۔ 47غیرقانونی ترامیم سے دفعہ 370 محض کھوکھلا ہو گیا :بار ایسوسی ایشن

 سرینگر// جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مضحکہ خیز طریقے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے ذریعے ریاست کی قانون سازیہ میںوزیر خزانہ کی طرف سے جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کیلئے بھارتی قانون میں تبدیلی لاکر بل پاس کوپاس کیا گیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرانا چاہتی ہے کہ دفعہ 370کو 47غیرقانونی ترامیم  سے محض خالی شیل بنایا دیا گیا ہے  جہاں آئین ہند کی 395دفعات میں سے 260دفعات،وفاقی لسٹ میں 97میں سے 94 اورکنکرنٹ لسٹ میں سے 47میں سے 27 کو مختلف سرکاروں نے غلط طریقے سے جموں و کشمیر پر نافذ کیا گیا ہے ۔  بار ایسوسی ایشن لوگوں کو بتانا چاہتی ہے کہ دفعہ 370کو بھارتی سرکار نے ہمیشہ سے ہی غلط طریقے میں استعمال کیا ہے جس کی تصدیق سابق وزیر داخلہ گلزاری لال نندا نے 4دسمبر 1964کو کہا تھا کہ لوگوں کو دفعہ 370کی بات نہیں کرنی چاہئے جس کے ذریعے بہت سے ٹریفک پاس ہوا ہے اور مستقبل میں بھی پاس ہوتا رہے تھا۔  بار ایسوسی ایشن نے بتایا کہ بی جے پی نے پی ڈی پی کو صرف مختلف سرکار میں ایک سونچی سمجھی پالیسی کے تحت حمایت دی ہے کہ وہ نہ تو سیلف رول اور نہ ہی وہ دفعہ 370کو اصلی حیت میں نافذ کرنے کی بات کریگی اور حکومت کے نشے کیلئے ہی بھی ڈی پی نے دنوں اسمبلی کے اندر اور باہر  بی جے پی کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ لوگوں کو اس نازک مرحلے میں مل جل کر پی ڈی پی اور بی جے پی کا مقابلہ کرنا چاہئے اور لوگوں کو اقوام متحدہ کے قراردادوں کو عملانے کی مانگ پر قائم رہنا چاہئے تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو آزادی کا حق دیا جائے۔بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ حصول آزادی تک علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے دئے گئے پروگراموں کی حمایت کا اعلان کرے گا۔ بار ایسوسی ایشن نے 8جولائی 2017سے لیکر 13جولائی 2017تک دئے گئے احتجاجی پروگراموں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔