۔10سال سے کام کررہے نریگا ملازمین ڈٹ گئے

سرینگر //محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے برطرفی کے احکامات صادر ہونے کے باوجود ریاست بھر میںنریگا کے تحت تعینات کئے گئے ملازمین نے مستقل ملازمت کے حق میں اپنی کام چھوڑ ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ چھ ہزار روپے کی ملازمت سے برطرفی اُن کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔نریگا ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے نریگا اور دیگر محکمہ کی سکیموں میں کام متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے محکمہ نے ہڑتال پر گئے چند گرام سیوک روزگار وں کو برطرف کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔برطرفی کے معاملے کے بعد نریگا ملازمین نے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی دھمکی سے ڈرنے والے نہیں ہیں او ر ہمارا احتجاج حق جانب ہے ۔نریگا ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر سید جعفر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ایسی دھمکیوں سے وہ ڈرتے ہیں جن کی بڑی تنخواہیں ہوتی ہیں اور جن کو اپنا مستقبل برباد ہونے کی فکر ہو ، لیکن اُن کے 10سے 12قیمتی سال پہلے ہی برباد ہو چکے ہیں اور مستقبل کا بھی کوئی پتہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ2006سے  نریگا سکیم شروع ہونے کے وقت سے کام کر رہے ہیں اور اس بیچ محکمہ کی طرف سے انہیں بارہا یقین دہانیاں کرائی گئیں،تاہم عملی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور وہ ماضی کی جھوٹی یقین دہانیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار اپنی ہڑتال آدھے راستے میں ہی ختم نہیں کریں گے بلکہ اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا جس کیلئے وہ برطرفی کے احکامات اور دھمکیوں سے بے خوف ہیں ۔ جعفر نے کہا کہ پچھلے تین ہفتوں سے ملازمین کی ہڑتال جاری ہے اور اس بیچ ہم نے نہ صرف گورنر کے مشیر بی بی ویاس بلکہ سیکریٹری دیہی ترقی شیتل نندہ اور ڈائریکٹر دیہی ترقی سے بھی اس حوالے سے ملاقات کی ۔انہوں نے کہا کہ دیہی ترقی کے سیکریٹری نے انہیں یقین دلایا کہ اُن کے مطالبات پورا کرنے کیلئے ایک ماہ کے اندر اندر روڈ میپ تیار کیا جائے گا ۔تاہم نریگا ملازمین نے کہا کہ جب تک نہ ڈائریکٹر دیہی ترقی اس حوالے سے میڈیا میں کوئی بیان نہیںدیتے تب تک احتجاج جاری رکھا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ سال2016سے محکمہ دیہی ترقی کی سکیم منریگا کے تحت 4ہزار 5سو ملازمین تعینات کئے گئے اور ایسے ملازمین سے نہ صرف نریگا کے کام لئے گئے بلکہ ایس بی ایم ، پی ایم اے وائی اور محکمہ کے دیگر کام بھی لئے جاتے رہے ہیں۔ منریگا کے تحت کام کررہے عارضی ملازمین نے تین ماہ قبل ریاست بھر میںایک ماہ تک ہڑتال کی اور احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں جس کے بعد دیہی ترقی کے سابق وزیر عبدالحق خان نے عارضی ملازمین کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی نے اس پر کام ہی نہیں کیا کیونکہ ہڑتال ختم کرنے کیلئے ہی کمیٹی کو تشکیل دیا گیا تھا ۔ڈائریکٹر دیہی ترقی کشمیر قاضی سرور نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ نریگا ملازمین کے مسائل ہیں اور اُن کی مانگ ہے کہ چونکہ انہیں محکمہ میں کام کرتے ہوئے 10سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے اس لئے رہبر تعلیم اور دیگر عارضی ملازمین کی طرز پر انہیں بھی محکمہ میں ضم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ا س حوالے سے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو دستیاب متبادل کے ساتھ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ نریگا ملازمین کے مسائل کیسے حل کئے جا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نریگا ملازمین کے مسائل کے حل کے تئیں سنجیدہ ہے ۔