یومِ محنت کشاں : آجر اور اجیر کے حقوق وفرائض

 رسول پاکﷺ سے اس سلسلہ میں صراحت کے ساتھ اقوال بھی منقول ہیں۔ مثلًا روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی کسی کو اجرت اور مزدوری پر رکھنا چاہے تو اسے اس کی مزدوری بتادے‘‘۔ (کنز العمال فی سنن الاقوال و افعال، بیت الافکا الدولیۃ، اردن، ۲۰۰۵ء؁، حدیث نمبر ۹۱۲۴، قط فی الافراد عن ابن مسعودؓ)۔ ایک روایت ابوسعید الخدریؓ سے اس طرح ہے : ’’ نبی کریم ﷺ نے مزدور کو کام پر لگانے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی مزدوری واضح نہ ہوجائے (یعنی اس کا تعین نہ ہو جائے)‘‘۔ (مسند احمد، دارالحدیث، قاہرہ،۱۹۹۵ء؁، حدیث نمبر ۱۱۵۰۳)۔
اس نکتہ کی تائید آثار صحابہ و تابعین سے بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی مزدور سے مزدوری کرانا چاہے تو چاہیے کہ اسے اس کی مزدوری صاف بتادے۔ اسی طرح حضرت حسنؒ بصری سے روایت ہے کہ وہ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مزدور سے اس کی مزدوری معلوم کئے بغیر کام کرائیں۔ (سنن نسائی،کتابُ الْمُزَارَعَۃِ)۔
۶۔ کام کے مطابق مزدوری پانے کا حق (Right to get wages proportionate to labour): اللہ پاک کا ارشاد ہے : (ترجمہ): ’’اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی‘‘۔ (النجم:۳۹)۔ یہ آیت گرچہ آخرت میں نیکیوں کی جزا کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے لیکن دنیاوی محنت ومزدوری کے سلسلہ میں بھی یہ ایک اہم اصول کی حیثیت رکھتی ہے یعنی مزدور کو مزدوری اس کے کام اور محنت کے مطابق ہی دی جائے۔ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے : (ترجمہ): ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کرو، یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمھیں اللہ کررہا ہے، بے شک اللہ سنتا ہے دیکھتا ہے ‘‘۔ (النسآء:۵۸)۔ یہ آیت بھی مالک اور مزدور دونوں کے لئے راہ نما ہے وہ اس طرح کہ مالک کا دیا ہوا کام مزدور کے لئے امانت ہے اور یہ اس کی ذ مہ داری ہے کہ سپرد کئے ہوئے کام کو پوری توجہ، مستعدی اور ایمانداری کے ساتھ پورا کرے اورمزدور کی محنت و مزدوری مالک کے لئے امانت ہے کہ وہ مزدور کی مزدوری بقدر کفالت، اس کی محنت، زمانہ کے حالات اور ماحول کے اعتبار سے عدل کرتے ہوئے طے کرے اور اگرکام ہوجانے کے بعد بھی آجر کو یہ محسوس ہو کہ اس کام کی مزدوری زیادہ ہونی چاہیے تھی یا مزدور ہی اس کا احساس دلائے تو آجر کو چاہیے کہ اس کا لحاظ کرتے ہوئے اسے مزدوری دے۔
اس سلسلہ میںایک اور امر کی جانب اشارہ کردینا ضروری ہے کہ مزدوری دینے میں جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ کی جائے۔ اگر ایک عورت اور ایک مرد کے کام کی نوعیت اور مقدار برابر ہو تو دونوں کو برابر مزدوری دی جائے۔ اللہ پاک نے بھی نیکیوں کی جزا میں دونوں جنس کو برابر رکھا ہے۔ ہاں اگر کام کی نوعیت اور مقدار میں فرق ہوتو آجر کو اختیار ہوگا کہ وہ کام کے مطابق عورتوں کی مزدوری طے کرے۔
۷۔ وسعت سے زیادہ کام نہ لئے جانے کا حق(Right against work beyond capacity): مزدور سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لینا چاہیے۔ قرآن میںہے: ( ترجمہ): ’’اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘۔ (البقرۃ:۲۸۶) ۔ اس آیت میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ جب اللہ نے اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ احکام کا مکلف نہیں بنایا تو اللہ کے بندوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا بوجھ نہ دیں اورمملوک کے سلسلہ میں تورسول پاک ﷺ کا حکم صراحت سے مذکور ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اس سے کوئی ایسا کا م نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہواور اگر ایسا کوئی کام اس سے لیا جائے جو اس کی طاقت سے باہر ہو تو اس کام میں خود بھی اس کی مدد کرے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتابُ الْعِتْق،  بروایت ابوذر غفاریؓ)۔ لہٰذا آزاد مزدوروں کے سلسلہ میں اس حکم کااطلاق بدرجہ اولیٰ کیا جانا چاہیے۔
۸۔ رات میںکام لینا غیر فطری عمل ہے(Night duty is unnatural):  اللہ کا ارشاد ہے: (ترجمہ): ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو اس لئے بنایا کہ وہ اس میں آرام حاصل کریں اوردن کو روشن بنایا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں‘‘۔ (النمل: ۸۶)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے: (ترجمہ): ’’ اسی نے تمھارے لئے اپنی رحمت سے دن رات مقرر کردئے تاکہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی روزی تلاش کرو، یہ اس لئے ہے تاکہ تم شکر ادا کرو‘‘۔ (القصص:۷۳)۔ ان آیات میں واضح اشارہ موجود ہے کہ رات کو اللہ نے آرام کے لئے بنایا ہے اور دن کو روزی کی تلاش کے لئے، لہٰذا راتوں میں مزدوروں کو جگا کر رکھنااور ان سے کام لینایقینا ایک غیر فطری عمل ہوگا۔ آج کی مہذب دنیا میں نائٹ ڈیوٹی معاشی نظام کا ایک ایسا حصّہ بن چکی ہے کہ اس کے خلاف سوچنا بھی اب محال ہوگیا ہے حالانکہ اس کے نقصانات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں لیکن مادّی ترقی کی ہوڑ نے انسان کی عقلوں پرایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ اسے یہ سمجھنے کی اب صلاحیت ہی نہیں رہی۔
۹۔ بلا تاخیر مزدوری پانے کا حق :(Right to get wages without delay) اس سلسلہ میں رسول پاکؐ کاحکم صراحت سے مذکور ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مزدور کو اس کی مزددوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتابُ الرُّھُوْن، بروایت عبداللہ بن عمرؓ)۔ یعنی جب مزدور اپنا کام پورا کرچکے تو اس کی مزدوری اسے فوراً دیدی جائے، اس میں ٹال مٹول اور تاخیر نہ کی جائے ۔
۱۰۔ ہر حال میں مزدوری پانے کا حق :(Right to get wages in every condition) مزدور نے اگر اپنا کام پورا کردیا ہو تو اسے ہر حال میںاپنی مزدوری پانے کا حق حاصل ہے گو کساد بازاری (Depression) یا کسی وقتی حالات کی بنا پرآجر نتیجہ کے اعتبارسے نقصان میں ہو۔ مزدور کی مزدوری نہ دینا یا کم دینا سراسر ظلم ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : (ترجمہ): ’’لوگوں کو ان (کے حق) کی چیزیںکمی سے نہ دو اور بے باکی سے زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ اس اللہ کا خوف رکھوجس نے خود تمھیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا‘‘۔ (الشعرآء:۱۸۳-۱۸۴)۔ رسول پاکؐ کاارشاد ہے: ’’ اللہ پاک فرماتا ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں جھگڑونگا، ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام اور میری قسم کے ذریعہ کوئی عہد لیااور پھر اس کو توڑ ڈالا، دوسرا وہ شخص جس نے ایک آزاد شخص کو فروخت کردیا اور اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور کو مزدوری پر لگایا اور اس سے کام لیا لیکن اس کو اس کی مزدوری نہیںدی‘‘۔( صحیح بخاری ، کتاب الاِجارۃ، بروایت ابو ہریرہؓ)۔
یہ ہے اسلام میںمزدوروں کے حقوق کا اجمالی خاکہ۔ اگر آپ مزدوروں کے حقوق کے عالمی منشور کا مطا لعہ کریں تو پائیں گے کہ اس کی بنیاد ان ہی حقوق کے اوپر ہے جو اسلام نے مزدوروں کو عطا فرمائے ہیں۔  (ختم شد)
رابطہ سابق ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ              
(موبائل: 09471867108 ، 
ای میل[email protected] )