یوکرینی علاقوں میں روسی ریفرنڈم کا شاخسانہ امریکہ نے روس پر نئی پابندیاں لگا دیں

واشنگٹن//امریکی وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرین کے چار علاقوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے اپنا حصہ بنانے کیلئے کرائے ریفرنڈم کو ہم نہیں مانتے اور اس روسی اقدام کے باعث روس کیخلاف مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم دھوکہ بازی کے ساتھ یوکرینی علاقوں کو روس میں شامل کرنے والے پیوٹن کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔واضح رہے روسی صدر نے یوکرین علاقوں کو روس کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے،اس روسی اقدام کے خلاف امریکہ نے خبردار کیا کہ یہ پابندیاں روس سے باہر بھی ہر اس شخص پر بھی ہوں گی جو روس کو اس سلسلے میں تعاون فراہم کریگا اور سیاسی یا معاشی مدد دیگا۔امریکی وزارت خزانہ کے اعلان میں کہا گیاکہ ان پابندیوں کا اطلاق روسی فوجی صنعتی کے 14 افراد، ان کے اہل خندان اور سینئر روسی حکام پر ہوگا، روسی قانون ساز ادارے کے 278 ارکان پر یہ پابندیاں عائد ہوں گی، نیز روسی مالیاتی شعبے کی تین اہم شخصیات ان کی پابندیوں کا نشانہ بنیں گے۔یہ زور دیکر امریکی وزیر خزانہ جنیٹ ییلن کی طرف سے کہا گیا کہ ہم پوتن کے فراڈ کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے جس نے یوکرین کے علاقوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے،اس لیے ہم روسی فوجی صنعت کو مزید کمزور کرنے کیلئے یہ اعلان کر رہے ہیں، امریکی وزارت خزانہ کے ذیلی شعبے جو غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کا ذمہ دار ہے ،روسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 278 ارکان کو بھی ان پابندیوں کی زد میں لانے کا اعلان کیا ، ان میں ڈوما کہ 109ارکان جبکہ فیڈرل کونسل کے 169ارکان بھی شامل ہیں۔اسی روسی سنٹرل بنک کے گورنر پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔علاوہ ازیں امریکی پابندیوں کی اس تازہ قسط کی زد میں چینی کمپنی بھی آئی ہے۔امریکی حکام نے کہا کہ چینی کمپنی روس کی دفاعی صنعت کی مدد کر رہی تھی حالانکہ امریکہ نے اس پر پابندیاں کر رکھی ہیں، روسی نائب وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے علاوہ روسی قومی سلامتی کونسل کے حکام پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔وزارت خزانہ نے روس کے خلاف نئی پابندیوں کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ امریکی اتحادی امریکی پابندیوں کا شکار ہونے والے روسی افراد اور اداروں کے خلاف فوری اور موثر اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔