یوم تقدس۔۔۔ جدوجہد آزادی کو عالمی ایجنڈے سے نتھی کرنیکی کوشش ناقابل قبول

سرینگر// کشمیر کی جدوجہد کو خالصتاًمقامی قرار دیتے ہوئے سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اسے عالمی ایجنڈے کے ساتھ جوڑنے کو نا قابل قبول قرار دیا،جبکہ واضح کیا کہ جدوجہد کو یر غمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی شکایت اور تجاویز کیلئے مزاحمتی لیڈروں کے گھروں و دفاتر کے دروازے کھلے ہیں۔مذہبی و مزاحمتی لیڈروں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا سہ فریقی مذاکراتی عمل سے حل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ پوری کشمیری قوم اپنے وجود اور بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔ جامع مسجد سرینگر کی ایک ہفتہ قبل’ بے حرمتی‘ کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت نے جمعہ کو یوم تقدس کی کال دی تھی،جس کے نتیجے میںشہر خاص میں واقع جامع مسجد میں مزاحمتی اور مذہبی جماعتوں کے لیڈروں نے مشترکہ طور نماز جمعہ ادا کی،جس کے دوران جامع مسجد کی بے حرمتی اور تقدس پامال کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ سرد موسم اور برفباری کے باوجود ہزاروں لوگوں نے جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کی،جس کے دوران مزاحمتی و مذہبی لیڈروں نے واضح کیا کہ ایک منصوبے کے تحت جامع مسجد سرینگر کی مرکزیت کو ہدف بنایا جا رہا ہے،تاہم مرکزی جامع مسجد کی تاریخی مرکزیت اور اہمیت کو زک پہنچانے اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کی کسی بھی طرح کی کوشش کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور ان شرپسند عناصر کو الگ تھلگ کرنا قیادت اور قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔

 سید علی گیلانی

اس موقعے پر اپنے ٹیلی خطاب میں حریت(گ ) چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ جامع مسجد سرینگر میں گزشتہ جمعہ جو افسوسناک سانحہ پیش آیا وہ ہرلحاظ سے نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اُس سے صرف تحریک دشمن عناصر کو ہی فائدہ پہنچا ہے۔گیلانی نے کہا کہ ’’ جن لوگوں نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر یہ حرکت کی ہے،وہ اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا بیرون ریاست میڈیا نے اس عمل کو کشمیر کی مقامی تحریک کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کیاور’’یہی ہندوستان کو پچتا ہے‘‘۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا’’ میڈیا نے اس عمل کو کیوں اجاگر کیا؟ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی دہلی،عوام کے جذبات اور احساست کو توڑنے میں ناکام ہوچکی ہے،جبکہ ہماری تحریک ایک عوامی تحریک ہے اور واضح طور پر مقامی ہے‘‘۔ سید علی گیلانی نے کہا’’ہم اپنی تحریک آزادی کو عالمی دہشت گردی کی جماعتوں سے جوڑنے کی کوشش کوقطعی اجازت نہیں دینگے،جبکہ تحریک کشمیر کا کوئی بھی عالمی ایجنڈا نہیں ہے‘‘۔ بزرگ مزاحمتی لیڈر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کچھ لوگوں کو’’کشمیر کی تحریک کو ئی اور رنگ بالخصوص عالمی رنگ دینے کیلئے استعمال کر رہے ہیں،تاہم انکو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔سید علی گیلانی نے واضح کیا کہ گزشتہ جمعہ کو جامع مسجد سرینگر میںجو واقعہ پیش آیا اس کو’’کشمیر کی تحریک‘‘ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا’’ ہمارا دشمن تحریک سے لوگوں کو دستبردار کرنے میں ناکام ہوگیا ہے،ور وہ اب کچھ لوگوں کو وادی میں مسلکی منافرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں میں لگا ہے۔‘‘

میرواعظ عمر فاروق

 میرواعظ عمر فاروق نے یوم تقدس کے موقعہ پر جامع مسجد سرینگر میں خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد کے تقدس کا پامال کرنے کی مذمت کی۔انہوں نے کہا’’ اسلام کا لبادہ پہنے جامع مسجد کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘ میر واعظ نے کہا ’’کشمیر کی موجودہ تحریک کو کسی بھی عالمی ایجنڈے کے ساتھ منسلک کرنے کی کوئی بھی کوشش نا قابل قبول ہیں‘‘۔انہوں نے نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی عالمی ایجنڈے کا حصہ نہ بنے،بلکہ موجودہ تحریک کے ساتھ جڑ جائے۔میرواعظ نے کہا کہ قوم کو انتشار کی نذر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا’’ہمیں مختلف خانوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر کے مسلکی منافرت کے زہریلے جراثیم یہاں پھیلائے جارہے ہیں اور یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ ہماری تحریک کوئی مقامی تحریک نہیں ہے بلکہ بیرونی قوتوں کے اشاروں پر چلائی جارہی ہے ۔‘‘ انہوںنے کہا’’ تحریک میں کشمیر ی عوام روز قربانیاں پیش کررہے ہیں اور یہ سلسلہ 1947 سے برابر جاری ہے لہٰذا ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہمارا دشمن انتہائی شاطر بھی ہے اور وہ ہماری کمزوریوں اور لغزشوں کو ہمارے خلاف استعمال کرنے سے گریز نہیں کررہا ۔‘‘میرواعظ نے کہانوجوان ہی موجودہ جدوجہدکے ترجمان ہیں اور کالجوں،یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں انکی اظہار رائے پر پابندی عائد کی گئی ہے،تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’جوش میں ہوش‘‘ رکھنے کی ضرورت ہے۔میرواعظ نے کہا کہ لیڈرشپ کے دروازے نوجوانوں کیلئے کھلے ہیں،جہاں وہ اپنی تجاویز اور مشاورت سے نواز سکتے تھے۔انہوں نے کہا’’نوجوانوں کو جذبات پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے،انکا تحریک میں خیر مقدم کیا جائے گا اور مزاحمتی لیڈرشپ انہیں بھر پور نمائندگی دینے کی کوشش کرے گی،جبکہ مزاحمتی لیڈرشپ کے دفاتر اور گھروں کے دروازے انکے لئے کھلے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ نوجوان سب سے زیادہ قربانیاں پیش کر رہے ہیں،تاہم مزاحمتی لیڈرشپ بھی آرام و آسائش میں نہیں ہیں،۔بلکہ وہ بھی جیلوں میں نظر بند ہے۔حریت(ع) چیئرمین نے کہا’’ سید علی گیلانی گھر میں8برسوں سے نظر بند ہیں،محمد یاسین ملک کو ہر دوسرے دن گرفتار کیا جاتا ہے،اور مجھے بھی خانہ نظر بند رکھا جاتا ہے،جبکہ آسیہ اندرابی بیمار ہونے کے باوجود تہاڑ جیل میں ہیں اور کئی مزاحمتی لیڈران جیلوں میں نظر بند ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ مزاحمتی خیمے کو کھبی این آئی ائے کے ذریعے پریشان کیا جاتا ہے تو کھبی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے تنگ کیا جاتا ہے۔میر واعظ نے ایجنسیوں پر اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ لیڈرشپ میں اتحاد ہے اور اس کو ختم کرنے کیلئے سازشیں کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا ’’ ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری کشمیری قوم اپنے وجود اور بقا کی جنگ لڑرہی ہے ہماری خون سے سینچی تحریک ہم سے اتحاد و اتفاق کا تقاضا کرتی ہے‘‘۔ وزیر داخلہ راجناترھ سنگھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ حکومت ہند نے مزاحمتی لیڈرشپ کو غیر متعلق کرنے کی کوشش کی،اور انکا ایجنڈا واضح تھا،تاہم انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا سہ فریقی مذاکراتی عمل سے برآمد کیا جاسکتا ہے۔ حریت(ع) چیئرمین نے جامع مسجد سرینگر میں پیش آئے واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے کہا کہ جامع مسجد ہمارا مرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد سرینگر ہم سب کا روحانی اور دینی مرکز ہے اور اس کا احترام ہم سب پر لازم ہے کیونکہ اسی منبر ومحراب سے تاریخ کے ہر دور میں یہاں کے مظلوم عوام کے حقوق کی ترجمانی ہوتی رہی ہے ۔

محمد یاسین ملک

جامع مسجد سرینگر کو اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا1931ء کا خونین واقعہ ہو یا میرواعظ مولانا محمد فاروق کی شہادت اور اس کے بعد میرواعظ عمر فاروق، جامع مسجد کے منبر و محراب سے یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیا ہے اور ہر نازک مرحلے پر رواں جدوجہد آزادی کی پیشوائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر خاص کے لوگوں نے ہر وقت’’ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے‘‘،جبکہ میرواعظ کے کندھوں پر کم عمری میں ہی اہم ذمہ داریوں کا بوجھ پڑ گیا،جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا بچپن بھی نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا کہ1031میں جن لوگوں نے قربانیاں پیش کی وہ بھی نوجوان ہی تھے،اور یہ نوجوان ہی ہے جو کشمیر کی تحریک کیلئے اپنا خون پیش کر رہے ہیں۔ملک نے کہا’’اس سے بدتر اور کیا چیز ہوسکتی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے جنازوں کو کندھا دیں رہے ہیں۔‘‘ شہر خاص کو کشمیر کی تحریک کا مرکز قرار دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا ’’نوجوانوں نے ہی تحریک کو زندہ رکھا ہے،جبکہ ایک جعلی کیس( ڈی ایس پی کو مارنے) میں18بے گناہ نوجوانوں کو پھنسایا گیا،جو کہ کوٹ بلوال جیل میں نظر بند ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بشری حقوق کے ریاستی کمیشن سے اپیل کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں،تاہم انہوں نے نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ16ماہ کی بچی کو پیلٹ کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا’’ ہمیں دنیا کے سامنے خود کو مظلوم پیش کرنے کی ضرورت ہے،تاہم گزشتہ ہفتہ جیسے واقعات پیش آتے ہیں،وہ  دہلی کو جواز پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ نوجوان اس تحریک کا سرمایہ ہے کیونکہ تحریک میں اس کا لہو بہہ رہا ہے اور آئے روز نوجوانوں کے جنازے یہ قوم اٹھا رہی ہے اور تحریک کے تئیں یہاں کے نوجوان نسل کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور اگر نوجوانوںکو کوئی گلہ یا شکوہ ہے یا ان کی کوئی تجویز یا رائے ہے تو مشترکہ مزاحمتی قیادت کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں اور ہم ان کا تہہ دل سے خیر مقدم کریں گے۔اس موقعہ پر جماعت اسلامی کے ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ زاہد علی ،جمعیت اہلحدیث کے نمائندے مولانا زبیر طاہری، انجمن حمایت الاسلام کے سرپرست مولانا شوکت حسین کینگ،انجمن شرعی شیعان کے صدر آغا سید حسن کے نمائندے غلام محمد ناگو ،پیروان ولایت کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی کے علاوہ دیگر متعدددینی تنظیموں کے سربراہاں اور نمائندے شامل تھے ۔