یوگی کی ہرزہ سرائی!

 ریاست جموںوکشمیر کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاستدانوں ، خاص کر انہیں،جن کی سیاسی پرورش مخصوص  نظریاتی چار دیواری کے اندر ہوئی ہے، کو اس ریاست کی سماجی مذہبی اور سیاسی تاریخ کے بارے میں بہت ہی واقفیت ہے، جس کی  وجہ سے وہ جب بھی اس ریاست کےا ندر موجود حالات اور سیاسی صف بندیوں پر تبصرہ کرتے ہیں تو بنیادی حقائق کو نظر انداز کرکے ایسی آراء مرتب کرکے بیرون ریاست لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں عوامی سطح پر ریاستی عوام خاص کر، کشمیریوں کے تئیں تکدّر کی فضاء پیدا کرنے کی کوششوں کو تقویت ملتی ہے۔اُتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ کے حالیہ بیان کہ کشمیر میں ہندو اور سکھ جب تک محفوظ تھے جب تک جموںوکشمیر پر ہندوراجائوں کی حکومت تھی، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک انتہائی بھونڈی اور بیدردانہ کوشش ہے، اگر چہ اس کے پس پردہ مقاصد کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں ہے، کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکی حلیف جماعتیں آئندہ برس ہونے والے انتخابات کے لئے فضاء کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی ہمہ گیر کوششوں میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جا رہا ہے۔جہاں تک حقائق کا تعلق ہے تو اُن لوگوں ، جن سے یوگی ادیتہ ناتھ مخاطب تھے، کو دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اگر 1947میں برطانوی ہند کے بٹوارے کی تاریخ پڑھ لیں تویہ دیکھ کر اُنکی آنکھیں کھل جائینگی کہ ایسے وقت میں جب فرقہ وارانہ بنیادوں پر سارے برصغیر ہند میں قتل و غارت گری کا طوفان برپا ہوا تھا اور جموںوکشمیر میں سریر آرائے سلطت ڈوگرہ حکومت نےر اہ فرار اختیار کی تھی، اُس وقت بھی کشمیری مسلمانوںنے ہندئوں او رسکھوں کی حفاظت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، حالانکہ اسی ریاست کے جموں خطہ میں چھ لاکھ کے قریب مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا اور ایسےحالات پیدا کئے گئے، جس میں لاکھوں خانوادوں کو سرحد پار ہجرت کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ یوگی ادیتہ ناتھ کشمیر کی تاریخ سے اس قدر نابلد ہو نگے ،بھارت کی ایک بڑی ریاست کے وزیراعلیٰ کے  بارے میں ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا، مگر حقیقت بہر حال حقیقت ہے اور اپنی لاعلمی، جہالت اور کم ظرفی کا انہوں نے برملا اعلان کیا ہے۔ جہاں جموںوکشمیر میں1990کے بعد پیدا شدہ حالات کا تعلق ہے تو اس میں لوگوں کو جس عنوان سے تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا ہے اُس میں کوئی ایک فرقہ مخصوص نہیں بلکہ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ دوسرے فرقوں کے مقابلے میںاکثریتی مسلمان فرقہ کو کہیں بڑے پیمانے پر بے بیاں مصائب اور خون آشامی کا سامنا رہاہے۔ یہ ایک عالمی حقیقت ہے کہ تصادم زدہ علاقوں میں ہجرتیںاُن حالات کا حصہ ہوتی ہیں، جو سیاسی قوتوں کی گنجلک نظریاتی شکت و ریخت کا نتیجہ قرار پاتی ہیں ۔یہ دنیا کے ہر اُس علاقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں، جو تصادم آرائیوں کی زد میں ہیں۔ اسکا فرقہ وارانہ بنیادوں پر تحلیل وتجزیہ کرنا حقائق سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔ یوگی نے افغانستان، پاکستان اور مسلمان ممالک کا ذکر کرتے ہوئے یہ عندیہ دینے کی کوشش کی ہے کہ ایسا صرف اُن علاقوں میں ہوتا ہے ، جہاں مسلمان آباد ہیں۔ وہ اگردنیا کی تاریخ کا مطالبہ کریں تو انہیں یورپ، امریکہ، افریقہ اور ایشاء کی تاریخ میں ایسے سینکڑوں مراحل سے واسطہ پڑیگا، جہاں فرقہ وارانہ تخصیص سے مارواء ہو کر ہجرتیں وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ایسے معاملات کو صرف انکے تاریخی سیاسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جسکا غالباً یوگی جی کو کوئی علم نہیں۔ انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ موجودہ دور میں بھی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں سالانہ غیر ریاستی باشندے جن میں غالباً اکثریت غیر مسلموں کی ہوتی ہے کام کاج اور روزگار کی تلاش میں ریاست ، خاص کر کشمیر میں وارد ہوتے ہیں مگر کبھی بھی اور کہیں بھی کسی ایک متنفس کے ساتھ فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی زیادتی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے برعکس یوگی جی کی ریاست اُتر پردیش سمیت کئی ریاستوں میں کشمیری طلبہ کے ساتھ زیادتیوں کے معاملات برابر سامنے آرہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہاہے کہ دائیں بازوں کے عناصر کشمیریوں کےخلاف ماحول برپا کرنے کےلئے تواتر کے ساتھ ہاتھ پیر ما رہے ہیں تاکہ آنے والے انتخابات میں ان سے فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ یوگی ادیتہ ناتھ کی اس ہرزہ سرائی کےخلاف جہاں ریاست کے مین اسٹریم اور علیحدگی پسند خیموں کی جانب سے زبردست ردعمل سامنے آرہا ہے، وہیں ریاست کی موجودہ  گورنر انتظامیہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ر یاست کے باہر کشمیر کےخلاف بے بنیاد باتیں پھیلانے والی ان کوششوں کا ہر ممکن طریقے سے تدارک کرے۔