۔ 2100تک گلیشئرپگھلنے کا خطرہ

 کٹھمنڈو//ہمالیہ اور ہندو کش میں اس صدی کے آخر تک درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے برف پگھلنے لگے گی جو چین اور ہندوستان سمیت آٹھ ملکوں کی ندیوں کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرے گی جس سے دونوں ملکوں کی زراعت کے ساتھ بڑی آبادی پر اس کا منفی اثر پڑے گا۔کٹھمنڈو پوسٹ کی منگل کو جاری رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں نے اس سلسلے میں سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندو کش ہمالیہ علاقہ(ایچ کے ایچ) زبردست گلیشئربناتے ہیں، جو دنیا کی سب سے اونچی چوٹیوں ماؤنٹ ایوریسٹ اور کے 2 کے علاقے میں واقع ہے ۔اسے اینٹارکٹکا اور آرکٹک علاقے کے بعد ‘تیسرے محور’کے طورپر دیکھا جاتا ہے ۔رپورٹ جاری کرنے والی ٹیم کے رکن سائنس داں فلپس ویسٹر نے کہا،‘‘یہ ماحولیاتی بحران ہے ،جس کے بارے میں آپ نے نہیں سنا ہوگا۔’
’انٹرنیشنل سینٹر فار انٹی گریٹیڈ ماؤن ٹین ڈویلپمنٹ(آئی سی ایم او ڈی)کے سائنس داں ویسٹر نے کہا،گلوبل وارمنگ سے متاثر گلیشئرسے ڈھکے پہاڑ کی چوٹیوں کو ایک صدی سے بھی کم وقت میں چٹانوں میں بدلنے کی راہ پر ہے جس سے ایچ کے ایچ کے آٹھ ملکوں کی آبادی متاثر ہوگی۔دو سو دس سائنس دانوں کی تحریری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے کی ایک تہائی سے زیادہ برف سال 2100 تک پگھل جائے گی۔چاہے حکومتیں 2015کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کے تحت ماحولیاتی تبدیلی کو قابو کرنے کے لئے کتنی ہی سخت کارروائی کیوں نہ کرلیں۔سائنس دانوں نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس صدی میں گرین ہاؤس گیس کے اخراج پر لگام لگانے میں ناکامی رہی تو دو تہائی برف پگھل سکتی ہے ۔کاٹھمنڈو میں رپورٹ لانچ کرنے کے لئے منعقد تقریب سے الگ مسٹر ویسٹر نے کہا،‘‘میرے لئے یہ بات باعث تشویش ہے ۔’’سال 1970سے اس علاقے کے زیادہ تر حصوں میں گلیشئر پگھلنے شروع ہوگئے تھے ۔
آئی سی آئی ایم اوڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایکلویے شرما نے کہا کہ ہندو کش ہمالیہ علاقے میں برف پگھلنے سے 1.5میٹر تک سمندر کی سطح بڑھ جائے گی۔یہ علاقہ پورے افغانستان ،بنگلہ دیش ،بھوٹان ،چین ،ہندوستان ،نیپال اور پاکستان میں 3500کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق برف پگھلنے سے یانگتزی،میکانگ،سندھو اور گنگا سمیت ندیوں کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوگی،جہاں کسان خشک موسم میں گلیشئر کے پگھلے پانی پر بھروسہ کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں تقریباً 25کروڑ اور وادیوں میں 1.65ارب لوگ رہتے ہیں۔ندیوں میں پانی بڑھنے اور ان کے بہاؤ کو روکنے میں تبدیلی سے بھی پانی کے ذریعہ بجلی کی پیداوار کوبھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور پہاڑوں کے کھسکنے اور تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔