یہ ہے  جے وی سی اسپتال:400کنال اراضی پر محیط 33سال پرانی خستہ عمارت خوبصورت ماحول کیلئے سبزہ ،پھولوں کی کیاریاں، باغیچے، پارکس نہ دارد، پختہ سڑکیں اور فٹ پاتھ بھی موجود نہیں

پرویز احمد
سرینگر //روزانہ 150مریضوں کا داخلہ اور2500سے زائد او پی ڈی میںخدمات فراہم کرنے والے جی وی سی(سکمز) اسپتال کی پہلی باضابطہ نئی بلڈنگ کو مکمل کرنے میں ابھی بھی 2سال درکار ہیں۔ نئی بلڈنگ 7منزلوں پر مشتمل ہوگی جس میںجدید طبی سہولیات کے علاو ہ 250 بستروں کی اضافی گنجائش پیدا ہوگی جس سے اسپتال میں بستروں کی مجموعی گنجائش 400تک بڑھ جائے گی۔جے وی سی میں ہر ماہ 60ہزار سے زائد کا علاج کیا جارہا ہے اور اوسطاً ہر ماہ 1000جراحیاں انجام دی جاتی ہیں۔جنوبی ہندوستان کا یہ ایسا واحد اسپتال ہے جس کی عمارتیں 33سال پرانی ہیں اور جنہیں کئی بار کے سیلاب نے خستہ کردیا ہے۔جہلم ویلی پرائیویٹ اسپتال، میڈیکل ٹرسٹ کی جانب سے سال 1989میں قائم کیا گیا اور 150بستروں والی صلاحیت کی ایک عمارت تعمیر کی گئی۔1993میں کالج و اسپتال نے باضابطہ طور پر کام کرنا شروع کیا اور 3سال تک ڈاکٹروں کی تربیت بھی ہوئی لیکن ایم سی آئی نے پوسٹ گریجویشن کورسزکیلئے امتحانات لینے سے انکار کیا جس کی وجہ سے سینکڑوں نوجوان ڈاکٹروں کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔1998میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت نے ایک تاریخی اقدام اٹھاکرJVC کو حکومتی تحویل میںلیا جس کے بعد سب سے پہلے اسپتال میں ڈاکٹروں کیلئے ہوسٹل کی سہولیات فراہم کرنے کی خاطر اسکے لئے عمارت تعمیر کی گئی۔اسکے علاوہ او پی ڈی کیلئے تھوڑی بہت تعمیر کی گئی لیکن اسپتال کی بنیادی بلڈنگ وہی رہی جو 1989میں تعمیر کی گئی تھی۔اسپتال کے مین گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی یہ گمان کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ یہ کوئی اسپتال ہے۔400کنال اراضی پر محیط سکمز صورہ سے منسلک جے وی سی اسپتال و میڈیکل کالج کے اندر سبھی سڑکیں پختہ نہیں ہیں۔ اسپتال کے احاطے میں گاڑیوں کے چلنے سے گردوغبار اٹھتا ہے جو وارڈوں تک پہنچتا ہے۔احاطے میں کوئی سبزہ، پھولوں کی کیاریاں، چھوٹے چھوٹے باغیچے، کوئی پارک،فٹ پاتھ،پختہ سڑکیں، ڈرینج اورخوبصورتی فراہم کرنے والی کچھ بھی چیزنہیں ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شفاء دیوا کا کہنا ہے کہ سال2022کے آخرتک بلڈنگ کا ڈھانچہ مکمل ہوگا، جس کے بعد اسے قابل استعمال بنانے کیلئے مزید ایک سال درکار ہوگا۔ ڈاکٹر شفا دیوا کا کہنا ہے کہ نئی بلڈنگ میں آئی سی یو ، شعبہ ایمرجنسی و حادثات کے علاوہ 250بستروں والا وارڈ بلاک بھی ہوگا۔پرنسپل سکمز میڈیکل کالج ڈاکٹر عرفان ربانی نے بتایا ’’ جی وی سی میں پہلے ہی 19شعبہ جات کام کررہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ33سال پرانی بلڈنگ میں او پی ڈی کے علاوہ شعبہ میڈیسن، ہڈیوں ، سرجری، ای این ٹی، پلاسٹک سرجری،، شعبہ اطفال، آئی سی یو، ایمرجنسی، ڈینٹل، امراض چشم، زچگی کے علاوہ دیگر شعبہ جات کام کررہے ہیں جن کیلئے صرف 150بستر دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2023 میںنئی بلڈنگ کی تعمیرکے بعد مزید خصوصی شعبے شامل کئے جاسکتے ہیں جن میں شعبہ امراض قلب اورشعبہ یورولوجی وغیر شامل ہیں۔