۔10برسوں میں 15000سے زائد فورسز اہلکار مستعفی

نئی دہلی //گزشتہ ایک دہائی کے دوران نیم فوجی دستوں سے وابستہ81ہزار اہلکاررضاکارانہ طور پر سبکدوش ہوئے ہیں جبکہ 15000سے زائد مستعفی ہوگئے ہیں۔رضا کارانہ طور پر نوکری چھوڑنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد2017میں ریکارڈ کی گئی جو 11ہزار کے قریب رہی۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2011سے2020کے درمیان 15,904اہلکار اپنے متعلقہ یونٹوں سے مستعفی ہوئے جن میں سب سے زیادہ تعداد 2013 میں تھی جب2,332اہلکار مستعفی ہوئے۔ ابھی تک وزارت داخلہ کی طرف سے بڑے پیمانے پر سبکدوشی یا مستعفی ہونے کی وجوہات کے بارے میں کوئی مخصوص مطالعہ نہیں کیا گیا ہے البتہ عہدیدار کے مطابق فورسز کی طرف سے خود کئے گئے تجزیہ کے مطابق س اس میںا ذاتی ،خاندانی ، طبی اور بہتر مستقبل کے مواقع کی وجوہات شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق نیم فوجی دستوں میں سی آر پی ایف، بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، ایس ایس بی، سی آئی ایس ایف اور آسام رائفلز شامل ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق 2011سے متذکرہ فورسز کے81,007اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لی۔ سب سے زیادہ 36,798بی ایس ایف کے اہلکار گزشتہ ایک دہائی کے دوران رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوئے ۔ اس کے بعد سی آر پی ایف کے 26,164  اہلکار،سی آئی ایس ایف کے6,705،آسام رائفلز کے4,947اہلکار، ایس ایس بی کے3,230اہلکار اور آئی ٹی بی پی کے3,193اہلکار شامل ہیں۔ گزشتہ 10برسوں میں نوکری چھوڑنے والے15,904اہلکاروں میں سب سے زیادہ CISFکے 5,848، اس کے بعدBSFکے3,837، CRPFکے3,366، ITBPکے1,648، SSBکے1,031اور آسام رائفلز کے174اہلکار شامل ہیں۔رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لینے والوں میں 2017میںسب سے زیادہ 11,728اہلکار جبکہ 2011میں11,260اہلکار شامل ہیں۔ 2012میں یہ تعداد10,859، 2013میں9,355، 2014میں5,931، 2015میں1,686اور2016میں6,981اہلکار شامل ہیں۔ گزشتہ دہائی کے3برسوں میں 2018میں8,132نے VRS،2019میںکل7,611اور 2020میں5,935اہلکار شامل ہیں۔ 10برسوں کے دوران کل15,904اہلکارمستعفی ہوئے جس میں سب سے زیادہ یہ فیصلہ لینے والے2013میں2,332اہلکار، 2015میں2,026، 2014میں1,931، 2012میں1,768، 2018میں 1,673، 2017میں1,535، 2019میں1,364، 2016میں1,144، 2011میں1,122اور 2020میں877اہلکار شامل ہیں۔ 6نیم فوجی دستوں کی کل طاقت قریب 10لاکھ اہلکاروں پرمشتمل ہے۔