۔ 3برسوں میں ٹرانسپورٹ شعبے کو لگاتار 3زوردار جھٹکے

  سرینگر //کوویڈ 19- لاک ڈاؤن نے پچھلے دو برسوں میں کشمیر ٹرانسپورٹ سیکٹر میں 1.5 لاکھ ملازمتوں کا نقصان کیا ہے۔اگست 2019 میں آرٹیکل370اور 35 اے منسوخ کرنے کے بعد پابندیوں کی وجہ سے ، پہلے ہی نقصانات کی زد میں کشمیر پبلک ٹرانسپورٹ کو ، ملک میں کوویڈ 19 کے پھیل جانے کی وجہ سے لاک ڈاؤن کی شکل میں لگاتار تیسرابڑا جھٹکا ملا ہے۔اگست 2019 سے ، کشمیر میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ  پچھلے سال ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل صرف 25 دن کی مدت کیلئے دوبارہ کام شروع کرسکا تھا۔کشمیر کے ٹرانسپورٹ شعبے کو گذشتہ تین دہائیوں سے کشمیر کی صورتحال سے وجہ سے لگاتار حملوں کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹ شعبے سے براہ راست منسلک 1.5 لاکھ افراد شامل ہیں، جن میں ڈرائیور ، کنڈیکٹر اور ہلپر وغیرہ شامل ہیں۔50ہزار کمرشل گاڑیاں فی الوقت بیکار کھڑی ہیں۔ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ ہڑتالوں، کرفیو اور اس طرح کی دیگر کاروائیوں کے باوجودوہ کسی طرح  اگست 2019 تک آمدنی کا تھوڑا بہت انتظام کر رہے تھے،لیکن اگست 2019 کے بعد ، کشمیر کی صورتحال نے انکی کمر توڑ دی ۔ انہوں نے کہا ، حکومتی مداخلت کے بغیر ، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں دوبارہ جان نہیں ڈالی جاسکتی۔کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن کے مطابق’’حکومت کی طرف سے کوئی ریلیف نہیں ہے، تباہ کن ٹرانسپورٹ سیکٹر کو اعانت فراہم کرنے کے بجائے ، حکومت نے تمام قسم کی تجارتی گاڑیوں کے سلسلے میں ٹوکن ٹیکس میں اضافہ کیا اور پیٹرول اور ڈیزل پر سرچارج میں بھی اضافہ کیا گیا ، جو پہلے ہیآخری سانسیں لے رہے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے تابوت میں ایک اور کیل ہے‘‘۔انہوں نے کہا‘‘کمرشل و مسافرگاڑیوں کے مالکان نے انشورنس کمپنیوں کو گذشتہ سال سے ہی بہت بڑا بیمہ پریمیم ادا کیا ہے،تاہم گذشتہ سال بھی سارے پیسے ضائع ہو گئے۔
اسی طرح ، ٹرانسپورٹ کے شعبے کی وجہ سے اس سے منسلک دیگر کاروبار کرنے والوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دریں اثنا ، لگاتار تین سال سے لاک ڈاؤن کے پیش نظر ، بہت سے ڈرائیور اور کنڈیکٹر یا تو مزدوری کرنے لگے ہیں یا پھر ریڈوں پر سبزیاں اور پھل فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔شہر سرینگر میں قریب 200ڈرائیوروں نے اپنی بڑی گاڑیاں فروخت کر کے آٹو رکھشا خرید لئے ہیں۔آٹو رکشہ ڈرائیوروں ، ٹورسٹ ٹیکسی چلانے والوں وغیرہ کی پوزیشن بھی بہتر نہیں ہے۔ ایک ڈرائیور نے کہا ، "ٹرانسپورٹ سیکٹر کے تمام طبقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی طرف سے کوئی تعاون حاصل نہیں ہے۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی پچھلے سال کی رپورٹ کے مطابق5اگست کے بعد پیدہ شدہ صورتحال کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ  شعبے کو16ارب11کروڑ60لاکھ روپے کا نقصان ہوا ۔پچھلے سال کے آخر پر جو رپورٹ مرتب کی گئی تھی اس میں دو برسوں کا احاطہ کر کے ٹرانسپورٹ شعبے کو 7000کروڑ روپے کا خسارہ ہونے کے اعادوشمار ظاہر کئے گئے تھے۔کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف کا کہنا ہے کہ وادی میں مسلسل تیسرے سال مسافر بردار ٹرانسپورٹ کے پہیہ جام ہونے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ صنعت کو بحال کرنے کی امید مخدوش ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر60ہزار مسافربردار گاڑیاں ہیں،جن میں32ہزار ٹیکسی و سومو،6ہزار ٹاٹا گاڑیاں یا منی بسیں،12ہزار آٹو رکھشا اور بسیں فی الوقت وادی کے ہر علاقے میں کھڑی ہیں اور پچھلے ایک ماہ سے بند ہیں۔
یہ حالت صرف پرائیویٹ پبلک یا کمرشل ٹرانسپورٹ کو ہی نہیں ہے بلکہ امسال کی کمپٹولر آڈیٹر جنرل (CAG) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جموں وکشمیر سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ایس آر ٹی سی) میں پچھلے پانچ برسوںمیں منفی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ، جو حال ہی میں جاری کی گئی ، حکومت کے زیر اثر کارپوریشن کو موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ کارپوریشن نے 2014 اور 2019 کے درمیان جمع نقصانات میں 33 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ 2014-15 میں کارپوریشن کو ہونے والے نقصانات1،229.56 کروڑ روپے تھے جو بڑھ کر 1،639.01 کروڑ ہوگئے ہیں ۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارپوریشن اپنا خرچہ بھی وصول کرنے کے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ، جو 2014-15 میں 31 فیصد سے بڑھ کر 2017-18ء  میں 37 فیصد ہوگئی۔