’یہاں کوئی اپنا ایمان بیچنے والا نہیں‘

سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ این آئی اے کی کارروائیاں حریت کو خوف زدہ کرنے کیلئے ہے اور اس سے کچھ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی  اس بات کی تحقیقات کرے کہ این سی کو ختم کرنے کیلئے مرکز کی طرف سے کتنی رقوم خرچ کی گئیں۔ شیخ محمد عبداللہ کے  برسی سے متعلق تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے این آئی اے کی طرف سے چھاپے ڈالنے اور گرفتاریاں کرنے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا’’میں تب این آئی اے کی کارروائیاں مانوں گا جب اس میں کچھ نکلے گا،اگر یہ صرف ان (حریت) کو ڈرانے کیلئے ہے کہ یہ جھک جائیں، تو میں این آئی اے اور حکومت ہند سے کہنا چاہتا ہوں، وہ کتنا بھی ظلم کریں گے یہاں کوئی اپنا ایمان بیچنے کیلئے تیار نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ حریت لیڈران کو رہا کیا جائے تاکہ وہ وزیر داخلہ سے بات کرسکیں،جو وہ کرنا چاہتے ہیں‘‘۔انہوںنے کہا کہ این آئی کو چاہے کہ وہ اس بات کی جانچ کرے کہ حکومت ہند نے نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کیلئے کتنی رقم خرچ کی۔ دفعہ35A کا ذکر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا ’’ ہندوستان کویہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کشمیریوں نے نہ تو ماضی میں غلامی پسند کی ہے اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں وکشمیر کا بھارت کیساتھ مشروط الحاق اس لئے کیا تھا کہ یہاں کے عوام کو اس الحاق سے انصاف ملے لیکن اس کے بجائے ہمیں ہر وقت تشدد کا شکار بنایا گیا اورجمہوری ، آئینی اور سیاسی حقوق چھین لئے گئے۔انہوںنے کہا’’مرکزی کی بار بار غلطیوں ،وعدوں خلافیوں اور بار بار مرکزی قوانین نافذ کرنے سے آج ریاست کے حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں اور حالات سدھرنے کی کوئی بھی کرن دکھائی نہیں دکھائی دے رہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 35اے پر حملہ براہ راست جموں وکشمیر کی پہچان پر حملہ ہے اور ہم سب کو اپنی ریاست کے تقدس اور عزت و آبرو کے دفاع کیلئے متحد ہونا چاہئے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’دفعہ 35اے سے متعلق جس طرح کی افواہیں پھیلا جارہی ہیں، کہ یہ کسی مخصوص مذہب اور علاقے کیلئے سود مند ہیں، سفید جھوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ 35Aسے ریاست کے ہر خطے اور ہر مذہب کے رہنے والوں کو اپنی شناخت اور پہچان کی ضمانت ہے ۔ برما کے مسلمانوں کی حالت زار پر افسوس اور تشویشناک کا اظہار کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے اقوام متحدہ کی غفلت شعاری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی ان اداروں کی آنکھیں نہیں کھلیں گی تو کب کھلیں گی۔بین الاقوامی برادری کو برما کے مسلمانوں کے تحفظ کیلئے بروقت اور کارگر اقدامات اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جو مظالم ان روہنگیائی مسلمانوں پر ڈھائے جارہے ہیں اُن سے انسانیت شرمسار ہورہی ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے دم بھرنے والے بڑے بڑے سپر پائوروں کے دعوے بھی سراب ثابت ہورہے ہیں۔ اس موقعہ پر سابق وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی قبر پر گلباری کی گئی،اور انکے کارناموں پر کئی لیڈروں نے خطاب کے دوران روشنی ڈالی۔