یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں؟

سہیل انجم
 اس وقت ملک کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے خلاف جس طرح شرپسندوں کی جانب سے طوفان بد تمیزی برپا کیا جا رہا ہے وہ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے خطرناک ہے۔ پاگل پن کی حد تک کی جانے والی کارروائیاں انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ملک سے قانون کی حکمرانی ختم ہو گئی ہے، آئین و دستور کالعدم ہو گئے ہیں اور کچھ لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنے کا ناقابل گرفت حق مل گیا ہے۔ ان کو یہ آزادی مل گئی ہے کہ وہ مسجدوں کے آگے طوفان بد تمیزی برپا کریں، مسجدوں پر چڑھ کر بھگوا پرچم لہرائیں، مسجدوں کی چھت پر ڈانس کریں، مسجدوں کے سامنے ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کریں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ لاؤڈ اسپیکر سے مسلم خواتین کے اغوا اور ان کے ریپ کی دھمکیاں بھی دیں۔ مذہبی جلوس نکال کر جان بوجھ کر مسلم محلوں سے گزاریں اور اشتعال انگیز نعرے لگائیں۔ اگر ان کو روکنے کی کوشش کی جائے تو پتھراؤ کریں۔ ابھی تو کرناٹک ہی میں مسلمانوں کو تختۂ مشق بنایا جا رہا تھا لیکن اب دوسری ریاستوں میں بھی وہی سب کچھ ہو رہا ہے اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے شرپسندی کی نہ صرف حمایت کی جاتی ہے بلکہ پولیس انتظامیہ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ اتوارکے روز رام نومی کے موقع پر ملک کے مختلف علاقوں میں جلوس نکالے گئے اور جگہ جگہ پتھراؤ اور ٹکراؤ کے واقعات پیش آئے۔ آٹھ ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات، جھارکھنڈ، اترپردیش، بہار، گوا، کرناٹک اور مغربی بنگال میں تصادم کے واقعات ہوئے، جن میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ لیکن طرفہ تماشہ دیکھیے کہ مدھیہ پردیش کے کھرگون میں جب جلوس سے کی جانے والی بد تمیزی کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر حملے کیے گئے اور پھر متعدد مکانوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔ لیکن شِو راج سنگھ چوہان کی بہادر پولیس نے یکطرفہ طور پر مسلمانوں کے خلاف ہی کارروائی کی۔ مسلمانوں کے کم از کم پچاس گھروں اور دکانوں کو نشان زد کیا گیا اور ان میں سے کئی کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں نے تشدد برپا کیا تھا، لہٰذا ان کو سبق سکھانے اور نقصان کے ازالے کے لیے ان کے مکانوں کو منہدم کیا گیا ہے۔ ملک میں یہ عجیب قسم کی ریت چل پڑی ہے کہ کسی کو بھی مجرم بتا کر اس کے مکان کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا جائے۔ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک نئی تعزیری بدعت شروع کی ہے۔ اس بارے میں قانونی ماہرین کو اپنی رائے دینا چاہیے کہ کیا کسی ملزم کے گھر کو بلڈوزر سے منہدم کیا جا سکتا ہے۔ کیا ملک میں کوئی قانون ایسا ہے کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس سے پہلے کہ الزام ثابت ہو پولیس اس کے گھر کو منہدم کر دے۔ اگر الزام ثابت بھی ہو جائے تو کیا اس کے جرم کی سزا اس کے مکان کو ڈھا کر دی جا سکتی ہے۔ اگر قانون میں اس کی اجازت نہیں ہے تو پھر ا س سلسلے کو نہ صرف یہ کہ روکا جانا چاہیے بلکہ مکانوں کو منہدم کرنے کا ازالہ انہدامی کارروائیوں میں ملوث اہلکاروں کو سزا دے کر کیا جانا چاہیے یا مکانوں کے انہدام سے جو نقصان ہوا ہو، اس کی تلافی کے لیے ان سے جرمانہ وصول کیا جانا چاہیے۔ یوپی میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے دھمکی دی تھی کہ ان کی حکومت بھی مجرموں کے گھرو ںکو بلڈوز کرے گی۔ اب انھوں نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔اب وہ بھی یوگی کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ لیکن ان کی حکومت اپنی زیادتی پر پردہ ڈالنے کے لیے اب یہ کہہ رہی ہے کہ جن مکانوں و دکانوں کو منہدم کیا گیا ہے، وہ ناجائز قبضہ تھا جسے ہٹایا گیا ہے۔   

اس وقت مسلمانوں کے خلاف جو طوفان بدتمیزی برپا ہے، اس پر ملک کے سنجیدہ طبقات کو احتجاج کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت سے تو کوئی امید نہیں ہے، نہ ہی وزیر اعظم نریندر مودی سے اور نہ ہی وزیر داخلہ امت شاہ سے اور نہ ہی کسی دوسرے وزیر سے۔ ورنہ جس طرح حجاب پر پابندی عاید کیے جانے کے بعدلاؤڈ اسپیکر سے اذان دینے اور حلال گوشت کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا اور جس طرح مسلم دکانداروں اور مسلم ڈرائیوروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی جا رہی ہے اور جس طرح ایک غریب مسلم ٹھیلے والے کا پھل تباہ کر دیا گیا، اُس پر تو حکومت و انتظامیہ کو حرکت میں آجانا چاہیے اور اعلان کرنا چاہیے کہ یہ ملک ہندوؤں اور مسلمانوں سب کا ہے۔ دستور و آئین نے سب کو یکساں حقوق و اختیارات دیے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی بھی فرقے کے خلاف اس قسم کا اعلان کیا جائے گا یا کسی کو بلا وجہ نشانہ بنایا جائے گا تو اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ اگر حکومت کی جانب سے یہ اعلان ہو جائے تو شاید اس طوفان پر بند ھ باندھنے میں آسانی ہو۔ لیکن حکومت ایسا اعلان کیوں کرے گی۔ اسی نے تو ان شدت پسندوں کو شہ دے رکھی ہے۔ ا س کو ایسا لگ رہا ہے کہ اسی بہانے بی جے پی کا ووٹ بینک محفوظ رہے گا۔ ٹھیک ہے بی جے پی اپنے ووٹ بینک کی خاطر نہیں بول رہی ہے تو نہ بولے لیکن خود کو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے والی پارٹیوں کو تو احتجاج کرنا چاہیے۔ راہل گاندھی اور کانگریس کے بعض رہنما تو کچھ بول بھی دیتے ہیں لیکن دوسری پارٹیاں چپ ہیں۔ حال ہی میں اختتام پذیر اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے سماجوادی پارٹی کو یکمشت ووٹ دیا، کیا اکھلیش یادو کو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کرنی چاہیے۔ اب تو ان کی ہی پارٹی کے لوگ ان کی خاموشی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ بی ایس پی کیوں چپ ہے۔ جنتا دل یو نے ہونٹ کیوں سی لیے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کو چھوڑیئے، مسلم قیادت کا دم بھرنے والے کیوں نہیں بول رہے ہیں۔ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ سرکردہ مسلمانوں کا کوئی وفد نریندر مودی سے ملے اور انھیں یاد دلائے کہ وہ مسلمانوں کے بھی وزیر اعظم ہیں۔ اس ملک میں ملی تنظیموں اور جماعتوں کی بھرمار ہے لیکن ایسا لگتا ہے جیسے ان کے ذمہ داران کو اپنے عشرت کدوں میں چین لینے ہی میں مزا آتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے رہنما انتقامی کارروائیوں کے خوف سے چپ ہیں لیکن کیا ملی جماعتوں کے ذمہ داروں کو بھی ایسی کارروائیوں کا خوف ہے۔ حالانکہ ان کو تو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ اگر ظلم کے خلاف نہیں بولیں گے تو ان کی گرفت ہوگی۔ بعض شخصیات نے بیانات دیے ہیں لیکن یہ بیانات کا نہیں اقدامات کا وقت ہے۔

بہرحال اس وقت مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان برپا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سلسلہ جلد تھمنے والا نہیں ہے۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ یدو رپا کا ضمیر جاگ گیا ہے۔ انھوں نے ہندو تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شرانگیزی بند کریں۔ انھیں امن و سکون کے ساتھ جینے دیں۔ لیکن دوسرے لیڈروں کا ضمیر کب جاگے گا، ان کو کب یہ ہوش آئے گا کہ مسلمان دوئم درجے کے نہیں اول درجے کے شہری ہیں ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے مطابق اس وقت مسلمانوں کے حالات 1857 اور 1947 سے بھی بدتر ہیں۔ اس بیان پر کچھ مذہبی شخصیات نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن متعدد سنجیدہ مسلمانوں نے ان کی حمایت بھی کی ہے۔ یہ ایسا وقت ہے کہ مسلمانوں کے ذی شعور افراد کو چاہیے کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس صورت حال سے نبرد آزما ہونے کی تدابیر پر غور کریں۔ سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے اس کے لیے سلسلہ جنبانی کی ہے۔ انھوں نے مئی کے اواخر میں سرکردہ مسلمانوں کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ا س کا کوئی نتیجہ برآمد ہوتا ہے یا نہیں۔ لیکن بہرحال اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ کہیں یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں؟

[email protected]