یومِ اُردو ، اُردو زبان اورعبدالقوی محبِ اردو

بےنظیرانصار۔۔۔

بھارت اور بھارت کے تمام سرحدی ممالک براعظم کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں عالمی یوم اُردو جوش وخروش کے ساتھ منایا جارہا ہے۔تمام اُردو داں اور محبانِ اُردو، اُردو کی بقاء وفروغ کے لیے کمر کس لی ہے اور اُردو کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف تمام پلیٹ فارم (فورم) سے آواز بلند کرنے لگے ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ ’گوگل‘ نے اپنے ’ڈوڈل‘ کے ذریعے اردو ادب کی عظیم المرتبت شخصیت مرحوم پروفیسر عبدالقوی دسنوی کوخراجِ عقیدت پیش کیا۔ غالباً یہ پہلا موقع ہے جب اُردو کے کسی مشہور ادیب کو یہاں جگہ ملی ہے۔یہ ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے۔ ’گوگل‘ کا یہ قدم اُردو ادب کے لیے جہاں باعث فخر قرار دیا جا سکتا ہے وہیں یہ دیکھنا افسوسناک بھی ہے کہ اُردو ادب کا درد رکھنے والے اس سپاہی کی وفات کے کئی سال گزر جانے کے بعد بھی اُن پر کوئی ایسا کام نہیں کیا گیا جس پر اُردو والے فخر کر سکیں۔
یقینا ’گوگل‘ نے عبدالقوی دسنوی کا ’ڈوڈل‘ تیار کر اُردو ادب کو فروغ دینے کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہوگا کہ علامہ اقبال، اسداللہ خان غالب اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسی ہستیوں کے یوم پیدائش اور یوم وفات پر تو ہر سال تقریب منعقد کرتے ہیں لیکن اقبال، غالب اورابوالکلام کی حیات کے مختلف گوشوں سے روشناس کرانے والی شخصیت عبدالقوی دسنوی فراموشی کے شکار ہو رہے ہیں۔
جی ہاں! عبدالقوی دسنوی نے ’قادر نامہ غالب‘، ’بھوپال اور غالب‘ اور ’اقبال بھوپال میں‘ جیسی تصنیفات سے غالب اور اقبال کو نئی پہچان دی اور کئی کتابیں لکھ کر اُردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
معروف نقاد پدم بھوشن پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ان کے بارے میں ’کتاب نما‘ کے عبدالقوی دسنوی نمبر میں لکھا ہے کہ ’’پروفیسر عبدالقوی دسنوی فرشتہ صفت انسان تھے۔ مجسم نیکی، شرافت اور انسانیت۔وہ فنا فی الادب شخصیت تھے۔ سوائے لکھنے، پڑھنے اور اردو کی خدمت کے انھیں کسی سے سروکار نہ تھا۔‘‘اس قدر خوبیاں رکھنے والی شخصیت کو یاد کرنا صرف ’گوگل‘ کا کام نہیں ہے۔ اُردو تنظیموں اور اداروں کو بھی اس جانب غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سیمینار، ورکشاپ اور مذاکرے کے لیے صرف وہی ہستیاں رجسٹرڈ نہیں جن پر پہلے ہی کئی سیمینار، ورکشاپ اور مذاکرے ہو چکے ہیں۔
ہمیں آج بھی اُردو کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والے جنونی اور محب اُردو کی ضرورت ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ اُردو ادب گروہ بندی اور علاقہ بندی کے مرض میں مبتلا ہے۔ اُردو کی پستی و زوال پذیر ہونے کی وجوہات بھی یہی ہیں کہ اُردو داں اُردو کی بقاء وفروغ کی بات تو کرتے ہیں،لیکن اُردو کی بقاء وفروغ کے لیے دوسروں کی تعاون نہیں کرتے ہیں۔ہمیں متحد ہوکر اُردو کی بقاء کے لیے مہم چلانے، مہم سے جڑنے کی ضرورت ہے اور اُردو کے لیے کام کرنے والوں کا تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اردو ادب کی عظیم المرتبت شخصیت مرحوم پروفیسر عبدالقوی دسنوی کی خدمات سے سبق لیتے ہوئے اُردو کی بقاء وفروغ کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے کا عزم کرنے کی ضرورت ہے۔ہم سب کو مل کر اُردو کی بقاء وفروغ کے لیے تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ہی ملکی،صوبائی اورعلاقائی طور اُردو کے مسائل پر آواز بلندکرنے کی ضرورت ہے۔اُردو کے ساتھ کئے گئے ناانصافیوں،ظلم وزیادتی کے خلاف پُر امن طریقے سے اُردو کی بقاء وفروغ کی لڑائی لڑنی چاہئے۔
ذرائع کے مطابق بہت سے صوبوں میں اورخاص کر کے شمالی بھارت کے اسکولوں، کالجوں میں قائم شدہ اُردو ڈپارٹمنٹ میں اُردو سیٹوں میں کمی کی جارہی ہے یا اس کو بند کرنے کی سازشیں کی جارہی ہے۔اُردو پڑھنے والے طلبا کو نصاب کی کتابیں مہیا نہیں کرائی جارہی ہیں،جس سے طلبا دیگر زبان کو اپنانے پر مجبور ہورہے ہیں۔اسکولوں میں اُردو ٹیچروں کی تقرری،نصاب کی کتابیں اُردو میں مہیا کرانے اور اُردو اداروں کی سرکاری تعاون میں کی گئی کٹوتی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہئے۔کالجوں،یونیورسٹیوں میں اُردو ڈپارٹمنٹ قائم کرنے اورجن ریاستوں میں اُردو بورڈ تشکیل نہیں دی گئی ہے،تشکیل دینے وغیرہ وغیرہ جیسے تمام مسائل پر مرکزی وریاستی سرکاروں سے مطالبہ کرنا چاہئے۔
(بے۔نظیرانصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی)
ای۔میل [email protected]