۔106واں دن …ہڑتال جاری،پر تشدد احتجاج میں 20زخمی

سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مائسمہ، شوپیاں،پلہالن،بانڈی پورہ ، کھریواور نطنوسہ ہندوارہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں20سے زائد افراد زخمی ہوئے۔اس دوران بانڈی پورہ میں مقامی ممبر اسمبلی کے مکان پر پتھرائو کیا گیا جبکہ صدر کوٹ بالا میں ایک ریاستی وزیر کے قافلے کو نشانہ بناتے ہوئے سنگبازی کی گئی۔شہر کے سیول لائنز علاقے میں کافی تعداد میں دن بھر نجی گاڑیا ںچلتی رہیں جبکہ پٹریوں پر بھی لوگ خرید و فروخت کرتے ہوئے نظر آئے۔
سرینگر
سرینگر کے سیول لائنز علاقوں میں دکانیں ، بینک ،سکول ، کالج ، سرکاری ا ورغیر سرکاری دفاتربند رہے تاہم نجی گاڑیاں چلتی رہیں ۔ شہرکے متعدد علاقوں میں سبزی فروش اور چھا پڑی فروش بھی سڑکوں پر نظر آ ئے ۔ کئی بازاروں میںمعمول سے زیادہ آٹو اور نجی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتے ہوئے دیکھے گئے جبکہ کئی ایک جگہ اکا دکا سومو گاڑیاں بھی نظر آئیں۔کئی علاقوں میں بازار بھی کھلے تھے۔یہ صورتحال سیول لائنز کے  جہانگیر چوک، ڈلگیٹ،بٹہ مالو بس اڈہ سے باہر، بمنہ کراسنگ، صنعت نگر کراسنگ،جواہر نگر، راجباغ اور دیگر علاقوں میں دیکھی گئی۔ہڑتال کے باوجود سیول لائنز اور مضافاتی علاقوں میں نجی گاڑیوں کی آمدورفت میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اور ایسے لگ رہا ہے کہ عام سی ہڑتال کال ہے،ساڑھے تین ماہ کی ایجی ٹیشن نہیں رہی ہے۔البتہ مسافر گاڑیاں اور دکان بالکل بند رہتے ہیں۔جو ڈھیل کے بعد ہی کھلتے ہیں۔تاہم پائین شہرمیں ہڑتال کا زیادہ اثر دیکھنے کو ملا اور وہاںہر طرح کے کاروباری اور تجارتی ادارے بند رہے۔اس دوران شہر کے حساس علاقہ مائسمہ میں سنیچر کی صبح مردوزن نے لبریشن فرنٹ کے علیل محبوس چیئر مین محمد یاسین ملک کو مبینہ طور تسلی بخش طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کے خلاف ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس میں شامل مردوزن ملک یاسین کو رہا کرنے کی مانگ کرنے کے ساتھ ساتھ دوران اسیری انہیں معقول طبی سہولیات فراہم کرنے کی مانگ کر رہے تھے۔ اس دوران پولیس اور فورسز نے احتجاجی مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے کچھ گولے داغے جس کے بعد کچھ وقت کیلئے مقامی نوجوانوں اور پولیس کے درمیان ٹکرائو کی صورتحال بھی جاری رہی اور اس دوران کچھ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کو خواتین نے ناکام بنا دیا۔اس دوران سرینگر میں محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری گودام و دفتر کے باہر ایک ٹرک پراسرار طور پر نذر آتش ہوا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی مذکورہ دفتر کے باہر تھی جس دوران اچانک اس میں آگ نمودار ہوئی جس کے دوران اس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تاہم اس دوران کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دریں اثناء مزاحمتی لیڈر شپ کے مشترکہ احتجاجی کلینڈر میں 22اکتوبر کو شام 5بجے سے 14 گھنٹو ںکیلئے دی گئی ڈھیل کا وقت شروع ہوتے ہی سرینگر میں شہر خاص ، سیول لائنز اور دیگر علاقوں میں بازار کھل گئے اور اس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ خریداری کیلئے بازاروں کا رخ کرنے لگے۔ سیول لائنز کے تحت آنے والے بازاروں بشمول لالچوک ، گھنٹہ گھر ، ریگل چوک ، فاریسٹ لین ، آبی گزر ، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، مہاراج بازار، سرائے بالا، راجباغ اور دیگر بازاروں میں شام دیر گئے تک خریداری میں مصروف رہے تاہم اس دوران لوگوں کو آنے جانے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بڑی تعداد میں گاڑیوں کے بازاروں میں موجود ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی رہی۔  شام دیر گئے کھریو میں مطاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران ایک ٹپر کو نزر آتش کیا گیا جبکہ اسکا ڈروائیور معمولی طور زکمی ہوا۔واقعہ کے بعد کھریو کے بازار محلہ کے لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز نے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ بھی کی۔
بارہمولہ
شمالی ضلع بارہمولہ کے اولڈ ٹاون میں تنائو اور کشیدگی کا ماحول نظر آیا اور اس دوران فورسز بھی کئی علاقوں میں گشت کرتی ہوئی نظر آئی۔ادھر رفیع آباد،سوپور،زینہ گیر سمیت دیگر علاقوں میں مجموی طور پرصورتحال خوشگوار رہی۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق پٹن سے اطلاع دی ہے کہ پلہالن پٹن میں ایک پرامن مزاحمتی ریلی کا اہمتام کیا گیا تھا۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق بارہمولہ شاہراہ پر واقع حساس علاقہ پلہالن پٹن میں سنیچر کے روز اس وقت ایک درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جب یہاں ایک احتجاجی مارچ کو ناکام بنانے کیلئے پولیس اور فورسز نے مبینہ طور بلا اشتعال ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ مرکزی جامع مسجد پلہالن کے احاطہ میں سنیچر کے روز ایک پر امن احتجاجی جلسے کا اہتمام کیاجارہا تھا اور اسی دوران جب جلسہ میں شامل لوگوں نے مقامی مزار شہداء کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تو اچانک مین روڑ کے نزدیک کھڑی پولیس کی نصف درجن سے زیادہ گاڑیوں میں سوار پولیس اور فورسز اہلکار نیچے آئے اور انہوں نے اندھا دھند ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کچھ نو عمر لڑکوں سمیت 15افراد زخمی ہوئے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کرتے ہوئے پولیس اور فورسز اہلکاروں نے لوگوں کا پیچھا کیالیکن نوجوان پھر جمع ہوئے اور انہوں نے پولیس اور فورسز اہلکاروں پر سنگباری شروع کر دی۔ اس دوران مقامی مسجد کے لاوڈ اسپیکر سے اعلانات کئے گئے اور پھر بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس اور فورسز کی مبینہ بلا اشتعال کارروائی کے خلاف پلہالن پٹن میں مردوزن نے گھروں سے باہر آکرووسن آرمی کیمپ کی طرف مارچ شروع کیا لیکن واپسی پر پولیس نے اس راستے کو سیل کر دیا تھا جس کے بعد پھر ایک مرتبہ مشتعل نوجوانوں اور پولیس و فورسز کے درمیان جھڑپیں شرو ع ہوئیں ۔اس دوران مرگنڈ پٹن میں سنگ باری کا واقعہ پیش آ یا ہے ۔
بانڈی پورہ
بانڈی پورہ میں کابینہ وزیر کے قافلے پر سنگبازی کی گئی جبکہ ممبرا سمبلی کے مکان کو بھی خشت باری کا نشانہ بنایا۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مقامی ممبران اسمبلی کی رہائش گاہوں کے گھیرائو کی کال کے پیش نظر بانڈی پورہ میں لوگوں نے مقامی ممبر اسمبلی اور کانگریس لیڈر عثمان مجید وانی کے مکان کو گھیرنے کی کوشش کی تاہم عینی شاہدین کے مطابق وہاں پر تعینات فورسز اہلکاروں نے انکی اس کوشش کا ناکام بنا دیا۔نمائندے نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرورہ میں موجود عثمان مجید وانی کے مکان پر اس دوران نوجوانوں نے سنگبازی کی جبکہ وہاں پر موجود فورسز اہلکاروں نے ان مظاہرین کو منتشر کیا۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں فورسز اہلکار گھروں میں داخل ہوئے اور وہاں پر توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ مکانوں کی کھڑکیاں،دروازے اور شیشوں کو توڑ ڈالا۔ادھر حکمران جماعت پی ڈی پی کے سنیئر لیڈر اور دیہی ترقی کے وزیر ایڈوکیٹ عبدالحق خان کے قافلے پر ضلع کے صدر کوٹ بالا علاقے میں اس اس وقت شدید سنگبازی کی گئی جب وہ بانڈی پورہ میں جائزہ میٹنگ کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وزیر کا قافلہ جب صدر کوٹ بالا سے گزر رہا تھا تو ان پر قہر انگیز سنگبازی کی گئی جس کی وجہ سے وہاں زبردست افراتفری کا ماحول پیدا ہوا۔نامہ نگار نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر کی حفاظت پر معمور پولیس و فورسز اہلکاروں کے علاوہ سڑکوں پر موجودہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آوار گولوں کی برسات کی جبکہ طرفین میں ادھ گھنٹے تک گھمسان کی جنگ جاری رہی۔اس دوران فورسز نے پیلٹ بندوق کا بھی استعمال کیا جس میں عینی شاہدین کے مطابق4افراد زخمی ہوئے۔ادھر مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں فوج نے پہاڑ پر موجود ایک قبرستان کی بے حرمتی کی اور وہاں پر قبروں کی توڑ پھوڑ کی۔ادھر دیگر علاقوں میں جمعہ کے نسبت صورتحال مجموعی طور پر خوشگوار رہی۔ادھرنوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے مظاہرین پر سرینگر بانڈی پورہ شہرہ پر اجس کے مقام پر پولیس و فورسز اہلکاروں کی طرف سے داغے گئے نصب درجن شل پھٹنے سے علاقے میں سنسنی اور خوف و ہراس پھل گیا ۔عینی شاہدین کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ علاقے سے گزر رہے فورسز کے قافلے کی طرف سے سڑک پر رکاوٹیں ہٹائے جانے کے دوران پولیس و فورسز نے کئی شل داغے جس سے علاقے میں خوف وہراس اور دہشت پھیل گئی اور حالیہ گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے دور پر سڑکوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی۔
کپوارہ
 ہندوارہ کے کرچھ علا قے میں نوے دہائی طرز کے کریک ڈائون کے دوران30 نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق سنیچروار کی صبح تر سو نطوسہ کپواڑہ کی مقامی مساجد سے اعلان کیا گیا کہ علاقے میں سختی کیساتھ کریک ڈائون کیا گیا ہے لہٰذا کوئی بھی شخص اپنے گھر سے باہر نہ نکلے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس، فوج اور فورسز اہلکار چْن چْن کر بعض رہائشی مکانوں میں داخل ہوئے اور نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کا آغاز کیا۔اس موقعے پر اگر چہ لوگوں نے مزاحمت کی کوشش بھی کی اور علاقے میں احتجاج کے دوران شوروغل بپا کیا، تاہم فورسز 30نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ اس واقعہ کے بعد مقامی مردوزن کی ایک بڑی تعداد سڑ کوں پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔اس احتجاج میںتر سو نطوسہ اور اس کے ملحقہ علاقہ جات کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔عینی شاہدین کے مطابق ماسٹر غلام قادر گنائی ، غلام محمد گنائی ، اشفاق احمد گنائی ، غلام رسول گنائی ، ذاکر حسین گنائی ، رضوان احمد شیخ ، طارق احمد بٹ ، نظیر احمد گنائی اور 15سالہ فاروق احمد کو حراست میں لیا گیا جس کے بعد فورسز اور فوج نے دو درجن سے زائد مزید افراد کو گرفتار کیا۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ کریک ڈائون کے بعد علاقے سے کئی نوجوان لاپتہ ہوئے،جبکہ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ یا تو انہیں بستی سے باہر گرفتار کیا گیا یا وہ گرفتاریوں سے بچنے کیلئے علاقے سے فرار ہوئے۔
شوپیاں
شوپیاں میں اس وقت فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوئی فائرینگ کی جبکہ گرفتاریوں کے خلاف انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے مزاحمت کی۔نامہ نگار شوکت ڈار کے مطابق فورسز نے شوپیاں کے ہفت شرمال میں نوجوانوں کی گرفتاریوں کے خلاف شبانہ چھاپہ مار کاروائی شروع کی اور گھر گھر تلاشیاں لی۔عینی شاہدین کے مطابق8بجے کے قریب خواتین گھروں سے باہر آئی اور فورسز کی ان کاروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق اس دوران مساجد کے لوڑ اسپیکروں سے لوگوں کو گھروں سے باہر آنے سے متعلق اعلان کیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق اعلان کے ساتھ ہی لوگ گھروں سے باہر آکر جمع ہوئے اور احتجاج کرنے لگے۔عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے نامہ نگار نے کہا کہ فورسز نے لوگوں کمی بھڑ دیکھ کر انہیں منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے جبکہ لوگوں نے پولیس اور فورسز پر سنگبازی کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس دوران فورسز پر چہار طرف اس قدر سنگبازی کی گئی فورسز نے ہوا میں گولیاں چلائی۔اس دوران طرفین میں قریب ادھ گھنٹے تک سنگبازی وجوابی سنگبازی جاری رہی اور اس دوران فورسز نے ٹیر گیس کے گولے بھی داغے۔ادھر بعد میں فورسز اور پولیس علاقے سے چلی گئی۔نمائندے کے مطابق ہفت شرمال سے ایک کلو میٹر دور اچھن علاقے میں اس وقت2شہری جزوی طور پرزخمی ہوئے جب  ہوا سے کوئی ٹھوس چیز گر گئی اور وہ زخمی ہوئے۔اس دوران جھڑپوں کے دوران بھی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔اس سلسلے میں ایس ایس پی شوپیاں طاہر سلیم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فورسز کی طرف سے یہ تلاشی آپریشن تھا جو خوشگوار طریقے سے انجام پایا۔انہوں نے کہا کہ جب تلاشیوں کے بعد فورسز واپس آرہے تھے تو کچھ لوگوں نے فورسز پر پتھرائو کیا جبکہ فورسز نے ان کا تعاقب کیا،مگر کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔
اننت ناگ
 اننت ناگ میں مکمل ہڑتا ل کے بیچ بجبہاڑہ میں22اکتوبر1993کے قتل عام کی23 برسی کی مناسبت سے ایک ریلی نکالی گئی۔نامہ نگار ملک عبدالاسلام کے مطابق ریلی میں شامل شرکا ء نے اسلام آ زادی اور آزادی کے حق میں زوردار نعرہ بازی کی گئی جبکہ اس قتل عام میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا بعد میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مزار شہداء پر جاکر فاتحہ خوانی کی ۔بجبہاڈہ میں شام کے وقت فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھرپیں ہوئیں ۔عینی شاہدین کے مطابق گری ون کے نزدیک فورسز پر نوجوانوں نے خشت باری کی جبکہ پولیس اور فورسز اہلکاروں نے جواب میں ٹیر گیس کے گولے داغے۔
پولیس بیان
 پولیس نے وادی میں دن بھر کی صورتحال کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر اور دیگر قصبہ جات کی سڑکوں پر ٹریفک کی آمدرفت میں اضافہ ہوا۔پولیس کے صوبائی ہیڈ کواٹر کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق  سرینگر سمیت دیگر قصبہ جات میں دکان اور کاروباری مراکز بھی کھل گئے۔بیان میں کہا گیا کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدرفت اور راہگیروں کے عبور مرور کیلئے حساس علاقوں میں فورسز اور پولیس ہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔پولیس بیان کے مطابق گزشتہ شام کو ایک ٹیمو ٹرولر فاروق احمد کھانڈے ساکن اقبال کالونی عیدگاہ نے پولیس تھانہ صفا کدل میں رپورٹ درج کرائی کہ اس کی گاڑی پر اس وقت پیٹرول بم پھینکا گیا جب انہوں نے اپنی گاڑی گھر کے باہر کھڑی کی جس کی وجہ سے گاڑی کو نقصان پہنچا جبکہ پولیس نے اس سلسلے میں ایک رپورٹ درج کی۔