعد پرامن طور پر جلوس برآمد ہوا جو اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کر رہا تھا۔جلوس اندرانی علاقوں سے گزرا تاہم بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوا۔ صورہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس برآمد ہوا اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے جب پیش قدمی کر رہا تھا تو فورسز کے ساتھ انکا آمنا سامنا ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق اس موقعہ پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے جبکہ نوجوانوں نے سنگبازی کی۔ عینی شاہدین کہنا ہے کہ فورسز نے پیلٹ بندوق کا بھی استعمال کیا۔ادھر راولپورہ سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد سخت احتجاج ہوا جس کے بعد فورسز اور مظاہرین کے درمیان سخت جھڑپیں ہوئیں۔اس دوران مظاہرین نے فورسز پر قہر انگیز سنگبازی کی جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم آرائی شام تک جاری رہی۔مقامی لوگوں نے فورسز پر مرچی گیس کے گولے داغنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بچوں اور بزرگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر شہر کے نٹی پورہ علاقہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد کچھ مشتعل نوجوانوں نے پولیس اور فورسز پر سنگباری کی تاہم یہاں جلد صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ادھر سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر واقع لاوے پورہ علاقہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد جب لوگوں نے ایک احتجاجی جلوس برآمد کرنے کی کوشش کی تو پولیس اور فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ صورہ کے90فٹ پر شبانہ  گرفتاریوں اور فورسز و پولیس کی طرف سے مبینہ توڑ پھوڑ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ برآمد کیا گیا جس کے دوران یہ سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ادھر سرینگر کے پائین شہر میں کئی جگہوں پر شام کے وقت فورسز اور مظاہرین کے درمیان سنگبازی ہوئی جس کا سلسلہ رقات دیر گئے تک جاری رہا۔رعناواری میں پولیس تھانے پر پتھرائو کیا گیا جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین کا تعاقب کیا۔ادھر چھتہ بل نماز جمعہ کے بعد فورسز پر پتھرائو ہوا جبکہ فورسز نے بھی جوابی سنگبازی کی جس کے دوران چھٹی جماعت میں زیر تعلیم ایک طالب علم احسان احمد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
بڈگام،گاندربل
بڈگام کے حساس علاقوں اور قصبے میں بندشیں عائد کی گئی تھی جبکہ فورسز اور پولیس کے اضافی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔سوزیٹھ میں نماز جمعہ کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں سنگبازی وجوابی سنگبازی کا سلسلہ شروع ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے جس میں7افراد زخمی ہوئے۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ بعد میں فورسز اور پولیس گھروں میں داخل ہوئی اور مکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔بیروہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد جلوس نکالا گیا جبکہ فورسز نے انکی پیش قدمی کو ناکام بنا دیا۔عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے مظاہرین پر ٹیر گیس کے گولے اور پائو شل داغے جبکہ نوجوانوں نے  فورسز پر قہرسنگبازی کی جس کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔مقامی لوگوں کے مطابق بیروہ میں ریلی کو ناکام بنانے کیلئے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی۔اس دوران نارہ بل علاقے میں بھی فورسز اور پولیس نے چھاپہ مار کاروائی کے دوران2نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی۔بڈگام کے اوم پورہ علاقے میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو8دکانیں پراسر طور پر نذر آتش ہوئیں۔معلوم ہوا ہے کہ آگ کی اس پراسرار واقعے میں2دکانوں کو کافی نقصان پہنچا۔اس دوران ماچھو اور باغ مہتاب میں بھی سنگبازی ہوئی جبکہ چارورہ کے کئی اندرونی علاقوں میں بھی فورسز اور مطاہپرین کے درمیان جلوسوں کی برآمدگی کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔اس دوران گاندربل ضلع میںمکمل ہڑ تال رہی اس دوران دوکانیں بند رہیںجبکہ سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیوں کی آمد رفت بھی کافی متاثر رہی۔نامہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق اس دوارن نماز جمعہ کے بعد پرنگ کنگن میں پولیس ،فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ۔ذرائع کے مطابق نوجوانوں نے پولیس اور فورسز پر پتھرائو کیا جس کے بعد فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔ادھر ضلع کے کنگن، گنہ ون، گنڈ میں بھی مکمل ہڑ تال رہی ۔ عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے نامہ نگار نے بتایا کہ ددر ہامہ میں گورنمنٹ میڈل اسکول کی عمارت کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اسکول کے چوکیدرار نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روکتے ہوئے آگ پر قابو پایا اور یہ اسکول جلنے سے بچ گیا۔ادھر بی ہامہ میں نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد ہوا جس میں اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔
بارہمولہ
 بارہمولہ میں نماز جمعہ کے بعد اولڈ ٹاون علاقہ میں ایک جلوس برآمد ہو ا ، جس کے کچھ وقت بعد سیمنٹ پل کے نزدیک نوجوانوں نے سنگباری شروع کی اور انہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس اور فورسز اہلکاروںنے آنسو گیس کے گولے داغے۔نامہ نگار الطاف بابا کے مطابق اس دوران شمالی قصبہ بانڈی پورہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد مین چوک میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جبکہ لوگوں نے مین چوک بانڈی پورہ میں ہی نماز جمعہ بھی ادا کی۔اس موقعہ پر لوگوں نے آزادی اور اسلام کے حق میں نعرے بلند کئے جبکہ کچھ وقت بعد جب پولیس اورفورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے کارروائی عمل میں لائی تو نوجوانوں نے سنگباری شروع کی ، جس کے جواب میں پولیس اور فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کا سہارا لیا۔ طرفین کے درمیان سنگباری اور ٹیر گیس شلنگ کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا ۔ سوپور میں نماز جمعہ دو ہی جگہوں پر ادا ہوئی۔ نامہ نگار غلام محمد کے مطابق مرکزی جامع مسجد سوپور اور نیو کالونی مسجد سوپور، جامع مسجد سوپور میں نماز کے بعد ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ جلوس جامع مسجد سے نکل کر خانقاہ معلی کی طرف کرنے لگا اور لوگ اسلام اور آزادی کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔ جلوس جامع پل پر پہنچا تو وہاں  فورسز کی گاڑیاں نمودار ہوئی اور جلوس کومنتشر کرنے لیئے ٹیر گیس شیلنگ کی جس سے جلوس میں افراتفری مچ گئی۔ زینہ گیر کے ہر دشیوہ، ڈورو اور بومئی میں بھی نماز  جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس بر آمد ہوئے ، سید علی شاہ گیلانی کے آبائی گائوں ڈورو میں نماز جمعہ کے بعداحتجاجی جلوس پر امن طریقے سے نکالا اور علاقہ کے مزار شہدا تک نعرہ بازی کرتے ہوئے گزرا ۔ ہردشیو ہ سوپور میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالا گیا جلوس علاقہ میں اسلام اور آزادی کے حق میں نعرہ بلند کرتے ہوئے گزرا ۔عینی شاہدین کے مطابق وارپورہ اور بومئی سوپور میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ ادھر ہائیگام سوپور میں نماز جمعہ کے بعد ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ چھوٹی پورہ ہائیگام میں نماز جمعہ کے بعد لوگ جمع ہوئے اور ایک احتجاج نکالا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جلوس نے جب پیش قدمی کی تو فوروسز کی گاڑی نمودار ہوائی اور جلوس کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد نوجوان زخمی ہوئے اور جھڑپ کے دوران فورسز نے2 نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی۔ ادھر پلہالن میں فورسز نے مقامی لوگوں کی طرف سے ریلی کا ناکام بنا دیا جبکہ جمعہ کے پیش نظر پورے علاقے میں سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق نماز جمعہ کے بعد جلوس برامد کیا گیا  تاہم جب یہ جلوس پیش قدمی کر رہا تھا تو فورسز نے انکی پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے ٹیر گیس کے گولے داغے جس کے جواب میں فورسز اور پولیس پر سنگبازی ہوئی جس کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہی۔ادھر نماز جمعہ کے بعد پٹن کے نہال پورہ  اور کلسری میں بھی احتجاج۔نمائندے کے مطابق جب یہ جلوس اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے سرینگر،بارہمولہ شاہرہ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو فورسز نے انکی پیش قدمی  پر بریک لگاتے ہوئے بلال کالونی کے نزدیک ان پر ٹیر گیس کے گولے داغے۔
بانڈی پورہ
بانڈی پورہ کے نبر پورہ،پلان اور نائو پورہ میں لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے نماز جمعہ کے بعد گھروں سے باہر آئے اور احتجاج کیا۔اس دوران تینوں علاقے کے لوگ گلشن پورہ چوک میں پہنچ گئے جس کے بعد وہاں پر احتجاج کیا۔ نمائندے کے مطابق اس موقعہ پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان سنگبازی ہوئی جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ کے گلشن چوک میں مظاہرین پر اس وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد ٹیرگیس شلنگ کی ہے جب مرکزی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد نوپور نبرپورہ ودیگر محلوں کے جمع ہوئے اور عیدگاہ بانڈی پورہ کی طرف فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے بڑھنے لگے اس دوران فورسز کی بھاری جمعیت نے پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ٹیرگیس شلنگ کی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق جواب میں مشتعل مظاہرین نے سنگ باری کی ہے اور یہ سلسلہ گلشن چوک سے پھیل کرنوپورہ کھادی مارکیٹ اقبال مارکیٹ نبرپورہ تک پھیل گیا اس دوران شدت کی سنگ باری 5بجے تک ہوئی اور آمنے سامنے جھڑپ میں بھاری ٹیرگیس شلنگ ہوئی تاہم پتوشی کے ایک نوجوان وسیم کو گرفتار کر لیا ہے ۔ بانڈی پورہ بازارمیں عید گاہ چلو کے پوسٹر چسپاں تھے لیکن پولیس عیدگاہ چلو بانڈی پورہ کی کال کو ناکام بنایا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق پاپہ چھن میں نسو کاجلوس پہنچا اور مقامی جلوس کے ساتھ مل کر احتجاج کرنے لگے لیکن فورسز نے جلوس کو منتشر کرنے کے لیے ٹیرگیس شلنگ کی ہے  جبکہ مظاہرین نے پتھراو کیا گیا۔ آلوسہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد پرامن جلوس نکالا گیا۔ کلوسہ، اونگام، وٹہ پورہ آجر نادی ہل گرورہ، چھٹے بانڈے اجس، صدرکوٹ بالا حاجن میں نماز جمعہ کے بعد پرامن جلوس برآمد ہوئے ، جبکہ کیونسہ،اشٹینگو اور ملنگام میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ پولیس نے ایک ڈرامائی کارروائی کے دوران امیر جماعت بانڈی پورہ کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔عینی شاہدین کے مطابق جماعت اسلامی کے ضلع امیر حافظ سکندر ولد عبدالغنی ساکنہ گونڈ پورہ کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ جامع مسجد سملر بانڈی پورہ میں نماز جمعہ کی امامت کے فرائض انجام دینے کے بعد اپنے گھر کی طرف جار ہے تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ حافظ محمد سکند ملک نے باپورہ سملر علاقہ میں نماز جمعہ سے قبل خطبہ دیا اور نما ز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جب وہ اپنے گھر کی طرف جارہے تھے تو راستے میں سیول کپڑوں میں ملبوس کچھ پولیس اہلکاروں نے حافظ سکند ر کو پیشکش کی کہ وہ انہیں موٹر سائیکل پر گھر تک چھوڑ دیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ جوں ہی حافظ سکند ر دو نامعلوم افراد کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہوئے تو موٹر سائیکل کا رخ ایک فوجی کیمپ کی طرف موڑا گیا اور کیمپ سے گزرنے کے بعد موٹر سائیکل سیدھے پولیس تھانہ ارگام بانڈی پورہ کے سامنے رک گیا جہاں حافظ محمد سکندر کو بند کیا گیا۔ اجس تحصیل کے مرکزی عید گاہ میں تحریک حریت کے اہتمام سے ایک بھاری عوامی جلسہ منعقد ہوا جس میں بازی پورہ، دودھ ون، ملہ پورہ ، سدر کوٹ پائین، متی پورہ، چنتز پورہ اور مرکزی اجس سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔اس دوران نماز کے بعد جامع مسجد سے مقامی چوک تک ایک جلوس برآمد ہوا جس میں اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی اور پرُ امن طور پر منتشر ہوا۔
کپوارہ
سرحدی ضلع کے حساس علاقوں کرالہ پورہ،مین ٹائون،ترہگام،لعل پورہ،چوگل،ترہگام اور دیگر علاقوں میں سخت ترین بندشیں عائد رہیں۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق ترہگام میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے احتجاجی جلوس برآمد کیا جس مین بازار تک پہنچ گیا۔تحریک حریت کے فاروق احمد کی قیادت میں یہ جلوس کئی علاقوں سے گزرا اور مزار شہدا تک پہنچ گیا اور بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوا۔اس دوران لعل پورہ،کرالہ گنڈ،کھرہامہ لنگیٹ اور دیگر علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد پرامن طور پر احتجاجی جلوس برآمد ہوئے جس میں اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے نمائندے نے بتایا کہ گنہ پورہ کرالہ گنڈ میں شام کے وقت فورسز نے2پرائیوٹ استادوں فردوس احمد گنائی اور مدثر احمد کی گرفتاری عمل میں لائی جس کی وجہ سے علاقے میں تنائو اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا۔اس موقعہ پر گرفتاریوں کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا۔لنگیٹ میں بھی احتجاج کے بعد فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں فورسز اور پولیس پر مظاہرین نے سنگبازی کی جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق طرفین کے درمیان سنگبازی وجوابی سنگبازی میں3پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
اننت ناگ
 نامہ نگار ملک عبدالاسلام کے مطابق بجبہاڑہ میں سخت بندشوں کے باوجود نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد سے گوری ون تک ایک جلوس برآمد کیا گیا جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی جبکہ یہ جلوس اندروانی علاقوں سے گزر کر پرامن طور پر منتشر ہوا۔نماز جمعہ کے بعد سیر ہمدان سے بھی ایک جلوس برآمد ہوا جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق جلوس کی قیادت تحریک حریت کے ریاض احمد اور عاشق حسین کر رہے تھے۔ادھر آنچی ڈورہ میں بھی نماز جمع کے بعد احتجاجی جلوس کے بعد فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی جس کے دوران نوجوانوں نے سنگبازی کی جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔اس دوران ایک نوجوان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی۔جمعہ کی نماز کے بعد اننت ناگ کے مٹن چوک اور کاڑی پورہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی جس میں فریقین کے درمیان سنگبازی وجوابی سنگبازی ہوئی تاہم بعد میں پولسی نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آوار گولوں کی برسات کی۔نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق کوکر ناگ کے مضافاتی گائوں جن میں ساگام،بوژو،ٹنگ پاوا شامل ہیں سے وابستہ لوگوں نے پولیس کے ہاتھوں کل رات گرفتار کئے گئے نوجوانوں کی رہائی کے لئے احتجاج کیا ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے علاقہ میں شبانہ چھاپوں کے دوران ایک درجن سے زائد نوجوانوں کو مبینہ سنگ بازی کے الزام میں حراست میں لے لیا ۔اُنہوں نے کہا کہ مسلسل گرفتاریوں کی وجہ سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل چُکا ہے۔ادھر بٹہ گنڈ ڈورو میں  ایک اسکول عمارت کو نذر آتش کیا گیا۔
پلوامہ
پلوامہ قصبے میں جمعہ کے پیش نظر بندشیں عائد رہی اور اس دوران کئی علاقوں میں اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔نامہ نگار شوکت ڈار کے مطابق ضلع کے لیتر علاقے میں اس وقت فورسز اور لوگوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جب نماز جمعہ کے بعد لوگوں نے جلوس برآمد کرنے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نماز کے موقعہ پر مزاحمتی لیڈر مسجد میں موجود تھے اور غالباً انہیں گرفتار کرنے کیلئے پولیس اور فورسز نمودار ہوئی تاہم لوگوں کی طرف سے مزاحمت کے بعد انکی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔اس موقعہ پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں نوجوانوں نے خشت باری کی جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پائوا شلو اور ٹیر گیس کے گولوں کا استعمال کیا۔ نامہ نگار نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فورسز کی کاروائی میں4افراد زخمی ہوئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جبکہ شبیر احمد نامی نوجوان کو شل لگ گیا۔ادھر پلوامہ کے حال سے گابل پورہ تک نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد ہوا جس نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔بتایا جاتا ہے کہ مقامی فورسز کیمپ پر پہنچنے کے بعد مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے جبکہ فورسز نے مظاہرین پر اشک آوار گولے داغے۔ادھر مرن چوک اور رہمو میں بھی نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد ہوئے۔نامہ نگار کے مطابق ٹہاب اور نیوہ میں نماز جمعہ کے بعد نکالے گئے جلوسوں کا راستہ روکتے ہی فورسز،پولیس اور جلوس میں شامل لوگوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں جس کے دوران  مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے گئے جبکہ نوجوانوں نے سنگ اندازی کی۔ پرچھو میں پیٹرول بم پھینکا گیا جو سڑک پر گر کر پھٹ گیا۔ادھر نامہ نگار سید اعجاز کے مطابق ترال میں بھی نماز جمعہ کے بعد خانقاہ فیض پناہ سے بس اڈہ ترال تک جلوس برآمد ہوا جس کے دوران شرکاء جلوس اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔اس موقعہ پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی جبکہ دونوں اطراف سے سنگبازی وجوابی سنگبازی کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔
کولگام،شوپیاں
کولگام کے حساس علاقوں میںمزاحمتی کال کے پیش نظر فورسز اور پولیس کا گشت جاری رہا۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کیموہ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس برآمد ہوا جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔کھڈونی میں بھی نماز جماعہ کے بعد جلوس برآمد ہوا جبکہ مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔اس دوران قاضی گنڈ کے دھرنہ کی مرکزی جامع مسجد سے ایک احتجاجی جلوس بر آمد ہوا جلوس جوں ہی ہلڑ کی جانب پیش قدمی کرنے لگا توپہلے سے ہی موجود فورسز اہلکاروں نے طاقت کا استعال کر کے جلوس کو تتر بتر کیا ۔نامہ نگار عارف بلوچ کے مطابق ویری ناگ سے بھی بعد نماز جمعہ ایک جلوس بر آمد ہوا ،جلوس میں شامل لوگ اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کر رہے تھے۔عینی شاہدین کیمطابق محمود آباد اورنتھی پورہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد ہلاکتوں و گرفتاریوں کے خلاف لوگوں نے جلوس نکال کر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ڈورو و قاضی گنڈمیں پولیس و سی آر پی کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم دونوںقصبوں میں حالات پُرامن رہی۔اس دوران شوپیاں میں سخت ترین بندشیں عائد کی گئی تھی جس کے دوران کئی جگہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی۔اس دوران حساس علاقوں میں فورسز اور پولیس کے اضافے دستوں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے جامع مسجد کے ارد گرد رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی۔نامہ نگار شوکت حمید کے مطابق بندشوں کے باوجود نماز جمعہ کے بعد ترکہ وانگن علاقے سے جلوس برآمد ہوا جس میں اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔
پولیس بیان
پولیس ترجمان نے بتایا کہ جمعہ کے روز سرینگر ، پلوامہ ، کولگام اور سوپور میں سنگباری کے واقعات پیش آئے جبکہ ترجمان کے مطابق کچھ شر پسند عناصر نے پرچھو پلوامہ میں پولیس اور فورسز اہلکاروں کو نشانہ بنانے کیلئے ایک پیٹرول بم پھینکا۔تاہم اس دوران کوئی زخمی نہیں ہوا۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہر میں امن و قانون کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے کچھ علاقوں میں جمعہ کے روز بندشیں عائد رکھی گئی تھیں۔