۔ 3شہریوں پرسیفٹی ایکٹ عائد،کھٹوعہ منتقل

 
اننت ناگ//اننت ناگ ضلع سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کر کے انہیں کھٹوعہ جیل منتقل کیا گیا ہے ۔شبیر احمد راتھر ولد غلام حسن راتھر ساکن محمود آباد ڈورو شاہ آباد پیشہ سے تجارت کرتا ہے اور ایک سال پہلے شادی کے بندھن میں بندھا ہے ۔شبیر احمد کی والدہ ساجہ بانو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اُن کا بیٹا جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کا خاوند کینسر کی بیماری میں مبتلا ہے جبکہ وہ خود بھی اکثروبیشتر بیمار رہتی ہے۔مالی تنگی و دوائیوں کے اخراجات کے سبب شبیر نے گھر میںہاتھ سے شالبافی کا کام شروع کیا  جس کے لئے ایک چھوٹا سا کارخانہ قائم کیا ، تاہم فورسز اہلکاروں نے اُن کا قافیہ حیات تنگ کیا آئے روز اُن کو تھانہ طلب کر نا ایک معمول بن گیا ہے ،گذشتہ مہینے پولیس نے میرے بیٹے کو تھانہ طلب کیا اور مسلسل15روز تک زیر حراست رکھا لیکن رہائی پانے کے چند دن بعد 22جون کو ایک بار پھر اُن کو حراست میں لیا گیا جس کے بعد اُن پر سیفٹی ایکٹ عائد کر کے کھٹوعہ جیل منتقل کیا گیا ۔ ساجہ بانو نے کہا کہ اُن کا ایک بیٹا جس کی عمر 13سال تھی سال2001میں گھر سے نماز کے لئے نکلا اور واپس نہیں آیا اور آج تک پتہ نہیں چلا کہ اُس کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا  ۔شبیر احمد کی اہلیہ پیٹ سے ہے اور شوہر کی گرفتاری سے وہ کافی سکتے میں ہے ۔مشتاق احمد شیخ داماد مہر علی شاہ ساکن ویری ناگ  پیہ سے ٹھیکدار ہے ۔مذکورہ شخص کی چار بٹیاںہیں، جن میں بڑی لڑکی 11ویں جماعت میں زیر تعلیم ہے جبکہ چھوٹی بچی ماں کے گود میں ہی کھیل رہی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ جب وہ اننت ناگ میں زیر حراست والد سے ملنے گئے تو وہاں اُنہیں بتایا گیا کہ اُن پر پی ایس اے عائد کیا گیا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد کی گھریلو حالت گذشتہ ایک سال سے اب بہتر ہونے لگی تھی لیکن آئے روز انکی گرفتاری سے ہنستے کھلتے افراد خانہ کا جینا محال بنا دیا گیاہے ۔اعجاز احمد ملک ولد غلام محمد ساکن قمر شاہ آباد پیشہ سے مزدور ہے۔ مذکورہ شخص دو بیٹیوں کا باپ ہے۔اعجاز احمد کی گرفتاری اہل خانہ کے لئے کسی مصیبت سے کم نہیں ہے ،اور بیٹیاں ایک ہی فریاد کر تی ہیں کہ اُن کے باپ کو فوراََ رہا کیا جائے اور فیصلے پر نظر ثانی کی جائے ۔قابل زکر ہے کہ گرفتار شدگان نوجوانوں پر پولیس اسٹیشن ڈورو میں مختلف دفعات کے تحت کیس درج ہیں۔