۔ 5جنوری 2018 کا سانحہ | جب سادھنا ٹاپ پر 11افراد برفانی تودے کی زد میں آکر لقمۂ اجل بن گئے

کرناہ //5جنوری 2018کو برفانی تودے کی زد میں آکر ہلاک ہونے والے کرناہ کے 11افراد کی یاد میں آج کرناہ میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں لوگوں نے اس سانحہ میں لقمہ اجل بن جانے والے افراد کیلئے حق میں دعا مغفرت کی۔معلوم رہے کہ 5جنوری 2018کو سرحدی ضلع کپوارہ میں یکے بعد دیگرے تین بھاری برفانی تودوں کی زد میں آکر 11 افراد ہلاک اور دس سالہ بچے سمیت دو افراد زخمی ہوئے تھے ۔ مرنے والوں میں چار خواتین اور ایک شیر خوار بچی شامل تھیں ۔یہ افراد 12ہزارفٹ بلندی پر واقع سادھا ٹاپ پہاڑی دھرے کے بیچوں بیچ سڑک سے سومو گاڑیوں میں گزر رہے تھے کہ اس بیچ برفانی تودہ لڑھکتا ہوا آیا اور یہ اس کے نیچے دب گئی۔ اس واقعے سے تھوڑی دیر پہلے ایک اور برفانی تودے کی زد میں آکر بھارتی فوج سے منسلک بارڈر روڑز آرگنائزیشن کے پروجیکٹ بیکن کا ایک جونیئر انجینئر ہلاک ہوگیا تھا ۔اس حادثہ کے بعد کرناہ میں احتجاجوں کا دور شروع ہوا اور لوگوں کا یہ مطالبہ تھا کہ کرناہ کپواڑہ شاہراہ پر ایک ٹنل تعمیر کی جائے اس کیلئے کرناہ میں ٹنل کوڈی نیشن کمیٹی بھی بنائی گئی جس کی قیات میں نوجوان ہر روز سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہوئے دیکھے گے ۔ٹنل کے معاملے پر کافی سیاست بھی ہوئی ،لوگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ جو بھی سرکار ان کے دیرینہ معاملے کو حل کرے گی اس کا ساتھ کرناہ کے لوگ دیں گے، اس کیلئے نہ صرف سابق قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں اوازیں بلند ہوتی رہیں ،بلکہ ایک وفد بھی دہلی پہنچا اور مرکزی سرکار کو اس کے متعلق آگاہ کیا لیکن اس جانب کوئی بھی توجہ نہیں دی گئی، جبکہ بیکن نے بھی 6.7کلو میٹر ٹنل کی تعمیر کے حوالے سے ایک مفصل پروجیکٹ رپورٹ بھی تیار کی تھی لیکن اس رپورٹ کو بھی دیکھ کر ان دیکھا کر دیا گیا ۔اب مرکزی سرکار نے اس کی خامی بھر لی ہے اور ٹرانسپورٹ کے مرکزی وزیر نے جموں وکشمیر کے دورے کے دوران یہ یقین دلایا کہ 13سو کروڑ روپے کی لاگت سے کرناہ کپواڑہ شاہراہ پر ٹنل تعمیر کی جائے گی اور اس کا ڈی پی آر مارچ 2022تک مکمل ہو گا ۔لوگوں نے مرکزی سرکار کے اس اعلان کا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جشن منایا ہے اور اب دیکھا جا رہا ہے کہ کیا مارچ میں ڈی پی آر مکمل ہو گا یا نہیں ۔ معلوم رہے کہ کرناہ کپوارہ شاہراہ پر واقع نستہ چھن گلی 12ہزار فٹ کی بلندی پر ہے اور سرما کے موسم میں اس درے پر 12سے15فٹ برف جمع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے لوگ سرما کے دوران پوری دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں، ایسے میں نہ صرف مریض طبی امداد نہ ملنے کے سبب ایڑیا ںرگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتے ہیں بلکہ علاقہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہو کر رہ جاتاہے ۔نستہ چھن گلی جسے سادھنا ٹاپ بھی کہا جاتا ہے ، کے خطرناک درے سے گذرنے کے دوران ابھی تک کرناہ کے قریب 200افراد برفانی تودوں کی زد میں آکر لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہر سال یہ شاہراہ کرناہ کے لوگوں سے قربانی مانگتی ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کرناہ کے لوگوں کا یہ مطالبہ 20برسوں سے رہا ہے کہ شاہراہ پر ٹنل تعمیر کیا جائے کیونکہ اس کی تعمیر سے یہاں نہ صرف تعمیر وترقی ہو گی بلکہ پورے سال لوگوں کی آمد ورفت بھی آسان ہو گی۔کرناہ میں بدھ کو مختلف علاقوں میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوئے جس میں لقمہ اجل بن گئے افراد کے لواحقین کے حق میں دعا مغفرت کی گئی اور ان کی جنت نشینی کیلئے دعا کی گئی ۔