یکم اکتوبر 1990:جب ہندوارہ خاک و خون میں غلطاں ہوا

کپوارہ//شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میں پیر کو یکم اکتوبر1990سانحہ میں جا ں بحق ہوئے افراد کے حق میں دعائیہ مجالس کا انعقاد کر کے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاگیا ۔1990کے یکم اکتوبر کو حسب معمول ہندوارہ قصبہ میں تجارتی سر گرمیاں چل رہی تھیں اور پورے قصبہ میں چہل پہل تھی جس کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ پل بھر میں پورے قصبہ میں قیامت بپا ہوگی ۔لوگ ابھی اپنے اپنے کامو ں میں مشغول تھے کہ قصبہ کے ایک طرف ایک مختصر جھڑپ ہوئی ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بعد میں فورسز اہلکارو ں نے ہندوارہ بازار کو آگ لگا کر راکھ کی ڈھیر میں تبدیل کیا ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ  مقامی جامع مسجد کو بھی نہیں بخشا گیااور اس کو بھی آگ لگا دی گئی۔ہندوارہ سانحہ کے متاثرہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سانحہ کے 28سال مکمل ہوئے اور وہ اس منحوس دن کو کبھی نہیں بھول پائیں گے جب پورے قصبہ میں خون کی ہولی کھیلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے 22افراد جا ں بحق ہوگئے ۔اس سانحہ کی 28ویں برسی پر پیر کو ہندوارہ کے متعد د علاقو ں میں جا ں بحق ہوئے افراد کے حق میں دعائیہ مجالس کا انعقاد کیا گیا اور انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔اس سانحہ کے متاثرہ لوگو ں کا کہنا ہے کہ28سال گزر جانے کے با جود بھی وہ انصاف کے متمنی ہیں اور سرکار کی جانب سے ان سے کئے گئے وعدے آج تک بھی پورے نہیں کئے گئے ہیں کیونکہ ان لوگو ں نے آ شیانے اس سانحہ میں جل کر خاکستر ہوئے وہ آج بھی در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔