یہاں ایسا بھی ہوتا ہے

سرینگر//شاید یہ پہلی بار ہوا ہوگا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے میت ہی کسی کے گھر لائی گئی ہو۔جی ہاں ایسی انہونی باتیں کشمیر کے مقدر میں ہی لکھی گئی ہیں۔ حریت(گ) چیئر مین سید علی گیلانی اپنے گھر میں سختی کیساتھ نظر بند رکھے گئے ہیں۔سنیچر کی صبح انکی ہمسائیگی میں ایک خاتون کی وفات ہوئی۔خاتون کے شوہر میاں بشیر احمد اور اسکے گھروالوں کی خواہش تھی کہ گیلانی خاتون کی نمازہ جنازہ پڑھائے لیکن پولیس اور نیم فوجی دستوں کا پہرہ ہونے کے باعث گیلانی کو گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔گیلانی کو جب گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی تو میاں بشیر اور اسکے دیگر رشتہ داروں نے میت کو ہی گیلانی کے گھر لایا جہاں اسکی نمازہ جنازہ پڑھائی گئی۔اس موقعہ پر گیلانی نے موت وحیات کے معاملے پر قرآن وسنت کی روشنی میں مختصر خطاب کیا اور کہا کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور آخرت کی زندگی میں اس کا نتیجہ ظاہر ہونے والا ہے۔