۔ 4 ستمبر:عالمی یومِ حجاب

 آج  دنیا بھرمیں ایک ایسے پُرآشوب وقت میں حجاب ڈے منایا جارہاہے جب گلوبل سطح پر مسلمانوں کے عقائد، تہذیب، تمدن ، رہن سہن اور خور دونوش وغیرہم پر کہیں اسلام سے ناواقف لوگ اور کہیں بدباطن اور بددماغ عناصرانگلیاں اٹھارہے ہیں اور مسلم بیزار فتنوں کی آگ سلگا رہے ہیں ۔ خاص کر مادرپدر آزاد تہذیب کے دلدادی مغر بی اور یو رپی ممالک میں نہ صر ف اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس بلکہ مساجد ،اسلامی مراکز، لباس اور حجاب کو نشانہ ٔ تضحیک بنا رہے ہیں۔مغر ب اور یورپ میں آسٹر یلیا سے لے کر آر جنٹا ئن تک اور فر انس سے لے کر سویزر لینڈ تک مسلمانوں کو ان حوالوں سے کئی گھمبیر مسائل کا سامنا ہے ،انہیں راہ چلتے نہ صرف طنز وطعن کا نشانہ بننا پڑتا ہے بلکہ ہر طر ح کی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے، نیز روز مرہ کے کاموں ،سفر کے دوران اور آ فس اور کارگاہوںمیں ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک ہوتا ہے ۔زیادہ تر مسلم خواتین حجاب اور برقعہ پہننے کی وجہ سے اسلامو فوبیا کی شکار ہو تی جارہی ہیں۔ آزاد خیال اور وسیع القلب مانے جانے اہل مغرب مسلم حجاب کو کس نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،اس کے لئے یہ المیہ ایک چشم کشا حقیقت رکھتا ہے ۔۲۰۱۳ ء میں ایک ۲۱ ؍سالہ با حجاب حاملہ خاتون پر شدیدحملہ کیا گیا ،د و مردوں نے اس کا اسکارف تارتارکر لیا، اس کے بال کٹوائے، پھر اس کی پیٹ پر اتنی بے دردی سے لاتیں ماریں کہ اس کا حمل گرکربچہ ضا ئع ہو گیا۔ (Huge rise in Islamophobia Crime in Europe,News week,May 10,2015.)
اس قسم کے حجاب مخالف بہت سارے وحشیانہ قصے دیارِ مغرب میں رقم ہوتے جارہے ہیں ۔ چنانچہ بہت سا ری حجاب والی مسلم خواتین اپنے ساتھ ظلم و زیادتیوں کی ایسی داستان الم سناتی ہیں کہ قلم کو بیان کر نے کا یارا نہیں۔لندن میں حال ہی میں ایک با حجا ب مسلم لڑ کی کو بھر ی ٹر ین میں نسلی تعصب اور حجاب کے سبب حملے کا نشانہ بنا یا گیا۔ لندن سے ہی ایک خاتون سارا خان کہتی ہیں کہ مجھ پرا سکارف پہننے کی وجہ سے سرراہ حملہ کیا گیا۔ابھی چند دن پہلے امریکی شہر واشنگٹن میں ایک مسلم عورت کے ساتھ انتہائی شرمناک تذلیل کی گئی۔ ہارورڑ یونیورسٹی کی  ایک طالبہ زینب مرچنٹ کو ائر پورٹ پر تلاشی کے دوران اپنے خصوصی ایام میں استعمال کئے جانے والے پیڈز تک دکھانے کا مطالبہ کیا گیا اور زبردستی اس کے انڈر گارمنٹس بھی اُتارے گئے۔
    مسلمانوں کی حالت اور مساجد پر نظر رکھنے والی ہیلپ لائن’’ ٹیل ماما‘‘ کے مطابق مسلم خواتین حجاب میں ہونے کی وجہ سے نفرت پر مبنی حملوں کی شکار ہو رہی ہیں۔برطانیہ میں نسلی حملوں کی شکار زیادہ تر مسلم خواتین اور لڑکیوں نے روایتی اسلامی لباس پہن رکھے تھے ۔ان خواتین پر زیادہ تر حملے بس،ٹرین اور عوامی مقامات پر کئے گئے۔نومبر ۲۰۱۵ء میں پیرس میں حجاب مخالف حملے کے بعد سے صرف ۱۰؍ دنوں میں ۳۴ ؍خواتین اور بچیوں کو حجاب پہننے کی وجہ سے مار کٹائی کانشانہ بنایا گیا۔ا سی تسلسل میں سو یزر لینڈ میں مسلم خواتین کو برقعہ اور نقاب پہنے پر پابندی عائد کی گئی ۔اس قانون کی خلاف ورزی کر نے پر ۶۵۰۰ ڈالرکا جرما مانہ عائد کیا جاتا ہے۔
    یورپ میں لگ بھگ ہر جگہ حجاب کوــ’’ تہذیب دشمن‘‘ مانا جانا جاتا ہے ۔ وہاں حجاب کو دقیا نوسیت ، زمانہ جہالت کی یاد گاراور تنگ نظری کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ بات اتنی ہی نہیں بلکہ حجاب مخالف عناصر آگے بڑھ کر مسلم خواتین کو کھلے عام سڑکوں ، چوک چوراہوں اور اسٹیشنوں پر تذلیل کرتے ہیں اور مسلم خواتین کو ظلم و تشد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات مغرب اور یورپ میں تقریباً روزرونماء ہوتے رہتے ہیں۔نیدر لینڈ یورپ کا پہلا ملک ہے جہاں برقعہ استعمال کرنے پر بین عائد کی گئی اور اس قانون کا نفاذ ۲۰۰۵ ء میں ہوا ۔ اس کے بعد بلجیم نے بھی برقعہ اورحجاب پر قانونی ممانعت عائد کر دی ۔ انہی کی دیکھا دیکھی میں آسٹریلیا اور ڈنمارک نے بھی حجاب اور برقعہ کو اپنے ملک کے لئے’’ خطرہ‘‘ قرار دیا ہے ۔ 
۲۰۰۰  ء میںسے فرانس مسلسل حجاب کے خلاف زہر اُگل رہا ہے اور ۲۰۰۴میں اس نے باضابطہ حجاب مخالف خلاف قانون پاس کیا ۔پورپ کے کئی ممالک میں بد باطن عناصر کے ہاتھوں حجاب کو جلانے اور پاؤں تلے روندنے کے واقعات بھی چشم فلک نے آج تک دیکھ لئے ۔ اس سلسلے میں مغرب میں علی الخصوص ناموس ِزن کو پامال کروا نے والے فتنہ پرور مفکرین ، صحافی اوردانش ور رائے عامہ گمراہ کر تے جارہے ہیں، مثلاََمارکس کروگر نام کا ایک صحافی کا کہنا ہے کہ "The headscarf is a symbol of the fact that women in islam are scond class citizens  and that this status is encoded in both sacred text and tradition ,enforced by law and culture "
  اسلام نے عورت کو تعلیمی ، تہذیبی ، معاشی اور معاشرتی حقوق سب سے زیادہ عطا کئے ہوئے ہیں ۔ دین حق نے عورتوں پر وہ عظیم احسانات کئے جن کی دنیا کے کسی بھی دین دھرم ، عقیدے ، نظریے ، تہذیب اور کلچر میں مثال نہیں ملتی ۔ اس نے مردوں اور عورتوں پر اُن تمام انعامات کی یکساں بارشیں کی ہیں جن کی بدولت گھر گرہستی کی گاڑی بڑے سکون وآرام سے چلتی ہے ۔ اسلام نے عورتوںکے نہ صرف حقوق متعین کئے ہیں بلکہ ان کے تشخص اور تعظیم کو بلندی بخشی ،ان کو ملک وملت اور قوم و معاشرے کیلئے اپنے فطرت و صلاحیت کے مطابق مرد کا معاون و مددگار بنا دیا ۔اسلام نے عورت کو وہ اونچامقام ومرتبہ دیا جودنیا کے کسی اور مذہب یا نظریہ نے نہ دے سکا ۔اسلام نے عورت پر بے شمار احسانات کئے اور انہیں فخر سے جینے کا سلیقہ عطا کیا ، ان کی عفت وپاکیزگی کی حفاظت کے لئے پردہ جیسی عظیم نعمت سے نوازا تاکہ یہ ا ن کی پہچان اور تعارف کا عنوان بھی بنے اور تکریم وتحفظ کا سامان بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ پردے اور حجاب میں رہ کرمسلم خواتین کی حقیقی زیب و زینت جہاں دوبالا ہوئی ، وہیں انہوں نے مختلف میدانوں میںا پنے بے پناہ کنٹربیوشن سے تاریخ انسانیت پر گہرے نقوش ثبت کئے ۔ حجاب اور اس کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لئے چند سال پہلے اسلامی تحریکات اور علماء کونسل نے علامہ یوسف القرضاوی دامت برکاتہم کی صدارت میں ایک تاریخی فیصلہ لیا گیا جس کے مطابق ہر سال ۴؍ ستمبر کو انٹرنیشنل یوم حجاب منایا جاتاہے ۔ واضح رہے حجاب کوئی فیشن یا رسمی چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی غیر اسلامی تہذیب یا شاکلے کے خلاف اعلان ِجنگ کی علامت ہے ۔حجاب مسلم خواتین کے لئے شرم وحیاء کی ضمانت اور بقا ئے عفت کا دینی اہتمام ہی نہیں بلکہ یہ زیرحجاب مسلم عورت کے اعلیٰ کردار کاآئینہ دار ہوتا ہے ۔اس کا مقصد صرف عورت کی جسمانی ساخت اور اس کے پوشیدہ اعضاء کو ڈھانپا جانا ہی نہیں ہے بلکہ یہ خواتین کو مریض ذہنیت والے مردوں کی بد نگاہی اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھنے کاا یک وسیلہ بھی ہے ۔ حجاب باایمان عورت کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے جس سے اس کے فخر و اعتماد اور حقیقی خوبصورتی کا اظہار ہوتا ہے ۔حجاب عورت کو تمام فاسد عناصر اور گندے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اس کے برعکس ننگا پن اور بے حجابی کو عزت یا ترقی کی نہیں بلکہ تنزل کی علامت ہے اور یہ اخلاقی فساد ،سماجی بگاڑ اورغیرت وحمیت کی نیلامی کا مظہر ہیں ۔ ننگا پن اور بے حیائی اگر ’’ترقی‘‘ کی علامت ہے تب تو جانور انسانوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں ۔ ـ حجاب کسی بھی مسلمان خاتون کی بہتر اخلاقی تربیت اور اسلامی فکر و تہذیب کے ان اعلیٰ اقدار کو ظاہر کرتا ہے جنہیں انسان نے اللہ سے بوساطت پیغمبرآخرالزمان ؐ حاصل کیا ۔ یاد رکھئے مسلم عورت کا بیرونِ خانہ حجاب اور اندورن خانہ سر چادر اوڑھنا کسی زوال، غلامی یا قدامت پسندی کا اظہار نہیں بلکہ یہ اس کے عروج وارتقاء کا ضامن ہے، جب کہ عریانیت برہنگی اور بے حیائی تنزلاور بازاری پن کا کھلا اشتہار ہے۔ آیئے آج کے رو زہم یہ تجدید عہد کر یں کہ ہم اپنی ماں بہن بیٹی کی تعظیم اور تکریم میں اور حیا باختہ زمانے کی بدنگاہی سے انہیں بچانے کے لئے حجاب کی پاکیزگیاں عام کر نے کا بیڑہ اٹھائیں ، بالکل اُسی طرح جیسے مغرب ومشرق میں ملت کی بیٹیاں تمام خطرات، خدشات اور شبہات کو نظر انداز کر کے مشکل ترین حالات میں بھی حجاب کو بدرجہ ٔ عبادت اختیار کر لیتی ہیں ،تا کہ وہ سماج میں شو پیش نہیں بلکہ معلم ِاخلاق اور زینت ِ دہر کے طور اپنا منفرد وجود منوائیں ۔ 