یونیسکو کے تخلیقی شہروں میں سرینگر کی شمولیت

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر و سابق ممبر اسمبلی عیدگاہ مبارک گل نے کہا ہے کہ شہر سرینگر میں تعمیر و ترقی کے دعوے صرف ذرائع ابلاغ اور کاغذوں تک ہی محدود ہے جبکہ زمینی سطح پر یہاں گذشتہ کئی برسوں سے برائے نام تعمیر و ترقی کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ بلاک عیدگاہ میںایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مبارک گل نے کہاکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ نئے پروجیکٹوں تو دور کی بات یہاں سابق حکومتوں کے دوران شروع کئے گئے پروجیکٹوں پر کام سست روی کا شکار ہے یا پھر مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ انہوںنے کہاکہ سڑکوں کی کشادگی سے لیکر ہسپتالوں کی تعمیر تک اور نئے ڈرینج سسٹم سے لیکر سکولوں اور کالجو ں کی تعمیر تک تمام پروجیکٹ سالہاسال سے پائے تکمیل کو نہیں پہنچ رہے ہیں۔ مبارک گل نے کہا کہ شہری آبادی اس وقت گوناگوں مشکلات سے دوچار ہے، بجلی کی بدترین سپلائی پوزیشن ، پینے کے پانی کی قلت، سڑکوں اور گلی کوچوں کی خستہ حالی اور صحت و صفائی کے فقدان سے لوگ پریشانِ حال ہیں۔ حکمرانوں کی غفلت شعاری ، نااہلی اور غیر سنجیدگی سے شہری آبادی کا قافیہ حیات تنگ ہوگیا ہے۔ مبارک گل نے کہاکہ شہر سرینگر کو یونیسکو کے تخلیقی شہروں کی فہرست میں دستکاریوں اور آرٹ کے زمرے میں منتخب کیا گیا ہے لیکن یہاں کے دستکاروں اور دیگر ہنرمندوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے۔ جی ایس ٹی اور 5اگست2019کے بعد مسلسل لاک ڈائون سے یہ طبقہ نانِ شبینہ کا محتاج بن گیا ہے۔ اس طبقہ سے وابستہ بیشتر لوگوں نے دستکاری کو خیر باد کہہ کر مزدوری اور دیگر کاموں کا رُخ اختیار کردیا ہے۔ گل نے کہاکہ شہر سرینگر کو یونیسکو کے تخلیقی شہروں میں شامل تو کیا گیا ہے لیکن یہ کامیابی اُس وقت کے بے معنی ہے جب تک نہ یہاں کے دستکاروں اور ہنرمندوں کی زندگیاں بہتر بنانے کیلئے ٹھو س اور کارگر اقدامات اُٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی شہر سرینگر کی دستکاری اور آرٹ کے فروغ کے تئیں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے دستکاروں اور ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اُن کے قرضے معاف کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سابق عوامی حکومتوں کے دوران کمیونٹی ہال اور دیگر عمارتیں لوگوں کی راحت رسانی کیلئے بنائی گئی تھیں لیکن موجودہ انتظامیہ نے ان عمارتوں کو فورسز کی تحویل میں دے دیا۔ ایک طرف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر عوام دوست اقدامات کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ زمینی سطح پر حکومت کا ہر ایک اقدام عوام کُش ثابت ہورہاہے۔اس کے علاوہ اجلاس میں پارٹی سرگرمیوں، پارٹی پروگراموں اور لوگوں کے مسائل و مشکلات کے بارے میں بھی تبادلہ خیالات کیاگیا۔