یوکرین میں پھنسے طلبا کے والدین کا جموں میں احتجاج

جموں//یوکرین میں پھنسے طلبا کے والدین نے بدھ کے روز جموںپریس کلب کے باہر جمع ہو کر اپنے بچوں کی فوری وطن واپسی کا پر زور مطالبہ کیا۔احتجاجی والدین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے جن پر ‘ہمارے بچوں کو بچاؤ’ جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے ۔اس موقع پر ایک احتجاجی نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارے بچے یوکرین میں بہت پریشان ہیں ہماری سرکار سے گذارش ہے جتنا جلدی ہوسکے ان کو واپس وطن لائیں۔انہوں نے کہا’’میں نے یوکرین میں پھنسی اپنی بھانجی سے بات کی تو اس نے کہا کہ انہیں کھانے پینے کی کافی قلت ہے اور ان کو دن میں صرف ایک بار کھانا دیا جاتا ہے اور پینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’ہمارے بچے وہاں گھبرائے ہوئے ہیں ان کو روسی فوج نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور وہ وہاں محفوظ نہیں ہیں‘‘۔ایک اور احتجاجی نے کہا کہ میرا بیٹا وہاں ایم بی بی ایس کی ڈگری کر رہا تھا ان کو سرحد کی طرف جانے کا کوئی موقع نہیں ہے ۔انہوں نے سرکار سے اپیل کی ان کے بچوں کو جتنا جلد ممکن ہوسکے وطن واپس لایا جائے ۔ادھر سرکاری ذرائع کے مطابق ضلع اودھم پور سے تعلق رکھنے والے دو طلبا منگل کے روز یوکرین سے صحیح سلامت اپنے گھرواپس لوٹے ۔بتادیں کہ جموں وکشمیر انتظامیہ یوکرین پھنسے طلبا کی وطن واپسی کے لئے کوشاں ہے ۔یو این آئی
 
 

حکومت یوکرین میں پھنسے طلباء کو بچائے:کانگریس

جموں//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت ہند کسی بھی قسم کی مدد کرنے میں ناکام رہی ہے اور جنگ زدہ یوکرین سے طلباء کو بچانے اور نکالنے کے لئے بروقت قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے جیسا کہ جموں خطہ کے دو طلبا نے انکشاف کیا تھا جو اپنے انتظامات اور خرچ پر واپس آئے۔پردیش کانگریس نے کہا کہ ادھم پور کی دو نوجوان لڑکیوں کے میڈیا میں انکشافات نے جنگ زدہ علاقے یوکرین میں پھنسے ہوئے طلبا اور ہندوستانی شہریوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے حکومت کے کھوکھلے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جن کی تعداد تقریباً 20,000 بتائی گئی ہے جن میں جموں و کشمیر کے تقریباً 200 طلباء شامل ہیں۔ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے کھوکھلے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں، اس حقیقت کے پیش نظر کہ طالب علم جو اپنی کوششوں اور اخراجات پر واپس آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔شرما نے کہا"یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستانی پروازیں پریشان ہندوستانی لوگوں سے غیر ملکی پروازوں سے زیادہ چارج کر رہی تھیں۔ جو لوگ ادائیگی اور انتظام کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ آ سکتے ہیں لیکن بہت سے دوسرے جنگی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں، موت کا سامنا ہے"۔انہوں نے مزید کہا کہ "یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان، خاص طور پر بی جے پی لیڈر میڈیا میں بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں تاکہ وہاں کے اپنے شہریوں کی اصل حالت کے بارے میں ہم وطنوں کو گمراہ کیا جا سکے۔ یہ بھی نوٹس میں آیا ہے کہ یو پی اے حکومت نے ایسے حالات کے لیے ICWF کے تحت کروڑوں روپے کا خصوصی فنڈ تشکیل دیا تھا لیکن طلباء اور دیگر کو بچانے کے لیے بھاری کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔پھنسے ہوئے شہریوں اور طلباء اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس نے حکومت سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ وہ جنگی بنیادوں پر جموں و کشمیر سے ہندوستانی شہریوں کو بچائے۔