یونیورسٹی کے مسلم اساتذہ سے

ہندوستانمیں دار الترجمہ حیدرآباد کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس نے مختلف علوم و فنون کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا اور اردو زبان کی دولت میں اضافہ کیا۔ زبان و ادب کے اساتذہ کو ترجمہ کی اہمیت کا احساس ہونا چاہئے اور انہیں ان موضوعات کو اختیار کرنا چاہئے جس سے ہندوستانی اور اسلامی تہذیب کے وقار میں اضافہ ہو ورنہ محض کیریئر کے لئے یا زرکشی، زرگری کے لئے یا انٹرویو میں اپنا پبلیشڈ ورک دکھانے کے لئے کچھ الٹے سیدھے کام کرلینا اور انہیں چھپاکر رکھنا صلاحیتوں کا زیاں ہے اور تعلیم کے مقدس پیشہ کے ساتھ بے وفائی ہے۔ یونیورسیٹی کے مسلم استاد کے شایان شان کام کوئی دینی مدرسہ قائم کرنابھی نہیں ہے اور نہ مسجد میں یا جماعت میں چلہ کشی کرنا ہے بلکہ اس ملک میںدانشورانہ سطح پر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی گرہیں کھولنا ہے یا ٹھوس دانشورانہ علمی کام انجام دینا ہے یا مسلمانوں کی ذہن سازی کرنا ہے۔قرطاس وقلم سے وابستگی عصری جامعات کے استاذ کی اولین ذمہ داری ہے ۔لکھنا ہمیشہ بہت زیادہ پڑھنے سے آتا ہے۔  یونیورسیٹی کے مسلم اساتذہ ۔الا ماشاء اللہ پڑھتے ہی نہیں ہیں، انہیں پڑھنے کی ’’ بھوک‘‘ ہی نہیں لگتی ہے، علم وادب کی غذا کی طلب ہی ان کے اندر نہیں پائی جاتی ہے ،مستثنی اشخاص کو چھوڑ کر کے یہ ایک بیمار لوگوں کی جماعت ہے ،جس شخص کی بھوک ختم ہوجائے اسے بیمار ہی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر کو معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ دنیا میں پرنٹ ورلڈ میں مختلف موضوعات پرکیسی انقلاب خیز اور زلزلہ انگیزاور معلومات افزا ء کتابیں سامنے آرہی ہیں ،کتابوں کی دکانوں پر جانے کا انہیں کوئی شوق نہیں ہوتا ہے، ان کی تنخواہ کا ایک فی صد حصہ بھی کتابوں کی خریداری پر خرچ نہیںہوتا ہے ۔ان میں بہت سے لوگ اردو اخبار تک خرید کر نہیں پڑھتے اور پوچھنے پر کہتے ہیں کہ وہ آن لائین پڑھ لیا کرتے ہیں ۔ انہیں یہ بہی احساس نہیں ہوتا ہے کہ سب لوگ اگر آن لائین اخبارات پڑھ لیا کریں گے تو اخبارت کا چھپنا تو بند ہوجائے گا۔علاوہ ازیں یہ تجربہ ہے کہ آن لائین اخبارپڑھنے میں وقت کی پابندی نہیں ہوتی ہے اورباربار ناغہ بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے حالات حاضرہ کے بارے میں مطالعہ کا تسلسل ٹوٹتا ہے ۔یہ سب باتیں اردو زبان اور ملت کے بارے میں بے حسی کی آئینہ دار ہیں۔پروفیسر حضرات کے یہاں بک کے  بجائے چک بک کا اہتمام پایاجاتاہے ،بنگلہ اور گملہ موٹر اور نوکر یا شوفر کسی چیز کی ان کے پاس کمی نہیں ہوتی ہے ۔معیار بندگی ان کا بلند ہویانہ ہو معیار زندگی ان کا ہمیشہ بلند ہوتا رہتا ہے ۔ان کی مالی سطح اتنی بلند ہوجاتی ہے کہ ستارے گرد راہ ہوتے ہیں اور علمی سطح اتنی پست ہوتی ہے کہ غبار راہ بھی  بلند ترہوتا ہے ۔کئی سال گذرجاتے ہیں، ا ن کی کوئی علمی کتاب سامنے نہیں آتی ہے۔ قرآن کریم نے قحط سالی کے سات سال کو’’ سبع عجاف ‘‘ کہا ہے، کم ازکم سات سال کے طویل وقفہ کے بعد تو ذہن کی زرخیزی اور شادابی کا کوئی ثبوت سامنے آنا چاہئے ۔ ورنہ یہ فیصلہ صادر کرنا ہوگا کہ ا ن کے فکر کی سطح بالکل بنجر اور روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہوچکی  ہے لیکن ہمارے بعض مسلم اساتذہ اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے ۔ ان کے طلسم خیال میںایوان علم وادب میں ان کے نا م کو پھر بھی باقی رہنا چاہئے اور سمیناروں میں ان کے نام دعوت نامہ آنا چاہئے ۔ہر استادپہلے لکچرر سے ریڈر اور ریڈر سے پروفیسر بننے کے لئے بیتاب اور کیریر کی ترقی کیلئے ماہی بے آب ہوتا ہے ۔ جب تک وہ لکچرر رہتا ہے صرف اس غرض سے کچھ لکھتاپڑھتا ہے کہ ریڈر کے انٹر ویو میں اسے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ’’ ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں ‘‘اور پھر اسی نیت سے وہ کچھ لکھ پڑھ لیتا ہے کہ ابھی پروفیسر بننے کا آخری مرحلہ باقی ہے ۔ پروفیسر بننے کے بعد لکھنے پڑھنے کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے ۔علم وفکر و ادب کی ثروت میں اضافہ کرنا دور دور ان اساتذہ کے حاشیہ خیال میں نہیں ہوتا ہے نہ عام طور ان کو علمی کاموں کا شوق ہوتا ہے نہ مزاج۔بعض تو ایسے اساتذہ بھی ہوتے ہیں جواپنا  پبلیشڈ ورک  بڑھانے کے لئے دوسروں سے کتابیں لکھواکر اپنے نام سے شائع کرتے ہیں اور  پس پردہ لکھنے والوں کو معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ قرآن کی آیت ’’ یریدون أن یحمدوا بما لم یفعلوا ‘‘ کی مجسم تصویر ۔اگر کئی ایک مسلم اساتذہ کی یہ ساری تصویر درست سمجھی جائے تو بہت شر مناک بات ہے۔ عربی کے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی علمی ذمہ داریوں کو ادا کریں اوران کی تصویر پر لگے ہوئے سیاہ دھبوں کو مٹائیں۔عام طور پر یونیورسیٹی کے اساتذہ سمینار یا اور کسی موقع پر آپس ملتے ہیں تو ان کی گفتگو کا موضوع کوئی کتاب نہیں ہوتی ہے وہ کئی علمی مسئلہ پر  یاکسی تحریریا نظریہ کے بارے میںتبادلہ خیال نہیں کرتے ہیں ،وہ نئے آنے والے اسکیل پر یا نئے انکریمنٹ کے بارے میں باتیں کریں گے یا کسی بدعنوانی کی افواہ کوموضوع گفتگو بنائیں گے ،اس سے ان اساتذہ کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔کیا فرق ہے ان اساتذہ میں اور اس موچی میں جو شام کو پائی پائی کا حساب کرتا ہے پھر مسرور ہوتا ہے یا مغموم ہوجاتا ہے ؟ دونوں کا ذہن مالیات اور اقتصادیات میں الجھا رہتا ہے ۔تنخواہ یا اسکیل کے بارے میں کبھی کبھار گفتگو میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ہمیشہ یہی باتیں ہوں علمی مسائل افکار و نظریات موضوع گفتگو کبھی نہ بنیں، یہ قابل اعتراض بات ہے۔ ایک اچھا دانشوریا پروفیسر تنخواہ اور اسکیل یااپنے شعبہ کی سیاست وغیرہ کے بارے میںزیادہ بات چیت کرتے ہوئے ویسے ہی شرماتا ہے جیسے دیندار ، پرہیزگار،عبادت گذار مسلمان عشق مجازی  یا جنس کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے شرماتا ہے اور پسینہ پسینہ ہوجاتا ہے ۔انسان کی گفتگو اس بات کی آئینہ دار ہوتی ہے کہ اس کے دماغ میں کیا بھرا ہوا ہے اور اس کی ذہنی سطح کیا ہے ۔
عصری جامعات کے اساتذہ میں شوق علم کیوںختم ہوگیا ہے اور ان کا نشتر تحقیق اب کیوں کند ہوگیاہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے اب زندہ آئیڈیل باقی نہیں رہ گئے ہیں اور اہل علم اور اہل ادب کی صحبت میسر نہیں ۔ اچھا اسکالر اور اچھادانشور بننے کے لئے اجھے اسکالر اور اچھے دانشور کی صحبت ضروری ہے ۔ علم کی دنیا میں ہمیشہ چراغ سے چراغ جلتاہے ،علم کے ذوق کے لئے زندگی کے ساز کو ایک اچھے اسکالر کے مضراب حیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک باکمال شخص کی حیات بخش شبنم سے بہت سے اساتذہ اور طلبہ کا غنچہ حیات شگفتہ ہوتا ہے ۔ اگر یونیورسیٹی کے اساتذہ ہر وقت اسمارٹ فون پر سوشل میڈیا کے سمندر میں شناوری کرتے رہیں گے تو نہ وہ خود صاحب کمال بن سکتے ہیں نہ اپنے طلبہ کو باکمال بنا سکتے ہیں ۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے مفاسد بھی بہت ہیں اور ان کی اہمیت بھی اپنی جگہ پر ہے ،علم کا کوئی شعبہ ہو اس کے بارے میں ’’گوگل ‘‘فوراًعلاء الدین کے چراغ کی طرح معلومات لے کر حاضر ہوجاتا ہے لیکن اس چراغ سے استفادہ کتابوں اور کتاب خانوں سے استفادہ کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے اچھے اور مثالی استاد سے رابطہ ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے ۔ مثالی استاد کے فقدان کی تلاقی ایک حد تک صرف کتابوں کے ذریعہ ممکن ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے قریب کے زمانہ کے محققین اور مفکرین کی کتابیں مسلسل پڑھتے رہیں ۔ مثال کے طور پرعربی اور اردو اور اسلامک اسٹڈیز کے اساتذہ اگر ڈاکٹرمحمد حمید اللہ کی کتابیں پڑھیں جن کا انتقال چند سال پہلے ۹۴ سال کی عمر میں امریکا میں ہوا تو ان کے سامنے ایک آئیڈیل رہے گا ۔ایک مثالی صورت سامنے رہے گی ۔ڈاکٹر حمید اللہ نے قرآن وحدیث فقہ وقانون اسلام وبین الاقوامی قانون سیرت اور تاریخ کو موضوع بحث بنایا تھا ۔ ڈاکٹر حمید اللہ پر پروفیسر عبد الرحمن مومن کی کتاب منظر عام پر آچکی ہے اوران پرراقم الحروف کا مرتب کرہ ہ مجموعہ مضامین انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈیز کی طرف سے زیر اشاعت ہے ۔ڈاکٹر حمید اللہ ہی کی طرح ایک بلند معیار کے محقق فؤاد سیزگین کا بھی چند روز پہلے  ۹۴ ؍ سال کی عمر میں استنبول ترکی میں انتقال ہوا ۔وہ بھی بہت بڑے ممتاز مورخ اور دانشور تھے ،وہ بھی ڈاکٹر حمید اللہ کی طرح کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور مسلسل ۱۷ ؍گھنٹے مطالعہ اور تحقیق میں مصروف رہا کرتے تھے ، جس طرح ڈاکٹر حمید اللہ حیدراباد چھوڑ کر فرانس چلے گئے تھے ،اسی طرح  ڈاکٹر فؤاد سیزگین کوفوجی انقلاب کی وجہ سے استنبول چھوڑ کر جرمنی میں قبام کرنا پڑا تھا ۔اور وہاں انہوں نے مصادر امام بخاری پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی ، جو بعد میں’’ دراسات حول مصادر البخاری ‘‘کے نام سے شائع ہوئی ۔دوبارہ انہوں نے جابر بن حیان پر مقابلہ لکھ کر نئے سرے سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے بھی  جرمنی اور فرانس دونوں جگہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ڈاکٹر فواد سیزگین کی مشہور کتاب تایخ التراث العربی ۱۲؍ جلدوں میں ہے اور وہ کتاب خانہ ناقص اور نا مکمل سمجھا جاتا ہے ،جہاںیہ اہم کتاب موجود نہ ہو۔ یہ کتاب اسلامی مصادر ومراجع کا سب سے بڑا ماخذ ہے ۔انہوں نے علوم اسلامیہ پر رسرچ اور تحقیق کا سب سے بڑا ادارہ استنبول میں قائم کیا تھا اور بھی مصنفین ہیں جن کی کتابیں علم کا ذوق پیدا کرتی ہیں ۔ اگر اہل علم کی صحبت میسر نہیں تووقیع اور فکر انگیز کتابیں ان کا بدل بن سکتی ہیں۔
تحریر کا اصل موضوع تھا ہندوستان کے موجودہ حالات اور یونیورسیٹی کے مسلم اساتذہ کی ذمہ دریاں اور یہ کہ کشتی جو بھنور میں پھنس گئ ہے، اسے کیسے ڈوبنے سے بچایا جائے ۔ اسی ذیل میں اساتذہ کا ذکر آگیا جن پڑ الطاف حسن حالی کا یہ مصرعہ صادق آتا ہے : ’’ پڑے سوتے ہیں بے خبر اہل کشتی ‘‘ ۔یونیورسیٹی کے مسلم اساتذہ کا یہ منظر نامہ جو اس مضمون میںپیش کیا گیا ہے اگر چہ مایوس کن ہے لیکن شاید یہ تحریر کچھ اساتذہ کے لئے ہمت افزا اور شوق انگیز بن جائے اور ان کے دل میں اپنے مقام ومرتبہ کا احساس پیدا ہوجائے اوران کے اندر اپنے پیشہ کے ساتھ وفاداری اور پاس داری اور ذمہ داری کا جذبہ ابھر آئے کہ یہی مقصود و مطلوب ہے ۔ مضمون میں جس اہم ترین کام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ نہ سہی زیادہ تر اساتذہ اپنے عہدہ کا حق بھی ادا نہیں کرتے ہیں، لکھنے پڑھنے سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں ،وہ اس گائے کے مانند ہیں جو نہ دودھ دیتی ہے نہ بچہ دیتی ہے ۔ شعبہ عربی کے بھی دو تین ہی ایسے مسلم اساتذہ ہیں جوم اس عموم سے ستثنی ہیں ۔دہلی یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے پروفیسر محمد نعمان خان نے قدیم ہندوستانی تاریخ پر ایک کتاب کا انگریزی سے عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ جے این یو کے پروفیسر احسان الرحمن نے بعض ہندوستانی کہانیوںکے عربی ترجمے کئے،پروفیسر ثناء اللہ ندوی نے بلند معیار کے علمی کام کئے ہیں،ڈاکٹر مظفر عالم نے ہندوستان میں غیر مسلموں کی عربی خدمات پر انگریزی میں اچھی کتاب لکھی ۔ ایک دونام مشکل سے اور لئے جاسکتے ہیں، لیکن یہ کام اتنے کم ہیں کہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔عام طور پرمسلم اساتذہ پر علمی مردنی چھائی رہتی ہے ۔شعبہ عربی کودیکھئے  وہاں زندگی سے اور حالات حاضرہ سے کوئی تعلق نظر نہیں آئے گا ،نہ ان کواس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری کا کوئی احساس ہوگا ۔ایسا لگتا ہے کہ بستی میں آگ لگ چکی ہے اور یہ حضرات کسی درخت یا دیوار کے سایہ میں آرام کرہے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے لئے بھی جو موضوعات  اختیارکئے جاتے ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ فکر کے سوتے خشک ہوچکے ہیںمثلاکوئی ہندوستان میں بیٹھ کر طہٰ حسین پر یا نجیب محفوظ پر عربی میں مقالہ لکھے تواسے حماقت کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ اب کسی یونیورسیٹی سے جوئے حیات ابلتی نہیں ہے ،نہ کہیں دردوسوز ہے ،نہ بحر کی موجوں میں اضطراب ہے ،کہیں علم کا ساز نہ ادب کی آواز ،نہ کوئی خیال نو، نہ جرأت اندیشہ نہ ترقی وتعمیر کا منصوبہ، نہ عزم وارادہ ،نہ کوئی منزل نہ کوئی جادہ ۔بعض اساتذہ کی شخصیت حیوان ناطق کے بجائے حیوان کاسب ( کمانے والا جانور)کی مصداق بن گئی ہے ۔بعض اساتذہ تو معمولی درجہ کے غیر علمی کاروباری نوعیت کے ترجمہ کے کاموں کے لئے زندگی وقف کردیتے ہیں اور ’’کون بنے گاکروڑ پتی‘‘ کی ریس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ انہیں اقبال کے الفاظ میں یہ کہنے کا جی چاہتا ہے    ؎
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
