۔ 35اے سوالات و خدشات

 نوٹ :اس مضمون میں معروف کالم نگار اور سول سوسائٹی کے نامور رکن عبدالمجید زرگر صاحب نے اُن سوالات کا جواب دینے کی بھر پور کوشش کی ہے جو عوامی حلقوں میں دفعہ 35 A ؍کے بارے میںاکثر وبیشتر پوچھے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں میں پوچھے جا رہے ان سوالات کا مدلل جواب زرگر صاحب نے’’ گریٹر کشمیر‘‘  کے شمارہ 28؍ اگست 2018میں شائع ایک مضمون میں دینے کی قابل قدر کوشش کی ہے اور وضاحتاً لکھا ہے کہ سوالات و جوابات کے اس سلسلے کا سبب ومحرک کیا بنا۔موصوف کا ماننا ہے کہ عوامی حلقوں میں دفعہ 35 A؍کے بارے میں بعض غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جنہیں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس اہم  انگریزی تحریر کا اردو ترجمہ نذرِ قارئین کیا جارہاہے ۔ نوٹ فرمائیں کہ مترجم نے جہاں جہاں ضرورت محسوس کی ،وہاں کالم نگار کے نقطہ ٔ نظر کی تشریح کے لئے کچھ اضافی جملے اپنی جانب سے قلمبند کئے ہیں  ( ڈج ا)
سول سوسائٹی KCSDSکی جانب سے دفعہ 35 Aکے ضمن میں عوامی حلقوں کو روشناس کرانے کی مہم کے دوران اولاً مشاہدہ کیا گیا کہ اس دفعہ کے بارے میں بعض غلط فہمیاں موجود ہیں جو ایک تو ناواقفیت کی پیداوار ہیں ،ثانیاََ حقائق سے عاری خدشات کہیں کہیں عوامی سوچ پہ حاوی ہو گئے ہیںاور یہ غلط فہمیاںاور خدشات اکثر و بیشتر نو جوانوں میں پائے گئے جن کا ازالہ اِسی صورت میں ممکن ہے کہ غلط فہمیاںو خدشات جو سوالات کی صوررت میں سامنے آئے اُن کے جوابات سوال و جواب کے ایک سلسلے میں اُجاگر کئے جائیں:
سوال: کیا یہ دفعہ ریاستی عوام کو خصوصی حقوق فراہم کرتی ہے جب کہ یہ بھارتی عوام کو خصوصی حقوق سے محروم کرتی ہے؟
جواب: نہیں، قطعی نہیں ،دفعہ 35 A ریاست عوام کو خصوصی حقوق فراہم نہیں کرتی بلکہ یہ ریاست کے موروثی باشندوں کو اُس قانون کے تحت تحفظ فراہم کرتی ہے جس کا ڈوگرہ شاہی کے دوران 1927ء میں اجرا ء ہوا ۔بھارتی عوام کا ایک مخصوص حصہ اسے’’ عدم مساوات‘‘ کے اصول پہ جانچتے ہیں اور بہ الفاظ دیگر اسے اپنی ’’حق تلفی ‘‘مانتے ہیں لیکن حق تلفی وہی مانی جائے گی جہاں پہلے سے کسی کو حق حاصل ہوا ہو جسے بعدازاں چھینا جارہاہو، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی عوام کو ریاست جموں و کشمیر میں یہ قانونی حق کبھی حاصل ہی نہیں رہا ہے کہ وہ ریاست میںسکونت اختیار کر کے غیر منقولہ جائداد اپنے نام کر سکیں،لہٰذا یہ خیال کہ بھارتی عوام کو اس دفعہ کی رُو سے حقِ ملکیت سے محروم کر دیا گیا ہے ،کوئی معنی نہیں رکھتا۔
عبدالمجید زرگر صاحب کے اس معقول جواب کے اضافے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ 1927ء سے پہلے بھی جب فرنگی راج ملک میںقائم تھا اور ہندوستان کو برٹش انڈیا کہا جاتا تھا تب بھی کشمیر میں فرنگیوں کو نہ ہی ریاست میں مستقل سکونت کی اجازت تھی نہ ہی وہ غیر منقولہ جائداد رکھ سکتے تھے۔ لہٰذا عارضی سکونت کے دوران انگریز ہاوس بوٹس میں رہتے تھے اور یہ سلسلہ  1927ء سے بہت پہلے جاری تھا ۔حالانکہ کشمیر  کو انگریزوں نے ہی ڈوگرہ شاہی کو بخشا تھا ،جب کہ اپنی مطلق العنانی کے دور میں فرنگی سرکار کچھ بھی کر سکتی تھی۔پرتاب سنگھ کے دور میں جب انگریزوں نے چاہا تو مہاراجی اختیارات کے پر کاٹنے کی نیت سے ایک رولنگ کونسل وقت کے مہاراجہ کے سر پر سوار کر دی گئی (جو اُن کے بھائی  امر سنگھ کی سرکردگی میں انگریزوں کے اشاروں پہ کام کرتی رہی) اورکئی سال منت سماجت کر نے کے بعد پرتاب سنگھ کا راج بحال کر دیا گیا۔
سوال: یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ دفعہ 35 A؍ہمیں نئے حقوق یا پہلے سے ہی موجود حقوق کا تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ اس کے برعکس کیا ہماری مانگ یہی نہیں ہونی چاہیے کہ اس دفعہ کو کسی بھی صورت میں کالعدم قرار نہ دیا جائے؟
جواب: نہیں: کسی مسٗلے کو اُس کے صحیح تناظر میں جانچنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا کہ اصل مسئلے کے خد و خال کی جانچ ! آج جہاں بھارتی عوام کو یہ پٹی پڑھائی جاتی ہے کہ یہ اُن کاقانون اساسی ہے جو ریاستی عوام کو خصوصی مراعات سے نوازتا ہے ،وہاںوہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان آئینی مراعات کو ختم کرنا اُن کے دائرہ اختیار میں ہے لیکن جب بھارتی عوام پر واضح کیا جائے کہ ریاستی عوام کو ان قانونی حقوق اورتحفظات سے بھارتی آئین نے نہیں نوازا بلکہ یہ حقوق ریاستی عوام کو 1927ء میں بنائے ہوئے قوانین کے تحت حاصل رہے ہیں اور یہ بھارت کے قانون اساسی نے پہلے سے بنے ہوئے قوانین کے تحفظ کی ضمانت دی تو مسٗلے کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے جو مخالفین کا عندیہ بدلنے پہ منتج ہوتا ہے۔
عبدالمجید زرگر صاحب کے انتہائی معقول جواب کے اضافے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاستی عوام اور بھارتی عوام کے درمیان خواہ مخوہ کی غلط فہمیاں پیداکرنے میں دائیں بازو کے انتہا پسند زعفرانی سیاست دان اور اُن سے بڑھ کر بھارتی نام نہاد قوم پرست میڈیا نے جو منفی رویہ اپنایا ہوا ہے ،وہ ریاستی عوام سے کہیں زیادہ بھارتی عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔مسائل اور حقائق کو اُن کے صحیح سیاق وسباق میں پیش کرنے کے بجائے پروپگنڈا مشینری سے جھوٹ اور افتراء بازی سے تعمیر کی گئی کسی بھی عمارت کا دیر یاسویر گرنا یقینی امر ہوتا ہے ۔ بھارت کے سنجیدہ فکر حلقے جن کی سمجھ بوجھ زائل نہیں ہوئی ہے، اس امر واقع کو سمجھ بیٹھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں کئی معروف تجزیہ نگار اور کالم نویس دفعہ 35 A کے دفاع میں سامنے آ ئے ہیں۔
سوال: جب یہ قوانین ہمارے خود ساختہ تھے تو بھارتی آئین کو ان کے تحفظ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
جواب: جب  1952ء کے دہلی ایگریمنٹ کے دوران ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی آئین میں موجود بنیادی حقوق کے اطلاق کا مسلٔہ زیر بحث آیا تو ظاہر ہے کہ ریاست میں موروثی باشندوں کی مستقل اِقامت، غیر منقولہ جائداد کا حصول اورحصول معاش جیسے حقوق پہ سوالیہ نشان لگنے کے امکانات سامنے آئے۔ چونکہ بھارتی آئین کے بنیادی حقوق کے رُوسے شہر یوں میں مساوی حقوق میں کوئی بھی تفریق وامتیازنہ برتے جانے کا اصول واضح الفاظ میں موجود تھا جس کی متحمل اپنی خصوصی پوزیشن کی روشنی میں ریاست جموں و کشمیر نہیں ہوسکتی تھی ،ایسی صورت حال میں جموں و کشمیر کے نمائندگان نے سٹیٹ سبجکٹ قوانین جو کہ 1927ء سے نافذالعمل تھے، بھارتی آئین کے تابع بنانے سے انکار کیاکیونکہ خدشات یہ محسو س کئے جاتے تھے کہ بھارت کے طول و عرض سے دولت مند لوگ زمین جائداد اور غیر منقولہ املاک خرید خرید کر ریاست کے مستقل موروثی وپشتینی باشندوں کو اقلیت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔پنڈت نہرو نے ریاست کے ان  معقول خدشات کو قبول کرتے ہوئے بھارتی پارلیمان میں ریاستی نظریے کا دفاع کیا ۔بھارتی وزیر اعظم نے ریاستی نمائندوں سے یہ وعدہ کیا کہ وہ بھارتی آئین میں ایک ایسے قانون کو معقول جگہ دیں گے جس سے ریاستی عوام کے موروثی حقوق کو تحفظ فراہم ہو سکے ۔ اسی
 قول وقرار اور سیاسی سوجھ بوجھ کے نتیجے میں دفعہ 35-A کا تصور اُبھر آیا۔  
 جناب عبدالمجید زرگر صاحب کا جواب ٹھوس تاریخی شواہد پہ مبنی ہے۔ چونکہ دلی ایگریمنٹ کے دوسرے پیراگراف میں اس حقیقت کا تفصیلی ذکر موجودہے۔ اِس میں یہ ذکر ہوا ہے کہ’’ دو سرکاروں ( گورنمنٹ آف انڈیا اور گورنمنٹ آف جموں و کشمیر) کے درمیان اس معاملے میں باہمی موافقت پائی جاتی ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 5کے بموجب ریاست جموں و کشمیر کے باشندگان کو بھارتی شہری مانا جائے گا، البتہ ریاستی قانون سازیہ کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ریاستی باشندگان(state subjects)کو 1927اور 1932ء کے اعلانات (Notifications)کو مد نظر رکھتے ہوئے خصوصی حقوق و مراعات سے نوازنے کے لئے قانون سازی کرے ۔ریاستی قانون سازیہ کو یہ حق بھی حاصل ہو گا کہ وہ اُن ریاستی باشندگان کے لئے بھی قانون سازی کرے جو 1947ء میں فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے پاکستان منتقل ہوئے ،بشرطیکہ وہ واپس کشمیر چلے آئیں۔‘‘قارئین محترم !یہ امر ملحوظ نظر رہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں ریاست کے مستقبل باشندگان کے خصوصی حقوق و مراعات کا اعلان پہلی دفعہ مورخہ 20اپریل 1927ء کو زیر Notification No. I-L/84ہوا ۔ بعدازاں 27 جون  1932ء کوایک اور اعلان زیر   Notification No. 13/L   ہوا۔اس  کی رُوسے صرف اور صرف ریاست کے مستقل پشتینی باشندوں کو بلا شرکت غیرے ریاست میں اقامت ، ملازمت اور غیر منقولہ جائداد کے حصول کا حق ملا۔
سوال: اگر اس دفعہ کا وجود 1952ء میں سامنے آیا تو اعلان دو سال کی تاخیر کے بعد 1954ء میں کیوں ہوا؟
جواب:  1952ء میں یہ تصریحی قانون منظر عام پہ آنے کے بعد دہلی کی نہرو سرکار چاہتی تھی کہ ریاستی عوام کے حقوق و مراعات کی تصدیق سے پہلے شیخ عبداللہ جموں و کشمیر کی آئین سا ز اسمبلی میں الحاق کی تصدیق کروائیں ، جب کہ شیخ عبداللہ یہ چاہتے تھے کہ الحاق کی تصدیق سے پہلے جملہ طے شدہ اُمور پہ کھلا بحث ومباحثہ ہوبلکہ اُنہوں نے بھارت سے تعلقات کی نہج پہ کئی کمیٹیاں بنائیں۔ اس سے شیخ کی نیت کے تعلق سے شک میں ڈوبے ہوئے پنڈت نہرو اپنے جذبات و محسوسات کو قابو میں نہ رکھ سکے اور اگست 1953 ء میں شیخ عبداللہ کے قید وبند پر جکڑدیا گیا۔انجام کار مشروط الحاق کی تصدیق فروری 1954ء میں ہوئی اور مئی 1954 ء میںدفعہ35-A  آئین ہند کا حصہ بن گئی۔
سوال: کیا ریاستی خواتین کی شادی بیاہ کسی غیر ریاستی باشندے کے ساتھ ہونے کی صورت میں وہ ریاست میں اپنی قانونی جائداد کے حصول کا حق کھو دیتی ہیں؟
جواب: نہیں،کسی بھی صورت میں نہیں۔اس کا فیصلہ ریاستی ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اکتوبر2002ء میں کیا تھا جب کہ سوشیلا ساہنی بنام ریاستی سرکار کے کیس کی سنوائی ہو رہی تھی۔ عدالت عالیہ سے یہ فیصلہ صادر ہوا کہ کوئی بھی ریاستی خاتون جو ریاست میں مستقل سکونت کی  قانونی حق دار ہو، کسی غیر ریاستی باشندے کے ساتھ شادی کی صورت میں اپنے حقوق و مراعات نہیں کھوسکتی ۔ریاستی سرکار نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف 2004ء میں اپیل کی لیکن پھر یہ اپیل واپس لی گئی، لہٰذا ہائی کورٹ کا فیصلہ بر قرار رہا۔
سوال: مزاحمتی لیڈرشپ کو بھارتی آئین میں شامل اس دفعہ کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے جب کہ یہ قیادت بھارت سے آزادی کا مطالبہ کر رہی ہے؟
جواب: دفعہ35-A  کو عدالتی چلینج سے ہٹوانے کا واسطہ مسلٔہ کشمیر سے ہے ۔ آر ایس ایس اور بھاجپا نے بھارتی عوام کی محبت میں یا اُنہیں ریاست میں رہائش اور حصول معاش سے جڑے حقوق دلوانے کی خاطر اس دفعہ کے خلاف عدالتی چلینج شروع نہیں کیا بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست میں بتدریج آبادی کا تناسب بدلنے میں ہی مسلٔہ کشمیر کا حل مضمر ہے۔اگر اُن کو اپنے اردوں میں کامیاب ہونے دیا جائے تو بنیادی طور پہ مسلٔہ کشمیر کی نوعیت ہی مستقل طور پہ بدل سکتی ہے۔ لہٰذا  اس تعلق سے مزاحمتی لیڈرشپ خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی ہے۔
سوال: اس دفعہ کی ممکنہ تنسیخ کا زیادہ بُرااثرجموں پر پڑنا یقینی ہے، چونکہ اگر غیر ریاستی افراد یہاں آئے تو وہ زیادہ تر جموں میں ہی رہیں گے اور اس سے آگے نہیں جائیں گے؟
جواب: یہ محض قیاس آرائی اور ظن وتخمین ہے۔ اگر غیر ریاستی باشندوں کو یہاں قانونی سکونت کا حق مل جائے تو وہ جموں میں رہیں یا کشمیر آئیں یا لداخ جائیں ، اُنہیں رائے دہی کا حق حاصل ہو کر رہ جائے گا ، اس صورت میں ریاست کاآبادیاتی تشخص بگاڑنے کے علاوہ بتدریج سیاسی طاقت بھی اُن کو منتقل ہو جائے گی۔یہ پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کیلئے ایک ابتر صورت حال ہوگی۔
سوال: دفعہ 35-A دفعہ 370سے منسوب ہے، تو دفعہ 35-A حذف ہونے کی صورت میںدفعہ 370بھی حذف ہو جائے گی ، ایسے میں بھارت کا کشمیر سے بجز فوجی قبضے کے کوئی آئینی رابطہ نہیں رہے گا، لہذا اُسے جانے دیں؟
جواب: سیاسی و اخلاقی امور ایک طرف رکھا جائے تو تھیوری کی حدتک کہا جا سکتا ہے کہ دفعہ 35-A کا دفعہ 370سے کوئی تعلق نہیں ہے، بجز اِس کے کہ دفعہ 35-A کا اطلاق صدارتی فرمان سے ہوا ہے جو دفعہ 370(1)کے تحت صادر ہوا۔اس کے علاوہ کوئی رابطہ نہیں۔اگر دفعہ 35-Aکالعدم قرار دی گئی تو قانونی طور پہ دفعہ 370 پہ کوئی اثر نہیں ہو گا۔
سوال: جموں کے ہندو اور لداخ کے بودھ دفعہ 35-Aکو کالعدم قرار دلوانے کے حق میں ہیں؟
جواب: جموں میں ہندوؤں اور سکھوں اور لداخ میں بودھ مت ماننے والوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ہم نے اُنہیں دفعہ 35-کو کالعدم کرنے کے بالکل خلاف پایا۔ہو سکتا ہے جموں میں ہندو آبادی کا ایک اندھ وشواسی حصہ آر ایس ایس کے پرچار کے زیر اثر دفعہ 35-Aکو کالعدم قرار دلوانے کے حق میں ہو لیکن ایسے افراد بہت اقلیت میں ہیں۔اور تو اور خود بھاجپا کے کچھ ایم ایل اے بھی دفعہ 35-Aکی حمایت میں بول چکے ہیں چونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ روٹی کے کس طرف مکھن لگا ہوا ہے۔
Feedback on:[email protected]