۔۱۹۴۷ء سے ماقبل!

 دنیا کے سارے شہر اور اُن کی عمارتیں محض اینٹ مصالے اور پتھر کی ہوتی ہیں لیکن شہروں کو شرف صرف ان کے مکینوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ستھر سال قبل جموں کی کہانی بھی اس شہر کی ان عظیم المرتبت شخصیات کے ساتھ وابستہ ہے جنہیں آج اس شہر کے نئے باسی بہت کم جانتے ہوں گے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے کا جموں شہر گمٹ کے دروازے سے پنج تیرتھی تک ڈھلوان پر آباد تھا جس میں اگر چہ ہندوئوں کی اکثریت غالب تھی لیکن مسلمانوں کی بڑی آبادی بھی تعداد میں وہاں رہتی تھی۔ جموںشہر میں مسلمانوں کی چھوٹی بڑی 25مساجد تھیں۔ اُس دور میں تعلیمی اور اقتصادی طور پر بھی مسلمانوں کی حالت کشمیری مسلمان کے مقابلے میں کافی بہتر تھی ،اگر چہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہی روا رکھا جاتا تھا تاہم اپنی ذاتی کوششوں اور تگ و دو کے باعث اکثر جموی مسلمان خوش حال اور کھاتے پیتے لوگ تھے۔ مغربی پنجاب کی قربت کی وجہ سے وہاں کے مالی و اقتصادی اور تعلیمی و تجارتی اور سیاسی بیداری کے اثرات جموں کے مسلمانوں پر بھی اثر انداز تھے۔گو کہ جموں کی کاروباری منڈی پر مجموعی طور پر مہاجن طبقے کا غلبہ تھا تاہم مسلمانوں کی نمائندگی بھی ہر شعبۂ زندگی میں آبادی کے تناسب سے معقول حد تک موجود تھی کیونکہ جموں کے مسلمان تعلیمی اور تجارتی طور پر براہِ راست لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں سے منسلک تھے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے شمالی ہندوستان میں شہر لاہور مذہبی، عصری اور علمی و ادبی و تہذیبی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہوا کرتا تھا، صوبہ جموں اور خاص طور پر جموں شہر کے ہندو مسلمان اپنی تعلیمی و معاشی سرگرمیوں کی خاطر اسی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس طرح کٹھوعہ سے جموں، راجوری اور پونچھ کی آخری حد تک اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس خطے میں آباد تھی جو بڑے بالغ نظر اور سوجھ بوجھ کے حامل تھی مگر افسوس کہ بر صغیر کی تقسیم اور صوبہ جموں کے جگر پر کنٹرول لائن کے قیام، فرقہ وارانہ فسادات میں قتل عام اور مہاجرت اور سماجی اُتھل پتھل کے باعث جموں شہر اور اس سے ملحقہ اضلاع کا سارا تانا بانا بکھر کر رہ گیا اور اب تو بقول فراقؔ گورکھپوری    ؎
شام بھی ہے دھواں دھواں حُسن بھی ہے اُداس اُداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
ریاست کا اولین IAS آفیسر منتخب ہونے کا شرف بھی جموں کے مسلمان ذہین وفطین نوجوان قدرت اللہ شہاب مرحوم کو حاصل ہے جن کا شمار بر صغیر کی بیسویں صدی کی ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے۔ جموں شہر میں ریذیڈنسی روڈ پر وزیر اعلیٰ کی موجودہ رہائش گاہ قدرت اللہ شہاب کی ملکیتی زمین پر واقع ہے اور وزیر اعلیٰ کی سیکورٹی انچارج کا دفتر قدرت اللہ شہاب کے اُسی مکان میں ہے جس میں پل بڑھ کر وہ بر صغیر کی تاریخی اور مقبول شخصیت بنے۔ جموں شہر کی بڑی مسلم بستیوں میں محلہ مست گڑھ، استاد محلہ، افغان محلہ، دِل پتیاں، تالاب کھٹیکاں، قصابان، پیر مٹھا، اردو بازار (موجودہ راجندر بازار) وغیرہ خالص مسلم آبادی پر مشتمل تھے۔ مرحوم اللہ رکھا ساغر بھی اُردو بازار کے اندرونی حصہ میں رہا کرتے تھے اور اُردو بازار کی اکثر دُوکانیں و املاک اُن کی ملکیت تھیں، اُن کا شمار جموں کے کھاتے پیتے اور متمول گھرانوں میں ہوتا تھا۔ ڈوگرہ راج کے خلاف جموں میں تحریک مزاحمت منظم کرنے میں اُن کاکلیدی رول تھا۔راجہ محمد اکبر خان میر پوری، غازی الٰہی بخش، حاجی وہاب دین، مولوی عبدالکریم گورسی اور میر پور کے دیگر اہم زعما کے علاوہ قائد ملت چودھری غلام عباس اُن کے ہم عصر اور تحریکی زندگی کے دست راست تھے، وہ ریاست کی اولین مزاحمتی تنظیم ینگ مینز ایسوسی ایشن اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اساسی ممبران میں سے تھے۔ پرانے جموں شہر میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ اُندلس سے کسی طرح کم نہیں۔ جموں شہر کے مذکورہ محلہ جات میں آج بھی مسلمان رؤسا ء کی قدیم طرز خوبصورت حویلیاں اور مساجد اُن کی زندہ دلی کلچر و ثقافت اور خوبصورت طرز معاشرت کا پتہ دیتی ہیںاور اب تو بقول ناصر کاظمی   ؎
جہاں تنہائیاں سر پٹھول کے سو جاتی ہیں
اُن مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
وزارت روڈ پر نو تعمیر شدہ اوقاف پلازہ کی قدیم عمارت مسلم حال کے نام سے متعارف تھی جو جموں کے مسلمانوں کا مرکزی مقام اور انجمن اوقاف اسلامیہ کی ملکیت تھی۔ ۱۲؍ ربیع الاول کا جلوس ہمیشہ تالاب کھٹیکاں کی جامع مسجد سے نکلتا اور شہر کے مختلف حصوں سے ہوتا ہوا مسلم ہال پر جا کر علماء اور واعظین کی تقریروں کے بعد اختتام پذیر ہوتا تھا۔ مسلم ہال کے سامنے اندرونی حصہ میں شہرہ آفاق، ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق کا مکان تھا ۔ موصوف پاکستان کی قومی اسمبلی کے رُکن اور بعد میں وزیر خزانہ، وزیر منصوبہ بندی اور اسپیکر بھی ر ہے ۔ان کی علمی قابلیت اور دیانت کی وجہ سے پاکستان بھر میں اُنہیں عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قائد ملت چودھری غلام عباس کا مکان بھی کنک منڈی دال والی گلی کے اندرونی حصہ میں ہوا کرتا تھا۔ بر صغیر کی نامور مغنیہ ملکۂ پکھراج بھی اُردو بازار کی رہائشی تھی جس کے نغمے اور سریلی آواز کا اُس وقت بر صغیر میں جادو بولتا تھا۔ پرنس ویلز کالج جموں کے پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین جو بعد میں پاکستان قومی نصاب کمیٹی کے چیئرمین، ڈائرکٹر اقبال اکیڈمی اور بہت سارے سرکردہ اداروں کے سربراہ بھی رہے، جموں شہر سے تعلق رکھتے تھے ۔ علاوہ ازیں آپ مشہور داعیٔ اسلام ڈاکٹر اسرار احمد، قائد ملت چودھری غلام عباس مغربی پنجاب انجینرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اے آر زبیر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ مرزا افضل بیگ، پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل اصغر خان کے علاوہ جموں کی بڑی بڑی نامی گرامی ہستیوں کے اُستاد مکرم تھے۔ آپ محلہ دِل پتیاں میں رہتے تھے اور مرحوم محمد یونس اعوان یڈیٹر ہفت روزہ’’ طلوع ِسحر ‘‘کے رشتے میں دادا لگتے تھے۔موجودہ جین بازار کے اندرونی حصہ افغان محلہ میں پٹھان لوگ رہا کرتے تھے جو مختلف اوقات میں یہاں آئے اور جموں کو اپنا مستقل وطن بنا لیا۔ اس محلہ میں بڑی نامی گرامی اور اہم شخصیات رہا کرتی تھیں جو فن ِسپاہ گری میں مہارت رکھتی تھیں اور مہاراجہ کی فوج میں اہم عہدوں پر تعینات تھیں۔ ان میں جنرل سمندر خان اور پاکستان فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل اصغر خان کا خاندان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ موجودہ شہیدی چوک کا پرانہ نام پیپل والا چوک تھا جس پیپل کے درخت کی وجہ سے اس جگہ کا نام پڑا وہ درخت آج بھی کانگریس کے دفتر کے سامنے صدیوں کی داستان لئے کھڑا ہے۔ جموں کا اکبراسلامیہ ہائی اسکول جموں کے مسلمانوں کا ایک اہم ملّی ادارہ تھا ،جو جموں کی موجودہ عیدگاہ کے ساتھ تھا، اس کی خالی جگہ اب عیدگاہ میں آ چکی ہے اور پرانی بلڈنگ میں ہری سنگھ ہائی اسکول قائم ہے۔اس اسکول کی انتظامیہ میں اُس وقت صوبہ جموں کی نامی گرامی شخصیات شامل تھیں جن میں جنرل سمندر خان،’’ آزاد کشمیر‘‘ کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان، پونچھ کے سردار یار محمد خان دُلی، پرنس ویلز کالج جموں کے پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین، میر پور کے راجہ محمد اکبر خان اور کٹھوعہ کے برگیڈیئر خدا بخش وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اکبر اسلامیہ ہائی اسکول سے باہر وزارت روڈ پر وہ سرکاری ریسٹ ہائوس تھا جس میں ۱۹۴۴ء میں قائدا عظم محمد علی جناح اور فاطمہ جناح نے دورۂ کشمیر کے موقع پر قیام کیا اور اہالیانِ جموں نے اُن کا شایانِ شان استقبال اور ضیافت کی تھی۔ علاوہ ازیں جموں کی ایک اہم تاریخی شخصیت کا تذکرہ بھی ناگزیر ہے جو اگرچہ جموں شہر سے آٹھ کلو میٹر باہر اکھنور روڈ کے اندرونی علاقے موضع ڈھوکڑی میں رہتی تھی مگر جموں کی سیاست اور ملّی مسائل میں اُن کا بڑا رول تھا، یہ تھے قاضی خورشید عالم جنہیں مہاراجہ کے دربار میں خصوصی مقام حاصل تھا۔ جموں کے مسلمانوں میں تعلیمی اور سیاسی بیداری کے حوالے سے قاضی خورشید عالم کا نمایاں رول تھا۔ وہ ذاتی طور پر بڑے باشعور، ملّی جذبے سے سرشار، متمول اور کثیر زرعی اراضی کے مالک تھے، یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اکتوبر ۱۹۴۷ء کے ابتدائی ایام میں مہاراجہ ہری سنگھ نے قاضی خورشید عالم کو اپنا نمائندہ بنا کر پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس بھیجا تھا کہ چند مخصوص شرائط کے ساتھ میں ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق پر تیار ہوں مگر پاکستانی بیوروکریسی نے قاضی صاحب کو مرحوم جناح صاحب سے ملانے سے یہ کہہ کر گریز کیاکہ ہمارے مجاہدین اس وقت سرینگر کے قریب پہنچ چکے ہیں، کشمیر ہماری جیب میں ہے، ایسے وقت میں ہمیں مہاراجہ ہری سنگھ کا احسان لینے کی ضرورت نہیں۔ وہ بڑی افراتفری اور انتشار کا زمانہ تھا، جموں کٹھوعہ اور ملحقہ علاقوں میں صورت حال اُس وقت کافی مخدوش اور پُر خطربنی ہوئی تھی، مسلم آبادی سسک سسک کر جی رہی تھی، حتیٰ کہ وسط اکتوبر تک باقاعدہ ان علاقوں میں مسلمانوں کی ماردھاڑ اور نسلی تطہیر کی تحریک شروع ہو چکی تھی۔ اسی اثناء میں قاضی صاحب بھی اپنے خاندان کے بچے کھچے لوگوں کے ہمراہ نقل مکانی کر کے سیالکوٹ چلے گئے ،جہاں وہ دیگر ہزاروں لوگوں کے ساتھ تصفیۂ کشمیر کا انتظار کرتے کرتے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے ۔  ع   
حسرت اُن غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے
اکتوبر نومبر ۱۹۴۷ کے دو ماہ مسلمانانِ جموں کے لئے بڑے صبر آزما تھے، نفرت اور تعصب کی ایسی آندھی چلی کہ صدیوں کی ریت روایت قتل و غارت اور خون ریزی میں تبدیل ہو گئی، لاکھوں معصوم لوگ دیکھتے دیکھتے بڑی بے رحمی سے موت کی نذر کئے گئے، نوجوان دوشیزائوں کی عصمتیں ماں باپ کے سامنے تار تار ہوئیں، بچے کھچے خاندانوں کے کچھ لوگ سرحد کے اُس پار سیالکوٹ کے ملحقہ علاقوں میں اس حالت میں پہنچے کہ کسی کی ماں نہیں تو کسی کی بیوی اور بہن چھن گئی، کسی کے باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تو کوئی اپنی نوجوان بچیوں سے محروم ہو گیا۔ اگر دُنیا کے کسی ملک میں ایسا سانحہ رونما ہوا ہوتا تو پتہ نہیں اس پر کتنی فلمیں اور کتابیں تیار ہو چکی ہوتیں مگر افسوس کے جموں کے پانچ لاکھ مظلوم مسلمانوں کی خونی تاریخ آج تک مفصل طور پر کسی نے مرتب کرنے کی کوشش نہیں کی اور اب تو اُس پار یا اس طرف جموں کے قتل عام کے چشم دید گواہ بھی راہیٔ عدم ہوچکے ہیں ۔ اس کی وجہ سے یہ ساری تاریخ بھی اب پردۂ عدم کی نذر ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر عزیز کاش صاحب جموں شہر کے باسی اور قافلۂ مہاجرین کے لُٹے پٹے ایک فرد تھے جو خوش قسمتی سے اُس وقت بہ سلامت سیالکوٹ پہنچ گئے۔ جموں کی زخم زخم یادیں اُن کی ایک بڑی درد ناک تحریر ہے۔ اپنے کالم کا اختتام ڈاکٹر عزیز کاش کی تحریر کے اس اقتباس پر کرتا ہوں ،وہ لکھتے ہیں: میں سیالکوٹ کے شکستہ اور اَدھ جلے بوسیدہ مکانوں والے محلوں سے گذر رہا ہوں، یہاں مجھے اپنے اُجڑے شہر جموں کی شناسا دُھندلی دُھندلی صورتیں نظر آتی ہیں، ذہن پر بوجھ ڈالنے پر پہچان لیتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے، وہ شگفتہ اور گُل لالہ چہرے جھریوں اور سفید بالوں تلے مسخ ہو چکے ہیں، اُن کے لڑکھڑاتے ہوئے قدم اُن کی ویران اور دھنسی ہوئی خاموش نگاہیں اپنی بربادی کا ماتم کر رہی ہیں، اپنے بد نصیب شہر جموں کے آسودہ خوشحال اور اچھا کھانے پینے والے لوگوں کو جب میں سیالکوٹ کی تنگ و تاریک گلیوں میں چھوٹی چھوٹی چھاپڑیاں لگائے بیٹھے دیکھتا ہوں تو میری روح اندر سے چیخیں مار مار کر روتی ہے، میرے وطن کے معصوم لوگوں کی محلہ سرائے بھابڑیاں میں یہ ویرانی میرے شہر کے بدبخت لوگوں کی محلہ دارووال میں یہ تباہ حالی یہاں اب بھی کئی سہاگنیں اپنے شوہر کی آمد کی منتظر ہیں، یہاں اب بھی کئی بیٹیاں اپنے باپ کی راہ دیکھ رہی ہیں، یہاں اب بھی کئی بہنیں اپنے بھائی کو سہرہ باندھنے کی حسرتیں دِل میں لئے بیٹھی ہیں، وہ انتظار میں ہیں کہ کب اُن کا بچھڑا ہوا دُشمن کی قید سے رہا ہو کر یا اپنا کھویا ہوا راستہ پا کر اُن سے آن ملتا ہے، دِن گزرتے گئے مہینے جاتے رہے ،سال چلے گئے ، زمانہ بیت گیا ،ہمارے کئی ساتھی وطن واپس جانے کا ارمان دِل میں لئے چل بسے، ایک دن ہم بھی چلے جائیں گے۔ جموں کی شفاف پتھروں والی گلیاں، توی کا میٹھا پانی، نہری کی ٹھنڈی چھائوں والے کنارے، رات کے پچھلے پہر چلنے والی بادِ نسیم کے پُر کیف جھونکے ہمیں ڈھونڈتے اور ہماری راہ تکتے تکتے تھک کر ہار جائیں گے۔ ہمارے بعد آنے والی نسل ہماری اولاد یں جموں سے ناآشنا، ہمارے بچے کیسے آپس میں مل بیٹھیں گے؟ کس لئے حسین جموں کا ذکر چھیڑیں گے؟ کیوں اِسے یاد کریں گے؟ وہ کون ہوگا جس کے دل کا ساز جموں کے نام سے جھنجھنا اُٹھے گا اور وہ کون ہوگا؟ جو اس کے لئے بے چین و بے قرار ہوگا۔ 
 نوٹ:مضمون نگارچیئرمین الہدیٰ ٹرسٹ راجوری ہیں
رابطہ نمبر7006364495