یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟: اکلوتے بیٹے کی ہلاکت کے 7برس بعد بھی کنبہ انصاف کا منتظر

سرینگر //اکلوتے بیٹے کی ہلاکت کے 7برس بعد بھی ملک پورہ صورہ کا ایک کنبہ ایف آئی آر درج کرانے کا منتظر ہے۔بد نصیب کنبہ ان برسوں میں ہر ایک ممکن جگہ انصاف کے حصول کیلئے گیا لیکن مایوسی کے سواکچھ حاصل نہیں ہوا ۔ انسانی حقوق کے عالمی دن پر سرینگر پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے کنبے کے افراد خانہ نے کہا کہ اُن کے اکلوتے لخت جگر کو 20اگست2010میں ملک پورہ صورہ سبزی منڈی میں پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے پیٹ  پیٹ کر ہلاک کر دیا اور 7 برسوں سے ہم صرف ایک ہی بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے ۔عبدالقیوم نے بتایا کہ سال2010میں ملک صاحب صورہ میں اُس کے بیٹے عمر قیوم کو بڑی بے دردی کے ساتھ فورسز کے اہلکاروں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا، لیکن پولیس اس سلسلے میں کوئی بھی ایف آئی آر درج نہیں کر پائی ۔انہوں نے کہا کہ ہم انصاف کے منتظرہیں ۔احتجاج کر رہی عمر قیوم کی بہن نے بتایا کہ ہم جب بھی پولیس کے پاس جاتے ہیں تو وہاں سے صرف یہی کہا جاتا ہے کہ کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو گا کیونکہ اس کو پولیس نے نہیں مارا ۔عمر کی بہن نے کہا کہ اگست 2010کو میرا بھائی نماز ادا کرنے کے بعد گھر کی طرف جا رہا تھا تو اس دوران اُسے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے پکڑا اور اُس کا شدید ٹارچر کرکے آدھ مرا چھوڑ دیا۔ہم نے عمر کواگرچہ صورہ ہسپتال  علاج ومعالجہ کیلئے پہنچایا لیکن وہاں موجود ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ 90فیصد مر چکا ہے اور پھر 25اگست کی صبح میرے بھائی کی موت ہو گئی۔ مار پیٹ کی وجہ سے  عمرکے جسم کے اندرونی حصے میں شدید چوٹیں آئی تھیں جبکہ اُس کے گردے بھی مکمل طور پر تبا ہ ہو گئے تھے ۔اسکی تصدیق ڈاکٹروں نے کی اور لکھا کہ عمر کی موت شدید مارپیٹ سے ہوئی ہے۔