۔ 3 برسوں میں 1000سے زیادہ حملے|177سیکورٹی فورسز اہلکار ہلاک

نئی دہلی // مرکزی سرکار نے پیر کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ جموں و کشمیر میں 2019 سے لے کر گزشتہ 3 برسوں میں فوج اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز پر ایک ہزار سے زیادہ عسکریت پسندوں کے حملے کئے گئے اور 177 اہلکار مارے گئے ہیں۔راجیہ سبھا میں ممبر پارلیمنٹ آنند شرما کے جواب میں، وزیر مملکت دفاع اجے بھٹ نے کہا کہ 2019 میں 594، 2020 میں 244 اور نومبر 2021 کے وسط تک 195 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں سی آر پی ایف سمیت 80سیکورٹی فورسز کے اہلکار، 2020 میں 62 اور 15 نومبر 2021 تک 35  فورسز اہلکارہلاک ہوئے۔ اجے بھٹ نے یہ بھی بتایا کہ کووڈ-19 کی وجہ سے 137 فوجی، 49 فضائیہ اور چار بحریہ کے اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔دفاعی عملے، ان کے اہل خانہ اور سویلین عملے کی کل تعداد کی تفصیلات کے بارے میں رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سنتانو سین کے الگ الگ سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ کووڈ-19 کی وجہ سے حاضر سروس فوجی اہلکاروں کے خاندان کے 1311 افراد اور 276 دفاعی سویلین عملے کی موت ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ فضائیہ کے 114 اہل خانہ اور فضائیہ کے 41 دفاعی سویلین عملے کے علاوہ حاضر سروس بحریہ کے اہلکاروں کے 66 خاندان اور دفاعی سویلین عملے کے 96 خاندان کے افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کے مطابق، مسلح افواج کے اہلکاروں کو وزارت دفاع کی طرف سے متعدی بیماری سے ہونے والی اموات کے لیے کوئی خاص معاوضہ فراہم نہیں کیا جاتا ہے، جب وہ سروس میں نہیں ہوتے ہیں۔ تاہم، سروس کے دوران موت کے ایسے تمام معاملات کو ٹرمینل فوائد فراہم کیے جاتے ہیں،۔