۔۹؍نومبر، اُردو زبان اور ہماری ذمہ داریاں

 زبان کی حیثیت محض ایک وسیلہ اور ذریعہ کی ہے وہ کسی خاص مذہب اور فکر کی ترجمان نہیں ہوتی بلکہ اظہار کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے اچھی فکر کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔ منفی اور نقصان دہ فکر کو بھی پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے زبان کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہاں !بعض ایسی زبانیں ہیں جن میں کسی خاص مذہب کی بنیادی کتابیں موجود ہیں۔ اس سے زبان کی حیثیت اور مذہب کی حیثیت لازم ہوتی نظر آتی ہے۔ جیسے سنسکرت زبان ہندو مذہب کےلیے، فارسی زبان ایرانی و پارسی لوگوں کے لیے، عبرانی یہودیوں کے لیےاور عربی مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہیںالبتہ اردو زبان کسی بھی قوم کی مذہبی زبان نہیںہے۔ اس زبان کی تشکیل میں سب سے اہم کردار فارسی ، ہندی اور عربی کا ہے۔ زبان کی بنیاد اس کے قواعد پر ہوتی ہے۔ اردو قواعد عربی ، فارسی اور ہندی سے ماخوذ ہیں۔ مذکر مونث ، جملوں کی ترتیب ہندی سے آئی ہے۔ تشبیہات فارسی سے لی گئیں ہیں۔ عربی الفاظ کی شمولیت نے اس کی شان میں اضافہ کردیا ہے۔ 
سنسکرت ، انگریزی، پنجابی، دکنی اور طبرانی زبانوں کے الفاظ کی آمیزش نے اردو زبان کو ایک گلدستہ بنادیا ہے۔ لفظ اردو تُرکی زبان کا لفظ ہےجس کے معنی لشکر کے ہیں۔ بہ حیثیت اردوزبان ۱۸ویں صدی کے ابتداء میں شروع ہوئی۔ اس زبان کا نام کبھی گجری، دکنی، معلی اور ریختہ کے استعمال ہوتاتھالیکن آج اردو زبان ایک گل ہی نہیں بلکہ ہمہ رنگ پھولوں کا گلستاں بن گیا ہے۔ 
اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں غیر مسلم حضرات کا کردار بالکل نمایاں نظر آتاہے۔ ۱۸ ویں صدی کے آخر میں فورٹ ولیم کالج اردو زبان کی تصنیف و تالیف اور نشر و اشاعت کا اہم مرکز تھا۔ ماسٹر رام چند ر جی نے انگریزی قوانین کو اردو میں لکھا جس کا اطلاق ہماری عدلیہ میں ہوتا ہے۔ چکبستؔ، دیا شنکر نسیمؔ، کرشن چندر، پریم چند، آنند نرائن ملّا ، پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ ، گلشن نندہ، آنند بخشی، جیسے ناموں کے بغیر اردو زبان کی تاریخ نامکمل ہے۔ اردو کتابوں کی طباعت میںمنشی نول کشور کی خدمات بہت زیادہ ہیں کوئی مسلمان ناشر بھی اُن کے مقابل آج تک نہ آسکا۔ اسی طرح الہ آباد کے مالک رام نے بھی ہزاروں کتابیں شائع کیں جو نصابی و غیر نصابی ، ادبی اور مذہبی کتابیں رہی ہیں۔ کتابت ، طباعت،جلدسازی کے صاف ستھرے اور خوبصورت کام کیے گئے ہیں۔ 
ہندو پاک کے مسلمانوں کا اپنا مذہبی لٹریچر زیادہ تر اردو زبان میں ہے۔ محض اس لیے اردو زبان کوایک گرو ہی زبان کی حیثیت دے دی گئی۔ اکثر یہ تاثر ہوتا ہے کہ یہ زبان مسلمانوں کی زبان ہے۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ زبان مسلمانوں کی زبان ہے تب بھی یہ زبان اقلیت کی ترجمانی کرنے والی زبان ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14%جب کہ آج 20%ہوگئی ہے۔ جو زبان ملک میں اتنے بڑے گروہ کے اظہار کی زبان ہو ،کیا ہم اس کی اہمیت سے انکار کرسکتے ہیں؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ اردو زبان کے حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں وہ خود اس اہم زبان سے نا واقف ہوتے ہیں۔ بعض لوگ یہ زبان صرف سیاسی موضوع کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ خود اردو زبان سے واقف نہیں ہوتے ۔ اردو اسکولوں میں ایسے اساتذہ ہوتے ہیں جن کی اولادیں انگریزی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوتی ہیں جب کہ اس کاذریعہ معاش اردو ہے۔ اسکول انتظامیہ بنیادی زبان سکھانےوالے ایسے اساتذہ رکھتے ہیں جو اردو زبان و قواعد سےناواقف ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عصری علوم میں اپنا نام و پتہ تک نہیں لکھ پاتے۔  اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا اعلان تو بڑے ہی شدو مد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مگر عملی اقدامات ندارد؟ اعلان فائلوں میں دفن ہوجاتاہے۔ بھارت میں سب سے زیادہ اردو بولنے والے افراد دہلی، بہار ، جھار کھنڈ، ہریانہ اور یوپی میں موجود ہیں۔ 
یوم اردو کی مناسبت سے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم فروغِ اردو کے ضمن میں دیانت دارانہ اقدام کرنے کی پہل کریں اس ضمن میں وہ افراد جو اردو درس و تدریس، تصنیف و تالیف وغیرہ سے منسلک ہیں ،وہ باقاعدہ ایک تحریک پیش کریں کہ اردو رسائل و کتاب کو خرید کر پڑھیں روزانہ کے اخبارات کا مطالعہ کریں۔ اعلیٰ تعلیم اردو زبان کے ذریعے ہی حاصل کریں۔ یہ ہماری بھی اور ان اصحابِ اردو کی بھی ذمہ داری ہے۔ 
�����