یکم مئی۔۔۔۔۔محنت کشوں کا عالمی دن، مزدور طبقوں کی فلاح ،سنجیدہ اقدامات ضروری:ڈاکٹر فاروق

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے یوم مئی کے موقعہ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ محنت کش اور مزدور طبقوں کے بہت سارے حقوق واگذار کئے گئے ہیں اور اس بارے میں ابھی بہت کام باقی ہیلہٰذا دنیا بھر کی جمہوری حکومتوں کو اِس سلسلے میں اپنی کوششیں تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا ،کہ دنیا بھر کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے والا مزدور آج بھی افلاس اور غربت کے شکنجوں میں بند پڑا ہے اور غریبی کی ریکھا سے نیچے زندگی بسر کررہا ہے۔ ڈاکٹر فارق عبداللہ نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی تحریک کا بنیادی مقصد ومدعا محنت کش اور مزدور طبقوں کے حقوق واگذار کرنا تھا، کیونکہ شخصی راج میں مزدور، محنت کشوں اور کاشتکاروں کو زبردست عتاب کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ کشمیر کی شالباف اور ریشم خانہ تحریکیں نیشنل کانفرنس کی جدوجہد کی بنیاد تھی۔ اُنہوں نے کہا، کہ پارٹی کے نیا کشمیر پروگرام میں مزدور محنت کش طبقوں کی بھرپور ترجمانی کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے 1947میں جب عوامی راج کی باگ ڈور سنبھالی ، تو مزدور راج اور کسان راج کی بنیاد پڑی۔نیشنل کانفرنس کارگزار صدر عمر عبداللہ نے یوم مئی پیغام میں کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس محنت کشوں اور مزدوروں کیخلاف ہورہے استحصال کیلئے ہمیشہ آواز بلند کرتی آئی ہے اور ریاست میں نامساعد حالات کے ہوتے ہوئے سماج کے اِس اہم طبقے کے مصائب میں اضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا ،کہ امیروں اور غریبوں کے درمیان بڑھتی خلیج کی وجہ سے بھی محنت کش طبقوں کے مسائل الجھتے جارہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا ،کہ نیشنل کانفرنس بہت پہلے سے ہی اِن طبقوں کے مسائل کیلئے برسرجہد رہی ہے اور جاگیردارانہ نظام کی بیخ کنی کرنا اِسی جدوجہد کی کامیابی کا ایک جز بن گیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ نیا کشمیر پروگرام محنت کشوں اور غریب طبقوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے آج بھی بھاری اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری جماعت اقتصادی پروگرام کو روبہ عمل لانے کا موقعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے اہتمام سے نوائے صبح کمپلیکس سرینگر اور شیر کشمیر بھون جموں سمیت ریاست بھر میں یوم مئی کے سلسلے میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ سرینگر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہاکہ ریاست میں حالات خراب ہونے سے ہر ایک طبقہ متاثر ہوا لیکن اس دوران محنت کشوں، کامگاروں، کاریگروں خصوصاً مزدوروں،جو دن بھر کمائی کرکے شام کو اپنے عیال کو کھلاتے ہیں، کو سب سے زیادہ مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تحریک کی بنیاد مزدوروں نے ہی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 19ویں صدی کے ابتدامیں ذالڈگر شالباف تحریک اور ریشم خانہ مزدوروں کی تحریک سے ہی تحریک حریت کشمیر کی بنیاد پڑی اور پھر شیخ محمد عبداللہ نے اس مزدور تحریک کی علم سنبھالی ، اور انہی مزدوروں، کاریگروں، کسانوں اور زمینداروں کی بے پناہ قربانیوں سے ریاست جموں و کشمیر صدیوں کی غلامی سے آزاد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بلند بانگ دعوے تو سب کرتے ہیں لیکن نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ عملی اقدامات میں یقین رکھا۔ سرینگر میں منعقدہ اجلاس میں پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران محمد اکبر لون، میر سیف اللہ، پیرآفاق احمد، محمد سعید آخون، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، سلمان علی ساگر، جگدیش سنگھ آزاد اور غلام نبی بٹ کے علاوہ کئی عہدیداران بھی موجو دتھے۔لیڈران تقریب پر خطاب کرتے ہوئے یوم مئی کی اہمیت اور افادیت بیان کی۔اُدھر شیر کشمیر بھون جموں میں منعقدہ تقریب میں صوبائی صدر دیوندر سنگھ رانا ، ایس ایس سلاتیہ، پارٹی کی ٹریڈ یونین ونگ کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔اُدھر خطہ پیر پنچال، خطہ چناب اور خطہ لداخ میں بھی مختلف مقامات پر پارٹی کے اہتمام یوم مئی کے سلسلے میں مختلف تقاریب کا انعقاد ہوا۔ 

محنت کش طبقہ متحد ہو:تاریگامی

سرینگر //عالمی یوم مزدور کے موقع پرسنٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز(سیٹو) نے محنت کش طبقہ پر زور دیاہے کہ وہ اپنے مطالبات کی خاطر متحد ہوکر جدوجہد کریں ۔ سیٹو کے ریاستی صدر محمد یوسف تاریگامی نے کہاکہ ورکنگ کلاس کوبھاجپا کی قیادت والی حکومت کی عوام کش پالیسیوں کے خلاف متحدہ جدوجہد کیلئے تیار ہوناچاہئے ۔ان کاکہناتھاکہ این ایچ ایم کے تحت کام کررہی آشاورکرز، آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز ، مڈ ڈے میل ورکرز ، سی پی ڈبلیوز ، نریگا ملازمین ، کنٹریکچول ملازمین ، کنسٹرکشن ورکرز ، نیڈ بیس ملازمین ، سیزنل ، کیجول لیبر ، ڈیلی ویجر اور دیگر محنت کش کئی عرصہ سے اپنے مطالبات کیلئے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ان کی جائز مانگوں کو پورا نہیں کیاجارہا اور نہ ہی انہیں مستقل ملازمت کے دائرے میں لایاجارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ حالانکہ حکومت نے پچھلے سال ایس آر او بھی جاری کیاتاہم وہ بھی مایوس کن ہی رہاہے ۔تاریگامی نے کہاکہ بھاجپا کی قیادت والی حکومت مزدور طبقہ کو دستیاب سہولیات بھی چھین رہی ہے اورمسائل حل کرنے کے بجائے ملک بھر میں محنت کش طبقہ کے خلاف سخت اقدامات کئے گئے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ بھاجپا حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں لوگ ملازمتوںسے محروم ہورہے ہیں اور ان کے ذریعہ معاش میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت ایسے مسائل کو فروغ دے رہی ہے جس سے لوگوں کے درمیان تفریق اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیداہورہی ہے ،بھاجپا کے اس ایجنڈے کو مات دینے کی ضرورت ہے ۔ تاریگامی نے کہاکہ ورکنگ کلاس کو یہ محسوس کرناچاہئے کہ اس کی متحدہ جدوجہد حکومت کو مطالبات پورے کرنے پر مجبور کرسکتی ہے ۔1865کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ انہوںنے مزدوروں کے خلاف استحصالی پالیسیوں پر جدوجہد کا سنگ بنیاد رکھا اوران کی اس جدوجہد سے مزدور طبقہ کو آگے چل کر کئی کامیاب مہم چلانے میں مدد ملی ۔تاریگامی نے کنسٹرکشن ویلفیئر بورڈ کی طرز پر محنت کشو ں کیلئے سوشل سیکورٹی بورڈ قائم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ انہیں سماجی تحفظ جیسے پنشن ، پرویڈنٹ فنڈ،ہیلتھ انشورنس وغیرہ کافائدہ دیاجائے اوران کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں جس کیلئے وہ پچھلی کئی دہائیوںسے جدوجہد کررہے ہیں۔ 
 

مزدوروں کی حق تلفی ناقابل برداشت ایمپلائز کانفرنس

سرینگر//سینئر ٹریڈ یونین لیڈر اور جموں کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز کانفرنس کے صدر اشتیاق بیگ نے محنت کشوں کے عالمی دن پرمزدوروں کو نیک نیتی اوردیانت کی شاندارروایات کے امین قرار دیتے ہوئے ان کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے محنت کشوں کے حقوق اور انکے وقار کے تحفظ کے عزم کااعادہ کرتے ہوئے کہا ہے دنیا کی کوئی بھی قوم اپنے مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کئے بغیر ترقی کی منزل نہیں پاسکتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئین کے تحت مزدور طبقے کو حاصل حقوق ہر حال میں ملنے چاہئیں ۔ اشتیاق بیگ نے کہا ہے کہ حکومت محنت کشوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے اور اگر مزدور طبقے کو کہیں پر بھی حق تلفی کا احساس پیدا ہوگا تو انہیں اپنے حقوق کے لئے ایک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ان گنت کارکنوں کے نظم و ضبط اور لگن سے ہی دنیا تعمیر ہو رہی ہے اور مزدور طبقے کے بغیر کسی بھی ملک یا قوم کی تعمیر ممکن نہیںکیونکہ وہ ہی قوم اور ملک کے سچے معمار ہوتے ہیں۔
 
 
 

پلوامہ اور بارہمولہ میں شہری ہلاکتیں

تحریک المجاہدین کی مذمت

سرینگر //تحریک المجاہدین امیر شیخ جمیل الرحمان نے وادی میں بھارت کی ریاستی دہشگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ میں ایک کم سن طالب علم اور بارہمولہ میں تین نوجوانوں کا قتل ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔بھارت کشمیریوں سے تحریک آزادی کا انتقام لے رہا ہے ۔ نہتے اور معصوم نوجوانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور ان کا وحشیانہ قتل بھارتی فورسز اور ان کے آقائوں کی غیر پیشہ واریت اور تیزی سے گرتامورال ہے۔