یوگا:بنی نوع انسان کیلئے ایک انمول تحفہ یوگاجسمانی طاقت اور ذہنی وسعت کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے:وزیر اعظم مودی

ضیا درخشاں

وزیر اعظم نریندر مودی، مسلسل تیسری بار بھارت کے وزیر اعظم کے بطور اقتدار سنبھالنے کے بعد، شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) سرینگر میں 21جون کو منعقد ہونے والے ایک وسیع یوگا پروگرام میں 2024کے بین الاقوامی یوم یوگا کی قیادت کرنے کے لیے عالمی سرخیوں میں آگئے ہیں۔ اس تقریب میں شرکاء کی تعداد 50000سے تجاوز کر رہی ہے کیونکہ جموں و کشمیر کے 20اضلاع کو عملی طور پر جوڑا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہر ضلع سے کم از کم 2000 شرکاء کے ایک اجتماع کے وزیر اعظم کے ساتھ یوگا سیشن میں شامل ہونے کی امید ہے۔ 2024کا تھیم ’’یوگا فار سیلف اینڈ سوسائٹی‘‘ ہے اور نو سال قبل ایک عالمی ایونٹ کے طور پر شروع ہونے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا دسواں یوگا سیشن ہے۔

پچھلے سال، وزیر اعظم نریندر مودی نے 21جون کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بین الاقوامی یوگا دن کی تقریبات کی قیادت کی، تقریبات میں 180ممالک سے سفارت کار، ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات، رہنما، فنکار، اہم ثقافتی شخصیات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی نے 2014میں بھارت کے وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہونے کے بعد، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں یوگا – قدیم ہندوستانی روایت۔کو بنی نوع انسان کے لیے ایک انمول تحفہ قرار دیتے ہوئے یوگا کے بین الاقوامی دن کے بطور اپنانے پر زور دیا۔ اور اس تجویز کو عالمی سطح پر بھرپور ہمایت حاصل ہوئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 21جون کو بین الاقوامی یوگا دن کے طور پر منانے کا اعلان کرنا بھی مودی حکومت کی اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

یوگا :صحت مند زندگی گزارنے کا ایک فن اور سائنس:۔
بھارت میں شروع ہونے والا، یوگا بنی نوع انسان کے لیے جانا جاتا قدیم ترین علوم میں سے ایک ہے، جو 5ہزار سال اور ممکنہ طور پر 10ہزار سال پرانا ہے۔ رگ وید کے متون کے مطابق اس کی جڑیں شمالی بھارت میں قدیم سندھ-سرسوتی تہذیب سے جا ملتی ہیں۔

’یوگا‘ کی اصطلاح سنسکرت کی جڑ ’وائی یو جے‘ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ’شامل ہونا‘ یا ’شریک ہونا‘ یا ’اتحاد‘ ہے۔ یوگا ایک ایسا عمل ہے جس میں بے پناہ حکمت پائی جاتی ہے۔ یہ ہمیں اپنے انفرادی شعور کو آفاقی شعور سے جوڑنا سکھاتا ہے، ہمارے ذہن، جسم اور اپنے اردگرد کی دنیا کے درمیان ایک خوبصورت ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ اس کا مقصد ہمیں اپنی حقیقی ذات کا ادراک کرنے اور خود کی دریافت کے سفر پر گامزن ہونے میں مدد کرنا ہے۔
نریندر مودی کی غیر معمولی پہل:۔

عصر حاضر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے یوگا کو فروغ دینے اور اسے عالمی سطح پر مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2014میں 21جون کو یوگا کا عالمی دن قرار دیا، اور اس تسلیم کا مقصد یوگا کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور دنیا بھر میں اس کی مشق کو فروغ دینا تھا۔ دوسری جانب، دنیا بھر میں منایا جانے والا یوگا دن آنے والی تمام نسلوں کے لیے مودی کی قیادت والی حکومت کی بیرون ملک کامیابیوں اور بھارت کی عالمی ساخت کو فروغ دینے کے سلسلے میں مجموعی اقدامات کے بارے میں ایک مستقل یاد دہانی کے طور پر باقی رہے گا۔
آج کے روز، 2014کے بعد سے، ہر سال 21جون کو دُنیا بین القوامی یوگا ڈے منانے، یوگا کی مشق کو قبول کرنے اور اسے فروغ دینے کے لئے اور عالمی سطح پر یکساں طور پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہم آہنگی، توازن اور فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے اس کی صلاحیت کو تلاش کرنے کے لیے اکٹھی ہوتی ہے۔ اس تاریخ کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ موسم گرما کے سالسٹیس (جب سورج خط استوار سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتا ہے) کے ساتھ ملتی ہے، جو شمالی نصف کرہ میں سال کا طویل ترین دن ہوتا ہے۔ موسم گرما کا سولسٹیس اندھیرے سے روشنی کی طرف منتقلی کی علامت ہے، جو اس تبدیلی کے سفر کی آئینہ دار ہے جسے یوگا کسی شخص کی زندگی میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

جموں و کشمیر میں یوگا:۔

چونکہ وزیر اعظم نریندر مودی بذات خود سرینگر میں یوگا ڈے کے 10ویں سیشن کی قیادت کر رہے ہیں، اس لیے جموں و کشمیر یو ٹی میں اس دن کا جشن مثالی ہوگا کیونکہ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس موقع کو جوش و خروش سے منانے کے لیے جمع ہوں گے۔ تاہم، طویل عرصے سے عدم استحکام اور سست طرز زندگی، جنہوں نے اس پورے خطے کو متاثر کیا ہے، پر غور و خوض کرتے ہوئے یہ لازمی ہے کہ ہمیں سالانہ جشن سے آگے بڑھنا چاہئے۔ کشمیر، بہت سی دوسری جگہوں کی طرح ہی بے چینی، تناو، اعصابی عوارض اور دیگر بیماریوں کا سامنا کرتا ہے، جس کی وجہ سے یوگا کو سکولوں میں خاص طور پر روزانہ کے نصاب میں شامل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

ان چیلنجوں کو مہارت کے ساتھ حل کرنے کے لیے، اسکولوں میں یوگا کو لازمی مضمون بنانا ضروری ہے۔ یوگا کو بچوں کے روزمرہ کے معمولات میں شامل کرنے سے ان کی جامع تندرستی کے لیے بے شمار فائدے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اسے یوگا ڈے پر منانے کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی متعارف کرایا جانا چاہیے۔
مزید برآں، ان علاقوں میں جہاں منشیات کا خطرہ ہے، اس لعنت سے نمٹنے کے لیے مفت یوگا مراکز قائم کیے جانے چاہئے۔ کمیونٹی کی شمولیت اور یوگا کے مزید مراکز کے قیام کی حوصلہ افزائی کے لیے، ایسے مراکز کھولنے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو مراعات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس نقطہ نظر سے مقامی آبادی میں مالکانہ اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے میں مدد ملے گی، جس سے معاشرے کی مجموعی فلاح و بہبود میں مدد ملے گی۔

ان اقدامات کو نافذ کرنے سے، یوگا منشیات کی لعنت سے لڑنے، جسمانی اور ذہنی تندرستی کو فروغ دینے اور کشمیر میں ایک صحت مند اور بھرپور ہم آہنگ معاشرے کو فروغ دینے میں ایک طاقتور ذریعہ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

کشمیر میں یوگا مراکز کو فروغ دینا کشمیر کے لوگوں کے لیے بامروت اور قیمتی تحفہ ہو گا، جو انہیں درپیش چیلنجوں کے درمیان ایک صحت مند اور بھرپور زندگی گزارنے کے لیے بااختیار بنائے گا۔
دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی کے الفاظ میں، یوگا ایک منتر کے طور بھارت کے ہر شہری کے لیے خاص طور پر جاری آزادی کا امرت کال میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا، ’’یوگا کے ذریعے، ہم بے لوث عمل کو جانتے ہیں، ہم کرما سے کرمایوگا تک کا سفر طے کرتے ہیں۔‘‘ اُن کے مطابق یہ یوگا ہے، جو 2047تک ایک ترقی یافتہ بھارت بنانے کے لیے درکار جسمانی طاقت اور ذہنی وسعت کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
( مصنفہ ایک آزاد قلمکار ہیں۔مضمون بشکریہ پی آئی بی سرینگر)